گنجینۂ جوہر

محمد علی جوہرؔ

محراب ادب، کراچی
| مزید

کتاب: تعارف

تعارف

"گنجینہ جوہر"مولانا محمد علی جوہر کا شعری مجموعہ ہے ،اس مجموعہ میں ان کی غزلیں اور جستہ جستہ اشعار شامل ہیں۔ان کی غزلوں میں باغیانہ تیور اور حکومت وقت کے خلاف شکایت ملتی ہے۔ بقول گوپی چند نارنگ ’محمد علی جوہر کا تو اصل کار نامہ یہی ہے کہ ان کی غزلوں میں عاشقی و آزادی دونوں مل کر ایک ہو گئے۔ ان کا ذوقِ شعری اتنا بالیدہ، لطیف اور رچا ہوا ہے کہ عام طور پر ان کے کلام پر روایتی عاشقانہ رنگ کا دھوکا ہو سکتا ہے۔ لیکن در اصل ایسا نہیں۔ عاشقانہ لے کی رمزیت کے پر دے میں وطنی لے ہے۔ جو عاشقانہ لے کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

محمد علی جوہرؔ

محمد علی جوہرؔ

جوہر، محمد علی
محمد علی نام، جوہر تخلص۔ لقب ’’رئیس الاحرار‘‘۔۱۸۷۸ء میں رام پور میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ اور لنکن کالج، آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کی۔ ریاست ہائے بڑودہ اور رام پور میں ملازم رہے۔ ترک ملازمت کے بعد کلکتہ سے ہفتہ وار’’کامریڈ‘‘ اخبار جاری کیا۔دہلی میں ’’ہمدرد‘‘ کے نام سے اردو میں بھی اخبار کا اجرا کیا۔ ۱۹۱۴ء میں برطانوی پالیسی کے خلاف لکھنے پر آپ کو نظر بند کیا گیا۔۱۹۱۹ء میں رہائی کے بعد تحریک خلافت میں حصہ لیا۔ گاندھی کی معیت میں ملک کی آزادی وتحریک خلافت کی تنظیم وتبلیغ کی غرض سے تحریک موالات میں حصہ لیا جس کی وجہ سے دوبار جیل جانا پڑا۔ ۱۹۴۳ء میں رہا ہوئے اور اسی سال کانگریس کے صدر بنائے گئے۔ بعض ہندوؤں کی ذہنیت کی وجہ سے مولانا کانگریس سے الگ ہوگئے۔مولانا گول میز کانفرس میں شرکت کے لیے لندن گئے اور وہیں ۴؍جنوری ۱۹۳۱ء کو انتقال کرگئے۔ بیت المقدس میں دفن ہوئے۔ شاعری میں داغ کے شاگرد تھے۔ دیوان ’’جوہر‘‘ شائع ہوگیا ہے۔ محمد علی جوہرؔ انگریزی زبان کے صاحب طرز انشا پرداز تھے۔ ہندوستان کی آزادی کے بہت بڑے علم بردار اور مسلمانوں کے محبوب لیڈر تھے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب