دہلی کے محاورے

سید ضمیر حسن

انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی
2008 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

شاہ عالم ثانی کے زمانے سے بہادر شاہ ظفر تک قلعہ میں جو زبان و بیان کے سانچے تیار ہوتے رہے انہیں پر دہلی والوں نے اکتفا کیا اور وہی زبان اس زمانے میں تقلید کا نمونہ بنی ۔ دہلی ایک عالمی شہر تھا دنیا جہاں کے لوگ بسے ہوئے تھے زبان وبیان میں پوربیا اور پنجابی لہجہ بھی تھا لیکن فصیل بند شہر یوں کا کما ل یہ تھا کہ انہوں نے کسی دسری زبان کے سانچے کو قبو ل نہ کرتے ہوئے صرف قلعہ معلی کی ہی تقلید کی ۔ چنانچہ قلعہ سے باہر مومن و غالب جیسے منفر د شاعر پیدا ہوتے رہے اور قلعہ کے اندر ذوق و ظفر سے ہوتی ہوئی قلعہ کی زبان کی روایت داغ تک پہنچ جاتی ہے ۔ ان کے بعد اس زبان کے خوشہ چینوں میں منشی فیض الدین ، ناصرنذیر فراق، ڈپٹی نذیر احمد ، فرحت اللہ بیگ ، وزیر حسن ، راشد الخیر ی ، میرناصر علی ، مرزا محمود بیگ او را س کتاب کے مصنف ہیں ۔ ان کے یہا ں دہلی کی زبان وہاں کے محاروں کے ساتھ نظرآتی ہے ۔ یہ کتاب دہلی کے محاور وں پر ہے ،اسی و جہ سے کہا جاتا ہے کہ باغ و بہار میں دہلی کی محاوراتی زبان استعمال ہوئی ہے ۔ محاورہ کا زیادہ تر تعلق خواتیں سے ہوتا ہے یعنی گھر کی زبان سے نہ کہ بازار و شہر کی زبان سے ۔ محاورات میں اس زمانے کی لفظیات اور زبان کے تہذیبی و استعاراتی استعمال کی مر وجہ صورتوں کو محفوظ رکھا جاتا ہے ۔ الغرض دہلی کے محاورے سے اس زمانے کی تخلیقات سے مکمل استفادہ کیا جاسکتا ہے جس کے لیے یہ کتاب بہت ہی مفید ہے ۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب