باقیات جگر

مصطفیٰ راہی

سید الیکٹرک پریس، ملتان
1987 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

جگرمرادآبادی کی شاعری سوز و گداز،سرمستی و شادابی اور وجد کی ملی جلی کیفیت سے مالا مال ہے۔ انھوں نے فکر و خیال کی ہمہ گیریت اور اپنی شخصیت کی سحر انگیزی کے باعث اُردو ادب میں ایک الگ مقام قائم کیا، جگر کو"تاجدار سخن"اور "شہنشاہ تغزل" جیسے القاب سے یاد کیا گیا ہے، جگر اپنے دورکے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شعرامیں سے تھے، ان کےتین شعری مجوعے منظر عام پر آئے تھے "داغ جگر"، "شعلہ طور"اور "آتش گل" تاہم آتش گل کے بعد کوئی چھوتھا مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا تھا ، جبکہ "آتش گل" کےبعدبھی جگر نے کافی غزلیں کہیں اور مشاعروں میں پیش کی تھیں، چنانچہ مصطفیٰ راہی نے ان کے غیر،مطبوعہ کلام کو جمع کر کے"باقیات جگر"کی شکل میں پیش کیا ہے، اس کتاب میں نہ صرف"آتش گل" کے بعد والا کلام شامل ہےبلکہ، جگرکے پہلےمجموعوں میں جو کلام رہ گیا تھا، اس کلام کو بھی اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب