آگرہ کے شاعر اور ادیب

کل: 54

میر تقی میر کے ہم عصر ممتاز شاعر، جنہوں نے ہندوستانی ثقافت اور تہواروں پر نظمیں لکھیں ، ہولی ، دیوالی اور دیگر موضوعات پر نظموں کے لئے مشہور

نامور مرثیہ گو شاعر،ناصر الملک نے شاعر اہل بیت کا خطاب عطا کیا۔

نام سید محمد علی شاہ، تخلص میکش۔ ۳؍مارچ ۱۹۰۲ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ درس نظامیہ کی تکمیل مدرسہ عالیہ آگرہ سے کی۔ ان کا مشغلہ تصنیف وتالیف رہا۔ ۲۵؍اپریل ۱۹۹۱ء کو آگرہ میں انتقال کرگئے۔ ان کی تصانیف اور تالیفات کے نام یہ ہیں:’مے کدہ‘، ’حرف تمنا‘(شعری مجموعے)، ’نغمہ اور اسلام‘(جواز سمع)، ’نقد اقبال‘ (تنقید)، ’شرک وتوحید‘(مذہب)، ’حضرت غوث الاعظم‘(مذہب)، ’مسائل تصوف‘(ادب)۔ ’’حرف تمنا‘‘ ،’’نقد اقبال‘‘ اور ’’مسائل تصوف‘‘ پر اترپردیش اردو اکادمی کی طرف سے انعامات ملے۔ وہ شاعر کے علاوہ نقاد اور ماہر اقبالیات وتصوف تھے۔

اردو کے پہلے عظیم شاعر جنہیں ’ خدائے سخن ‘ کہا جاتا ہے

وہ اپنے زمانے کے مشہور وکیل تھے اور ہندوستان کی تحریک آزادی میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ انڈین نیشنل کانگریس کے ایک بڑے لیڈر بھی تھے۔[8] جواہر لال نہرو ان ہی کے فرزند تھے۔

عظیم شاعر۔ عالمی ادب میں اردو کی آواز۔ خواص و عوام دونوں میں مقبول۔

سلسلہ ابوالعلائیہ کے مشہور بزرگ اور صوبہ بہار کے عظیم صوفی شاعر

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، سیکڑوں شاگردوں کے استاد

ماہر لسانیات،میر تقی میر اور میر درد کے استاد

مغلیہ سلطنت کے شہنشاہ شاہ جہاں کی صاحبزادی اور صوفی خاتون، مصنفہ و شاعرہ

ممتاز مابعد کلاسیکی شاعر ، اپنے شعر ’بڑے غورسے سن رہا تھا زمانہ ۔۔۔۔۔۔‘ کے لئے مشہور

ممتاز کلاسیکی شاعر، میرتقی میر کے ہم عصر

میر و سودا کے متنازعہ ہم عصرجو دونوں شعرا کی تنقید اور نکتہ چینی کے شکار ہوئے

کلاسیکی طرز کے معتبر شاعر ۔ سیماب اکبر آبادی کے پوتے اور تقریباً ۵۰ سال تک مشہور ادبی رسالہ شاعر کے مدیر

ممتاز ادبی صحافی اور شاعر جنھوں نے "شاعر"جیسے ادبی مجلہ کی ادارت کی