آرائش محفل

سید حیدر بخش حیدری

ابوالعلائی پریس، آگرہ
1921 | مزید
  • ذیلی عنوان

    مع تصویرات

  • معاون

    سعیدہ حمید

  • موضوعات

    قصہ / داستان

  • صفحات

    158

کتاب: تعارف

تعارف

جان گلکرسٹ نے جب فورٹ ولیم کالج کا افتتاح کیا تو اس نے بڑے پیمانے پر ترجمے کا کام شروع کرایا۔ جس کے نتیجے میں سید حیدر بخش حیدری نے حاتم طائی کے قصہ جو کہ اصلا فارسی زبان میں تھا کو "آرائش محفل" کے نام سے اردو زبان میں (1801) ترجمہ کیا اور نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اپنی طرف سے بھی اس میں کمی و بیشی کی ۔ داستان میں شہزادی کے ذریعے کئے گئے سات سوالات کے جوابات ہیں .جن کو حاتم طائی نے پورا کرنے کے لئے دور دراز کا سفر کیا ۔سوالات یہ تھے (1) ایک بار دیکھا ہے دوسری دفعہ کی ہوس ہے (2)نیکی کر اور دریا میں ڈال (3) کسی سے بدی نہ کر اگر کریگا تو وہی پاویگا (4)سچ کہنے والےکو ہمیشہ راحت ہے(5) کوہ ندا کی خبر لاوے(6)وہ موتی جو مرغابی کے انڈے برابر بالفعل موجود ہے اسکی جوڑی پیدا کرے (7) حمام بادگرد کی خبر لاوے ۔ داستان اخلاقی مطالب سے پر اور نیکی کے لئے تشویق دلاتی ہے اس کی عبارت سلیس اور داستانی ہے ،واقعات میں بہت زیادہ الجھاؤ نہیں ہے ۔ داستان اپنے وقت کی تہذیب و ثقافت گفتار و رفتار اوراپنے عہد کی عکاسی کرتی ہوئی نظر آتی ہے اردو زبان کے شائقین کے لئے آج بھی یہ کتاب افادہ و استفادہ سے خالی نہیں ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

سید حیدر بخش حیدری

سید حیدر بخش حیدری

حیدری فورٹ ولیم کالج کے مصنفوں میں سب سے زیادہ کتابوں کے مصنف و مترجم ہیں۔ نثر نگار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ شاعر بھی ہیں لیکن ان کی شہرت کا مدار نثری تصانیف پر ہی ہے۔

ان کا نام حیدر بخش اور تخلص حیدریؔ ہے۔ سید ابوالحسن کے بیٹے تھے اور دہلی کے رہنے والے تھے۔ حیدر بخش نے ابھی بچپن سے آگے قدم نہیں رکھا تھا کہ ان کے والد کو ایسی معاشی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کہ مجبوراً دہلی کی سکونت ترک کر کے اہل و عیال کے ساتھ بنارس چلے گئے۔ یہاں نواب ابراہیم خاں ناظم عدالت تھے۔ وہ اس خاندان کی مدد پر کمربستہ ہوئے۔ انہوں نے ہی حیدر بخش کی تعلیم کا بندوبست کردیا۔ بنارس کے مشہور مدرسوں میں انہوں نے مروجہ تعلیم حاصل کی تعلیم سے فارغ ہو کر دفتر عدالت میں برسرکار ہوگئے۔

ملازمت کے ساتھ مطالعے اور تصنیف و تالیف کا شوق بھی جاری رہا۔ حیدریؔ نے قصہ مہروماہ کے نام سے ایک کہانی لکھی اور اٹھارہویں صدی کے آخر میں اسے لے کر کلکتہ چلے گئے۔ وہاں گلکرسٹ کی خدمت میں باریاب ہوئے اور اپنی کتاب پیش کی جسے انہوں نے بہت پسند کیا اور منشی کی حیثیت سے حیدری کالج کے ملازمین میں داخل کر لیا۔ وہاں رہ کر انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں اور ترجمہ کیں۔ آخرکار ملازمت سے سبکدوش ہو کر بنارس واپس چلے گئے۔ وہاں 1823ء میں وفات پائی۔

شاعری کے علاوہ انہوں نے جو کتابیں لکھیں ان میں سے اہم ہیں۔ قصۂ مہروماہ، لیلیٰ مجنوں، ہفت پیکر، تاریخ نادری، گلشن ہند، طوطا کہانی، آرائش محفل اور گل مغفرت۔ ان میں سے آخری تین کتابوں نے بہت شہرت پائی۔

طوطا کہانی سید محمد قادری کی ایک فارسی کتاب کا ترجمہ ہے۔ سنسکرت کی ایک پرانی کتاب کا مولانا ضیا الدین بخشی نے فارسی میں ترجمہ کیا۔ قادری نے اس کا خلاصہ کر دیا۔ اس خلاصے کو حیدری نے اردو کا روپ دے دیا۔ یہ کتاب بہت مقبول ہوئی اور مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے ہوئے۔

آرائش محفل حاتم طائی کے فارسی قصے کا ترجمہ اور خلاصہ ہے۔ ملا حسین واعظ کاشفی کی کتاب روضہ الشہدا کا ایک ترجمہ تو فضلیؔ نے کربل کتھا کے نام سے کیا تھا۔ دوسرا ترجمہ اور خلاصہ حیدری کی آرائش محفل ہے۔ میرامن کا رجحان بول چال کی زبان اور ہندی کی طرف زیادہ ہے۔ اس کے برعکس حیدری کا جھکاؤ فارسی کی طرف ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب