انجم کدہ

عزیز لکھنوی

انجمن ترقی اردو (ہند)، علی گڑھ
1959 | مزید

مصنف: تعارف

عزیز لکھنوی

عزیز لکھنوی

عزیزلکھنوی اپنے عہد میں اردو فارسی کے چند بڑے عالموں میں تصور کئے جاتے تھے ۔ ان کا نام مرزا محمد ہادی تھا ، 14  مارچ  1882 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ ان کے اسلاف شیراز سے ہندوستان آئے تھے ، پہلے کشمیر میں سکونت اختیار کی بعد میں شاہان اودھ کے دور حکومت میں لکھنؤ منتقل ہوگئے ۔ عزیز کا خاندان علم وفضل کیلئے مشہور تھا ۔ عزیزنے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ، سات برس کے تھے جب ان کے والد کا انتقال ہوگیا لیکن تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ۔ امین آباد ہائی اسکول میں اردو و فارسی پڑھائی بعد میں وہ علی محمد خاں مہاراجہ محمودآباد کے بچوں کے اتالیق مامور ہوئے اور ساری زندگی اسی سے وابستہ رہے ۔

عزیز نے مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ۔ غزل کے علاوہ نظم اور قصیدہ ان کے تخلیقی اظہار کی اہم صورتیں ہیں ۔ قصیدے میں وہ ایک امتیازی حثیت کے مالک ہیں ۔ شکوہ الفاظ ، علوتخیل ان کے قصائد کی خصوصیات ہیں ۔ شاعری میں صفی لکھنوی سے شاگردی کا شرف حاصل رہا ۔

عزیز لکھنوی کا یہ شعر اتنا مشہور ہوا کہ ایک طرح سے یہ ان کی پہچان بن گیا ۔

اپنے مرکز کی طرف مائل پرواز تھا حسن

بھولتا ہی نہیں عالم تری انگڑائی کا 


.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب