زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

عبید اللہ علیم

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے

    تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے

    انہیں غرور کہ رکھتے ہیں طاقت و کثرت

    ہمیں یہ ناز بہت ہے خدا ہمارے لیے

    تمہارے نام پہ جس آگ میں جلائے گئے

    وہ آگ پھول ہے وہ کیمیا ہمارے لیے

    بس ایک لو میں اسی لو کے گرد گھومتے ہیں

    جلا رکھا ہے جو اس نے دیا ہمارے لیے

    وہ جس پہ رات ستارے لیے اترتی ہے

    وہ ایک شخص دعا ہی دعا ہمارے لیے

    وہ نور نور دمکتا ہوا سا اک چہرا

    وہ آئینوں میں حیا ہی حیا ہمارے لیے

    درود پڑھتے ہوئے اس کی دید کو نکلیں

    تو صبح پھول بچھائے صبا ہمارے لیے

    عجیب کیفیت جذب و حال رکھتی ہے

    تمہارے شہر کی آب و ہوا ہمارے لیے

    دیئے جلائے ہوئے ساتھ ساتھ رہتی ہے

    تمہاری یاد تمہاری دعا ہمارے لیے

    زمین ہے نہ زماں نیند ہے نہ بے داری

    وہ چھاؤں چھاؤں سا اک سلسلہ ہمارے لیے

    سخن وروں میں کہیں ایک ہم بھی تھے لیکن

    سخن کا اور ہی تھا ذائقہ ہمارے لیے

    مآخذ
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 145)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY