یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

افضال احمد سید

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

افضال احمد سید

MORE BYافضال احمد سید

    یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

    جو حشر مجھ پہ بپا ہے وہ اہتمام اس کا

    سپاہ تازہ بھی اس کی صف نگاہ سے ہے

    صفائے سینۂ شمشیر پر ہے نام اس کا

    امان خیمۂ رم خوردگاں میں باقی ہے

    کہ نا تمام ہے اک شوق قتل عام اس کا

    کتاب عمر سے سب حرف اڑ گئے میرے

    کہ مجھ اسیر کو ہونا ہے ہم کلام اس کا

    دل شکستہ کو لانا ہے رو بہ رو اس کے

    جو مجھ سے نرم ہوا کوئی بند دام اس کا

    میں اس کے ہاتھ سے کس زخم میں کمی رکھوں

    شروع ناز بھی اس کا ہے اختتام اس کا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY