char kahaniyan

मिर्ज़ा फ़रहतुल्लाह बेग

अब्दुल हक़ अकादमी, हैदराबाद
1948 | अन्य
  • सहयोगी

    रेख़्ता

  • श्रेणियाँ

    हास्य-व्यंग

  • पृष्ठ

    90

पुस्तक: परिचय

परिचय

مرزا فرحت اللہ بیگ کو اردو ادب کے کامیاب مزاح نگاروں میں بلند مقام حاصل ہے وہ محقق، دانشور، انشاپرداز بھی تھے لیکن ان کی وجہ شہرت مزاح نگاری ہے- یہی ان کافن ہے اور اس فن کے اظہار کے لئے شخصیت نگاری ان کا محبوب موضوع ہے- مرزا فرحت اللہ بیگ نے جب ہوش سنبھالا تو ان کے ارد گرد انگریزی اقتدار کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔مغل تہذیب اور قدیم اقدار کے اثرات مٹ رہے تھے۔ انہوں نے مٹتے ہوئے تہذیب و تمدن کو" دہلی کا ایک یادگار مشاعرہ" جیسی تحاریر سے محفوظ رکھنے کی کوشش کی۔زیر نظر کتاب "چار کہانیاں"یہ چار غیر ملکی ایرانی، ترکی ،روسی اور جرمنی کہانیوں کا ترجمہ ہے۔ ان چاروں کہانیوں کو عبد الحق اکیڈمی حیدرآباد نے 1948ء میں کتابی شکل میں شائع کیاہے۔ ان کہانوں میں سب سے مزے کی چیر مرزا فرحت اللہ بیگ کا اسلوب خاص ہے، جس نے ان عام کہانیوں کو بہت خاص بنا دیا ہے۔

.....और पढ़िए

लेखक की अन्य पुस्तकें

पूरा देखिए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम