ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

آفتاب حسین

ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

آفتاب حسین

MORE BYآفتاب حسین

    ذرا سی دیر کو چمکا تھا وہ ستارہ کہیں

    ٹھہر گیا ہے نظر میں وہی نظارہ کہیں

    کہیں کو کھینچ رہی ہے کشش زمانے کی

    بلا رہا ہے تری آنکھ کا اشارہ کہیں

    یہ لہر بہر جو ملتی ہے ہر طرف دل میں

    بدل گیا ہی نہ ہو زندگی کا دھارا کہیں

    یہ سوچ کر بھی تو اس سے نباہ ہو نہ سکا

    کسی سے ہو بھی سکا ہے مرا گزارہ کہیں

    رواں دواں رہو ہر چند آفتاب حسینؔ

    دکھائی دیتا نہیں دور تک کنارہ کہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY