یہ کس کے خوف کا گلیوں میں زہر پھیل گیا

عباس تابش

یہ کس کے خوف کا گلیوں میں زہر پھیل گیا

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    یہ کس کے خوف کا گلیوں میں زہر پھیل گیا

    کہ ایک نعش کے مانند شہر پھیل گیا

    نہیں گرفت میں تا حد خاک کا منظر

    سمٹ گئیں مری بانہیں کہ دہر پھیل گیا

    تجھے قریب سمجھتے تھے گھر میں بیٹھے ہوئے

    تری تلاش میں نکلے تو شہر پھیل گیا

    میں جس طرف بھی چلا جاؤں جان سے جاؤں

    بچھڑ کے تجھ سے تو لگتا ہے دہر پھیل گیا

    مکاں مکان سے نکلا کہ جیسے بات سے بات

    مثال قصۂ ہجراں یہ شہر پھیل گیا

    بچا نہ کوئی تری دھوپ کی تمازت سے

    ترا جمال بہ انداز قہر پھیل گیا

    یہ موج موج بنی کس کی شکل سی تابشؔ

    یہ کون ڈوب کے بھی لہر لہر پھیل گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے