ہم قلم

شمیم احمد

طفیل احمد جمالی
1960 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

رسالہ "ہم قلم" ادارۂ مصنفین (پاکستان رائٹرز گلڈ) کا ماہنامہ ترجمان تھا جو ستمبر ۱۹۶۰ میں پہلی بار کراچی سے شائع ہوا۔ چوںکہ اس رسالے کا راست تعلق ادارۂ مصنفین سے ہے لہٰذا اس ادارے کے متعلق کچھ معلومات کا ہونا دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ ادارۂ مصفین کا بنیادی مقصد ملک کے ادیبوں کی فلاح و بہبود تھا، اس ادارے کے بانیان قدرت اللہ شہاب، ابن الحسن، ابن سعید، جمیل الدین عالی، ضمیر الدین احمد، عباس احمد، غلام عباس اور قرۃ العین حیدرتھے۔ ۳۱،۳۰،۲۹ جنوری ۱۹۵۹کو کل پاکستان رائٹرز کنونشن کراچی میں منعقد ہوئی جس کی صدارت بابائے اردو مولوی عبد الحق نے کی۔ جس میں ۲۱۲ ادیب شامل ہوئے، اور اتفاق رائے سے ادارۂ مصنفین کا قیام عمل میں آیا۔ اس ادارے کا سب سے بڑا عہدہ سیکریٹری جنرل کا ہے جس پر علی الترتیب قدرت اللہ شہاب،جمیل الدین عالی، محبوب جمال زاہدی ،محمد طفیل اور میاں سید رسول رہے۔ اس ادارے کو جنرل ایوب خان کا خصوصی تعاون حاصل رہا۔ انھوں نے باقاعدہ ادارۂ مصنفین سے خطاب کیا اور خطوط لکھے جو "ہم قلم" میں تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ جنرل ایوب خان سے تعلق کے سبب اس ادارے پر آمریت کی حمایت کا الزام لگتا رہا۔ رائٹرز گلڈ کے زیر اہتمام متعدد ادبی انعامات کا آغاز بھی ہوا جو پاکستان کے سب سے اہم ادبی انعام قرار پائے۔ ماہنامہ "ہم قلم" کی فی شمارہ قیمت دس آنے اور سالانہ چھے روپے تھی جو بعد ازاں۶۲ اور پھر ۷۵ پیسہ ہوگئی، البتہ سالانہ چندہ چھے روپیہ ہی رہا۔ علاوہ ازیں ادارے کی سالگرہ کے موقع پر خصوصی شا"رے سال گرہ نمبر کے عنوان سے شائع ہوتے جن کی قیمت ۳ روپیہ ہوتی۔ پہلے سال تو یہ رسالہ باقاعدگی سے شائع ہوا لیکن ۱۹۶۲ میں اس کی اشاعت میں خلل آنے لگا چناںچہ ۱۹۶۲ کا دوسرا اور تیسرا، نیز ساتواں اور آٹھواں شمارہ ایک ساتھ شائع ہوا۔ دھیرے دھیرے اس رسالے کی فعالیت کم ہوتی گئی اور غالباً اپریل ۱۹۶۵ کے بعد یہ رسالہ بند ہوگیا۔ ماہنامہ "ہم قلم" ادارۂ مصنفین کا ترجمان تو تھا ہی اس کے علاوہ اس رسالے کی ادبی حیثیت مسلم رہی۔ رسالے میں چھپنے والے مضامین و دیگر تخلیقات کا مصنفین کو باقاعدہ معاوضہ دیا جاتا تھا۔ رسالے کے مشمولات میں سب سے پہلے ادارے کا منشور ہوتا، بعد ازاں ابتدائیہ/خطبہ، تنقیدی مضامین، نظمیں، غزلیں، افسانے/خاکے، ثقافتی ورثے پر مضامین، ادارے کی سرگرمیوں کی خبریں و اعلانات اور ادبی نوعیت کے اشتہارات ہوتے۔ کچھ شماروں میں تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں۔ "ہم قلم" کے تحت خاص نمبر تو نہیں نکلے البتہ بیاد کے عنوان سے گوشے بنائے جاتے، جن میں کچھ مضامین ہوتے، مثلاً "بیادِ جگر" (شمارہ نمبر ۱۹۶۰،۲) "بیادِ بابائے اردو مولوی عبدالحق" (شمارہ نمبر ۱۹۶۱،۱) "الجزائر کو سلام" (شمارہ نمبر۱۹۶۲،۵) "بیادِ رفتگاں" (شمارہ نمبر ۱۹۶۲،۴) مگر ایک شمارہ (اگست،۱۹۶۲ ) ایسا ہے جو صرف بابائے اردو مولوی عبد الحق کے لیے مخصوص کیاگیا ہے۔ "ہم قلم" کی پالیسی یہ تھی کہ وہ رسالے کے معیار پر خصوصی توجہ دیتے تھے، معروف ادباء و شعراء کے علاوہ نئے لکھنے والوں کو بھی رسالے میں جگہ دی جاتی تھی۔ رسالہ ہم قلم میں چھپنے والےاہم ادباء مندرجہ ذیل ہیں۔ مولوی عبد الحق، اختر حسین رامپوری، سیماب اکبر آبادی، یوسف ظفر، شاذ تمکنت، ماہر القادری، نور بجنوری، ڈاکٹر احسن فاروقی، فیض احمد فیض، محبوب خزاں، وامق جونپوری، سلیم احمد، نشور واحدی، احمد فراز، باقر مہدی، بانو قدسیہ، حمایت علی شاعر، مشفق خواجہ، اسلم فرخی، جوش ملیح آبادی، جمیل جالبی، احمد ندیم قاسمی، مصطفیٰ زیدی، ساقی فاروقی، حفیظ ہوشیار پوری، عزیز حامد مدنی، محشر بدایونی، ظہیر کاشمیری، جمیل الدین عالی، خلیل الرحمٰن اعظمی، نگار صہبائی، قرۃ العین حیدر، آل احمد سرور، امتیاز علی عرشی، انتظار حسین، رضی اختر شوق، زبیر رضوی، حامد اللہ افسر، کرشن چندر، ناصر کاظمی، قتیل شفائی، سرور بارہ بنکوی، سلام مچھلی شہری، علی سردار جعفری، جون ایلیا، منیر نیازی، شاد عارفی اور رام لعل وغیرہ۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب