یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے

ظفر اقبال

یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    یوں بھی ہوتا ہے کہ یک دم کوئی اچھا لگ جائے

    بات کچھ بھی نہ ہو اور دل میں تماشا لگ جائے

    ہم سوالات کا حل سوچ رہے ہوں ابھی تک

    اور ماتھے پہ محبت کا نتیجہ لگ جائے

    ابھی دیوار اٹھائی بھی نہ ہو دل کی طرف

    لیکن اس میں کوئی در کوئی دریچہ لگ جائے

    کیا ستم ہے کہ وہی دور رہا ہو تم سے

    اور اسی شخص پہ الزام تمہارا لگ جائے

    پوری آواز سے اک روز پکاروں تجھ کو

    اور پھر میری زباں پر ترا تالا لگ جائے

    اور تو اس کے سوا کچھ نہیں امکان کہ اب

    میرے دریا میں کہیں تیرا کنارہ لگ جائے

    میں نے اور دل نے اسی باب میں سوچا ہے کہ ہم

    کام کچھ بھی نہ کریں کوئی وظیفہ لگ جائے

    کیا تماشا ہے کہ باقی ہو سمندر کا سفر

    اور ساحل سے کسی روز سفینہ لگ جائے

    یہ بھی ممکن ہے کہ اس کار گہہ دل میں ظفرؔ

    کام کوئی کرے اور نام کسی کا لگ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY