زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں

امام بخش ناسخ

زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں

    جمع ہیں تیرے خریدار ترے کوچے میں

    دیکھ کر تجھ کو قدم اٹھ نہیں سکتا اپنا

    بن گئے صورت دیوار ترے کوچے میں

    پاؤں پھیلائے زمیں پر میں پڑا رہتا ہوں

    صورت سایۂ دیوار ترے کوچے میں

    گو تو ملتا نہیں پر دل کے تقاضے سے ہم

    روز ہو آتے ہیں سو بار ترے کوچے میں

    ایک ہم ہیں کہ قدم رکھ نہیں سکتے ورنہ

    اینڈتے پھرتے ہیں اغیار ترے کوچے میں

    پاسبانوں کی طرح راتوں کو بے تابی سے

    نالے کرتے ہیں ہم اے یار ترے کوچے میں

    آرزو ہے جو مروں میں تو یہیں دفن بھی ہوں

    ہے جگہ تھوڑی سی درکار ترے کوچے میں

    گر یہی ہیں ترے ابرو کے اشارے قاتل

    آج کل چلتی ہے تلوار ترے کوچے میں

    حال دل کہنے کا ناسخؔ جو نہیں پاتا بار

    پھینک جاتا ہے وہ اشعار ترے کوچے میں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    زور ہے گرمئ بازار ترے کوچے میں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY