یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے

آفتاب حسین

یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے

    گزر رہی ہے ترا انتظار کرتے ہوئے

    کلی کھلی تو اسی خوش سخن کی یاد آئی

    صبا بھی اب کے چلی سوگوار کرتے ہوئے

    ترے بدن کے گلستاں کی یاد آتی ہے

    خود اپنی ذات کے صحرا کو پار کرتے ہوئے

    یہ دل کی راہ چمکتی تھی آئنے کی طرح

    گزر گیا وہ اسے بھی غبار کرتے ہوئے

    خود اپنے ہاتھ کی ہیبت سے کانپ جاتا ہوں

    کبھی کبھی کسی دشمن پہ وار کرتے ہوئے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    یہ جبر بھی ہے بہت اختیار کرتے ہوئے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY