ہویدا

ثمینہ راجہ

مستقبل پبلی کیشنز، اسلام آباد
1995 | مزید

مصنف: تعارف

ثمینہ راجہ

ثمینہ راجہ

ثمینہ راجا پاکستان کی شاعرہ تھی وہ بہاولپور کے ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ بارہ تیرہ برس کی عمر سے شعر گوئی کا آغاز ہوا اور جلد ہی ان کا کلام پاک و ہند کے معتبر ادبی جرائد میں شائع ہونے لگا۔ لیکن اپنے گھرانے کی روایات اور سماجی پابندیوں کے سبب ان کو شعری و ادبی محفلوں میں شرکت کے مواقع حاصل نہ ہو سکے لہذا ان کی شاعری ایک طویل عرصے تک صرف 'فنون، نقوش، اوراق ،نیا دور اورسیپ، جیسے ادبی جرائد اور سنجیدہ حلقوں تک ہی محدود رہی۔ ایک عمر کی جدوجہد اور ریاضت کے بعد بالآخر وہ اپنے فن کو لوگوں کے سامنے لانے میں کامیاب ہوئیں۔ ان کے خاندان میں مستورات کی تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا چنانچہ انہوں نے نہایت نامساعد اور نا موافق حالات میں پرائویٹ طور پر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے پاس کیا۔
١٩٩٢ میں انہوں نے "مستقبل" نام سے ایک ادبی جریدے کا اجرا کیا جو ان کے گھریلو مسائل کی وجہ سے زیادہ عرصے تک جاری نہیں رہ سکا۔ ١٩٩٨ میں ان کو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے رسالے ماہنامہ کتاب کی مدیر مقرر کیا گیا اور ١٩٩٨ ہی میں انہوں نے ادبی مجلہ آثار کی ادارت سنبھالی اور پوری اردو دنیا میں اپنی ایک پہچان وشناخت قائم کی۔ وہ کئی برس سے معروف ادبی جریدے آثار کی مدیر ہیں۔ ثمینہ راجا کا اردو شاعرات میں وہی مقام ہے جو ن ۔ م راشد کا اردو شاعروں میں۔ راشد کو شاعروں کا شاعر کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی شاعری کے مضامین، اوران کا مخصوص مفرس اسلوب عوام کی ذہنی سطح سے کافی بلند ہونے کے سبب عوام میں وہ مقبولیت حاصل نہ کر سکا جو عام فہم اسلوب کے حامل شعرا کو آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ثمینہ بھی کچے پکے نسوانی جذبات کی شاعری سے بہت بلند فضا میں پرواز کے سبب سنجیدہ قارئین تک ہی محدود رہیں۔ جناب احمد ندیم قاسمی اور جناب احمد فراز کے علاوہ بے شمار مشاہیر کی ان کے بارے میں آراء سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے منفرد موضوعات اور اسلوب کی وجہ سے اردوزبان کے نہ صرف موجودہ بلکہ آئندہ منظرنامے میں بھی نہایت اہم اور معتبر مقام رکھتی ہیں۔
1995 میں ان کا پہلا شعری مجموعہ ہویدا کے نام سے شائع ہوا۔ تب سے اب تک ان کے گیارہ مجموعے،” ہویدا “،” شہر سبا “،” اور وصال “،” خوابنائے “،” باغ شب “،” بازدید “،” ہفت آسمان “،” پری خانہ “،” عدن کے راستے پر “،” دلِ لیلٰی“ اور” عشق آبا“د شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شاعری دو ضخیم کلیات کی صورت میں بھی شائع ہو چکی ہے۔
٣٠ اکتوبر ٢٠١٢ء کو ثمینہ راجہ، اسلام آباد میں انتقال کر گئیں _

.....مزید پڑھئے

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب