بال جبریل

علامہ اقبال

شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور
1966 | مزید
  • معاون

    جامعہ ہمدردہلی

  • صفحات

    223

کتاب: تعارف

تعارف

"بالِ جبریل" علامہ اقبال کے اردو کلام کا بہترین نمونہ ہے۔اس مجموعے میں زیادہ تر اقبال کی غزلیات شامل ہیں۔ یہ غزلیات معنوی اعتبار سے غزل کے جدید ترین رنگ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ "بال جبریل"کی غزلوں میں اقبال کےاعتماد میں گہرائی اور فکر میں استحکام نظر آتا ہے۔ لفظوں کےانتخاب اورترکیب سازی میں بھی نئے شعوِر فن کی جھلک محسوس کی جاسکتی ہے۔ ان کے جذبوں کی گرمی شعروں میں ضم ہونے کے لیے بے تاب ہے۔آہنگ میں موسیقیت کا جادو شامل ہوجاتا ہےاوراس میں بلندی بھی واقع ہوجاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی نظموں میں جو فلسفہ و فکر شیر و شکر ہے اسے غزلوں سےبھی ا یک راہ مل گئی ہے۔ یہ غزلیں اپنی معنی خیزی میں نہ صرف بانگِ درا کے مقابلے میں الگ معیار کا تعیّن کرتی ہیں بلکہ عام غزلوں سے بھی ایک علیحدہ مزاج کی حامل ہیں،ہر غزل میں کوئی نہ کوئی ایسا پہلو موجود ہے جو پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔غزلوں کے علاوہ ساقی نامہ اور مسجد قرطبہ جیسی عالی شان نظمیں بھی اس مجموعہ میں شامل ہیں جو کہ اقبال کے شعری سرمائے کے بہترین نمونے ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

علامہ اقبال

نام محمداقبال، ڈاکٹر ،سر، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔ ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔
۱۹۲۲ء میں ان کی اعلا قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ ہائے کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:270

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب