ameer khusrau ka hindavi kalam

गोपी चंद नारंग

एजुकेशनल पब्लिशिंग हाउस, दिल्ली
1992 | अन्य
  • सहयोगी

    कमाल अहमद सिद्दीक़ी

  • श्रेणियाँ

    मुहावरे / कहावत, शाइरी, सूफ़ीवाद / रहस्यवाद

  • पृष्ठ

    239

पुस्तक: परिचय

परिचय

امیر خسرو کی ہندی شاعری کو کئی معنی کر فارسی پر فوقیت حاصل ہے، اردو ہندی، ہندوستانی یا کھڑ بولی کی پہلی واضح شکل امیر خسرو کی ہندی شاعری میں ہی نظر آتی ہے۔ ان کے ہندی کلام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہندی کا کلام اتنا ہی ہے جتنا فارسی کا کلام ہے اور فارسی کا کلام ایک تحقیق کے مطابق تین لاکھ ابیات پرمشتمل ہے گویا کہ تین لاکھ کے قریب ان کے ہندی کے ابیات بھی ہیں، امیر خسرونے ہندی اور ایرانی موسیقی کی ازسرنوتدوین کی اور اسے اپنی اختراعات اور ایجادات سے مالا مال کیا۔ زیر نظر کتاب میں گوپی چند نارنگ نے نسخہ برلن کے حصول کے بعد جو حقائق پیش کیے، اس سے خسرو کے ہندوی کلام کا دائرہ وسیع ہوا ہے، محمود شیرانی کو امید ہی نہیں ہوتی ہے کہ خسرو کاہندوی سرمایہ کبھی ہاتھ بھی آسکتا ہے ، تاہم گوپی چندنا رنگ نے اشپرنگر کے نشان زد نسخہ برلن سے حاصل کرکے شائع کردیا ہے ۔ یہ وہ نسخہ ہے جس کے متعلق شمس اللہ قادری نے اشپرنگر کے حوالہ سے اپنی کتاب ’’اردوئے قدیم ‘‘میں لکھاتھا اور اس نسخہ کو اشپرنگر اپنے 1856میں اپنے وطن جرمنی لے گیے تھے، یہی وہ نسخہ ہے ، جو گوپی چند نارنگ کو1982میں سفر یورپ کے دوران برلن میں ہاتھ لگا۔ گوپی چند نارنگ نے نسخہ برلن کے حصول کے بعد جو حقائق پیش کیے ، اس سے خسرو کے ہندوی کلام کا دائرہ وسیع ہوا ہے ۔ بعید نہیں کہ مرورِزمانہ کی گردشوں سے دائرہ خسرو اور بھی وسیع ہو۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम