ہمایوں

تاجور نجیب آبادی, میاں بشیر احمد

مرکنٹائل پریس، لاہور
1932 | مزید
  • ذیلی عنوان

    شمارہ نمبر۔004

  • معاون

    سمن مشرا

  • موضوعات

    رساله

  • صفحات

    65

ایڈیٹر: تعارف

تاجور نجیب آبادی

 

تاجور نجیب آبادی ایک باکمال شاعر، ادیب، صحافی اور ماہر تعلیم تھے۔ انہوں نے ’ہمایوں‘ اور ’مخزن‘ جیسے اہم رسائل کے ذریعے اردو کی ادبی صحافت کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ اس کے علاوہ ’ادبی دنیا‘ اور ’شاہکار‘ جیسے رسائل جاری کئے۔ تاجور  ’اردو مرکز‘ کے نام سے تصنیف و تالیف کا ایک ادارہ بھی قائم کیا جس میں زبان وادب سے متعلق کئی اہم کام انجام پائے۔ 
تاجور 2 مئی 1894 کو نینی تال میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن نجیب آباد(یوپی) تھا۔ فارسی و عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند سے درس نظامیہ کی تکمیل کی۔ 1915 میں پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کئے۔ 1921 میں دیال سنگھ کالج لاہور میں فارسی اور اردو کے استاد کی حیثیت سے تقرر ہو 
30 جنوری 1951 کو لاہور میں انتقال ہوا۔ 

 

.....مزید پڑھئے

میاں بشیر احمد

میاں بشیر احمد ٭تحریک پاکستان کے مشہور رہنما ، شاعر اور ادیب میاں بشیر احمد 29 مارچ 1893ء کو باغبان پورہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد جسٹس میاں شاہ دین ہمایوں برصغیر کی ایک معروف علمی اور ادبی شخصیت تھے۔ میاں بشیر احمد نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کرنے کے بعد آکسفورڈ یونیورسٹی کا رخ کیا اور بی اے آنرز اور بیرسٹری کے امتحانات پاس کیے۔ وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد نے کچھ عرصے بیرسٹری کی، پھر تین برس تک اسلامیہ کالج لاہور میں اعزازی لیکچرار رہے۔ 1922ء میں انہوں نے مشہور ادبی جریدہ ہمایوں جاری کیا جو علمی متانت اور ادبی معیار کا حسین امتزاج تھا۔ یہ رسالہ 35 برس تک جاری رہا اور اس نے اردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ میاں بشیر احمد، اردو اور مسلم لیگ کے ایک جانثار کارکن تھے۔ ایک جانب وہ پنجاب میں انجمن ترقی اردو کو منظم کرتے رہے اور دوسری جانب مسلم لیگ کو مضبوط بناتے رہے۔ میاں بشیر احمد ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ 1940ء میں جس تاریخی اجلاس میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی اس اجلاس میں ان کی مشہور نظم ’’ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح‘‘ نے تمام سامعین میں ایک جوش اور ولولہ پیدا کردیا تھا۔ 1941ء میں قائداعظم کی ہدایت پر وہ پنجاب مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر رہے۔ 1942ء میں انہیں قائداعظم نے مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا رکن نامزد کیا۔ وہ 1947ء تک اس منصب پر فائز رہے۔ 1946ء کے عام انتخابات میں وہ مسلم لیگ کے ٹکٹ پر مجلس قانون ساز پنجاب کے رکن منتخب ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد 1949ء میں انہیں ترکی میں پاکستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر وہ 1952ء تک فائز رہے۔ وطن واپسی کے بعد میاں بشیر احمد اردو کی ہر ممکن خدمت انجام دیتے رہے۔ وہ پنجاب میں بابائے اردو کے سب سے بڑے رفیق اور مددگار تھے۔ انہوں نے چند کتابیں بھی مرتب کیں جن میں طلسم زندگی، کارنامہ اسلام اور مسلمانوں کا ماضی، حال اور مستقبل کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ ٭3 مارچ 1971ء کو میاں بشیر احمد وفات پاگئے۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب