یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

امیر امام

یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

امیر امام

MORE BYامیر امام

    یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا

    مجھ میں پوشیدہ کسی دریا کو پار اس نے کیا

    پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف

    ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا

    میں تھا اک آواز مجھ کو خامشی سے توڑ کر

    کرچیوں کو دیر تک میری شمار اس نے کیا

    دن چڑھا تو دھوپ کی مجھ کو صلیبیں دے گیا

    رات آئی تو مرے بستر کو دار اس نے کیا

    جس کو اس نے روشنی سمجھا تھا میری دھوپ تھی

    شام ہونے کا مری پھر انتظار اس نے کیا

    دیر تک بنتا رہا آنکھوں کے کرگھے پر مجھے

    بن گیا جب میں تو مجھ کو تار تار اس نے کیا

    RECITATIONS

    امیر امام

    امیر امام

    امیر امام

    یوں مرے ہونے کو مجھ پر آشکار اس نے کیا امیر امام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY