اندر سبھا امانت

امانت لکھنوی

نامی پریس، لکھنؤ
1950 | مزید
  • معاون

    ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد

  • موضوعات

    ڈرامہ

  • صفحات

    82

کتاب: تعارف

تعارف

اندر سبھا کا شمار اردو کے اولین ناٹکوں میں ہوتا ہے۔ جسےامانت لکھنوی نے واجد علی شاہ کی فرمائش پر ۱۸۵۳عیسوی میں تحریر کیا۔ہندوستان میں ناٹک کا جنم ہوا،اور ناٹک کی روایت ہندوستان میں نہایت قدیم ہے۔اس زمانے میں راگ ناٹک ہندی میں تھا اور اردو کا بول بالاتھا اس لیے اس ناٹک کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ ناٹک اس زمانے کے رواج کے مطابق سیدھا سادہ اور منظوم ہے۔اس ناٹک کا پلاٹ یہ ہے کہ راجہ اندر کے دربار کی رقاصہ سبز پر ی کا دل ہندوستان کے شہزادے گلفام پر آجاتا ہے،وہ کالے دیوے سے کہہ کر اسے بلاتی ہے اور اظہارِ محبت کرتی ہے،شہزادہ اس شرط پر راضی ہوتا ہے کہ وہ اسے راجہ اندر کے دربار کی سیر کرائے،سیر کے دوران دونوں پکڑے جاتے ہیں۔ شہزادے کو قیدکیا جاتا ہے اور پری کو جلاوطن۔اب پری شہزادے کوحاصل کرنے کے لیے کیا کیا جتن کرتی ہےوہ اس ناٹک کا اہم حصہ ہے۔ یہ منظوم ڈراما 830 اشعار پر مشتمل ہے کل 8 کرداروں پر مشتمل ہے اس ڈرامے کا فعال کردار سبز پری ہے اور مرکزی کردار گلفام ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

امانت لکھنوی

 

امانت لکھنوی نے اردو  کا پہلا عوامی ڈرامہ لکھ کر ادب کی تاریخ میں ہمیشہ کے لئے اپنا نام محفوظ کر لیا۔ اگرچہ انہوں نے غزل اور دوسری اصناف سخن،خصوصاً واسوخت اور مرثیہ  میں بھی طبع آزمائی کی لیکن جو شہرت اور مقبولیت ان کو ڈرامہ کے ذریعہ ملی اس کا کوئی جواب نہیں۔ امانت کو غزل اور دوسری اصناف سخن میں رعایت لفظی کا بادشاہ کہا جاتا ہے اور وہ خود کو اس صنعت کا موجد کہتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے عہد کا عام رواج تھا۔

امانت لکھنوی کا نام آغا حسن اور ان کے والد کا نام میر آغا علی رضوی تھا۔ان کے اجداد ایران سے لکھنو آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پر دادا کے والد سید علی رضی مشہد مقدّس میں حضرت امام علی الرضا کے روضہ کے کلید بردار تھے۔امانت 1825 میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ 20  برس کی عمر تک انہیں تحصیل علم کا شوق رہا اور اپنے عہد کے مروجہ علوم کی بقدر احسن استعداد حاصل کی لیکن اسی عمر میں اک بیماری کے  بعد ان  کی زبان بند ہو گئی اسی حالت میں وہ مقامات مقدسہ کی زیارت کے لئے عراق گئے۔ مشہور ہے کہ ایک دن حضرت امام حسین کے مزار پر دعا مانگ رہے تھے کہ اچانک ان کی قوت گویائی واپس آ گئی پھر بھی زبان میں لکنت برقرار رہی۔ ایک سال عراق میں گزارنے کے بعد  لکھنؤ لوٹے لیکن لکنت کی وجہ سے زیادہ تر گھر میں رہتے اور خود کو شعر و سخن میں مصروف رکھتے۔ انہوں نے اپنی اس حالت کا تذکرہ شرح اندر سبھا میں بھی کیا ہے "وضع کے خیال سے نہ کہیں جاتا تھا نہ آتا تھا۔زبان کی وابستگی سے گھر میں بیٹھے بیٹھے جی گھبراتا تھا"۔اس کا تذکرہ ان کے شعروں میں بھی ملتا ہے۔۔’’ہے گنگ زباں کبھی کبھی الکن ہے*گویا کہ ازل سے ناطقہ دشمن ہے” ہوں محفل ہستی میں امانت وہ شمع/خاموشی میں بھی حال مرا روشن ہے" کچھ لوگوں نے امانت کی لکنت کو موروثی بتایا ہے۔

امانت کو پندرہ سال کی عمر میں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میاں دلگیر کے شاگرد بن گئے۔استاد نے امانت تخلص رکھا۔شروع میں صرف نوحے اور سلام کہتے تھے بعد میں غزلیں بھی کہنے لگے۔ان کے بیٹے سید حسن لطافت کے بیان کے مطابق امانت نے 125 مرثئے لکھے لیکن مرثیوں کا کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا۔ ان کے پندرہ قلمی مرثئے مسعود حسن رضوی کو ملے ہیں۔ ان کا دیوان "خ"خزائن الفصاحت" غزلوں کا مجموعہ ہے جس میں ایک مثنوی چند مخمس،چند مسدس ایک واسوخت، رباعیاں اور قطعات شامل ہیں واسوختِ امانت جس کے 315 بند ہیں کئی بار شائع ہو چکا ہے۔اس کے علاوہ "گلدستہ امانت" میں ان کا منتخب کلام ہے۔ان کی سب سے اہم اور مشہور و مقبول تصنیف  اک میوزکل فنتسی "اندر سبھا" ہے جسے اردو کا پہلا ڈرامہ  بھی کہا گیا ہے۔شرح اندر سبھا اسی کتاب کا طولانی مقدمہ نثر میں ہے جو لکھنوی طرز انشا کا اچھا نمونہ ہے۔

امانت کے منظوم کلام کی سب سے بڑی خصوصیت رعایت لفظی کا استعمالل ہے جس پر انہوں نے بار بار فخر کیا ہے۔ رعایت لفظی کا  التزام انہوں نے غزلوں کے علاوہ واسوخت اور مرثیوں میں بھی کیا ہے۔ رعایت لفظی سے مراد ہے کہ ایک لفظ کی رعایت سے دوسرا لفظ لایا جائے، ایسے دو لفظوں میں کبھی معنوی مناسبت ہوتی ہے کبھی تضاد اور کبھی مناسبت یا تضاد کا دھوکا ہوتا ہے،کبھی ایک لفظ کے دو معنی ہوتے ہیں جن میں کبھی ایک مراد ہوتا ہے کبھی دونوں۔ اس کی مثال امانت کے کلام میں یوں ہے۔۔۔"پنکھا غیر اس کو ہلائیں گے اڑی ہے یہ خبر*محنتیں آج ہوا خواہوں کی برباد ہیں سب"/ قبر کے اوپر لگایا  نیم کا اس نے درخت*بعد مرنے کے مری توقیر آدھی رہ گئی"۔ ڈاکٹر صفدر حسین لکھتے ہیں  "ضلع یا رعایت شاعرانہ میں اگرچہ لکھنو کے شعراء نے سیکڑوں دیوان مرتب کئے لیکن عام لوگوں میں بھی اس کا چرچا کم نہ تھا حتی کہ فقیر فقرا اور بازاری عورتیں بھی ضلع بولنے میں طاق تھیں"۔۔اس کا مطلب یہی ہے کہ امانت نے اپنے عہد کے مقبول عام اور پسندیدہ  انداز میں شاعری کی۔

اندر سبھا کے بارے میں اک عرصہ تک کہا جاتا رہا کہ کہ اک فرانسیسی مصاحب نے واجد علی شاہ کے سامنے مغربی تھیٹر اور اوپیرا کا نقشہ پیش کیا تو انہوں نے امانت سے اندر سبھا لکھوائی، اور یہ اردو کا پہلا ڈرامہ تھا۔ لیکن اندر سبھا نہ تو فرانسیسی اوپیرا کی نقل ہے نہ واجد علی شاہ کی فرمائش پر لکھی گئی۔البتہ امانت کا ڈرامہ اردو کا پہلا عوامی ڈرامہ ضرور ہے۔۔ یہ شائع ہونے سے پہلے بھی مقبول تھا اور چھپنے کے بعد تو اس کی شہرت دور در تک پھیل گئی۔ اور اس کی نقل میں بہت سی سبھائں لکھی گئیں۔دوسرےے ملکوں میں بھی اسے شہرت ملی۔ فریڈرش روزن نے(  Friedrisch Rosen)اس کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا اور اس پر اک طویل مقدمہ لکھا جرمن زبان میں اک اور کتاب سویڈن کے ایک باشندہ نے لکھی جو روم سے شائع ہوئی۔ ہندوستان میں اندر سبھا کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا  ہے کہ انڈیا آفس لائبریری میں اس کے اڑتالیس مختلف ایڈیشن موجود ہیں۔ گیارہ دیو ناگری میں پانچ گجراتی میں اور ایک گورمکھی میں ہے۔ اردو میں اس کے متعدد نسخے لکھنو،آگرہ،بمبئی،کلکتہ مدراس میرٹھ امرتسر پٹنہ اور گورکھپور سے شائع ہوئے۔ جب بمبئی میں پارسیوں نے تھیٹر کمپنیاں قائم کیں تو اندر سبھا کو بار بار اسٹیج کیا گیااور اس کی طرز پر بے شمار ڈرامے اردو میں لکھے اور اسٹیج کئے گئے۔ ۔اس طرح اردو ڈرامہ کے پہلے دور  پر اندر سبھا کی روایت کا گہرا نقش ہے۔
مولانا حسرت موہانی نے اندر سبھا کو مغرب کے اکثر ڈراموں سے بہتر  قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں  "ظاہر میں یہ دیو پری کا اک بے سرو پا قصہ معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ اک مرادی افسانہ((Allegory  ہے۔ جس کے ذریعہ سے امانت نے پاسِ شرافت اور حسن و عشق کے نہایت نازک اور اہم  معاملات کا فوٹو کھینچ کر رکھ دیا ہے۔اندر سے پاس شرافت،پکھراج پری سے عصمت،نیلم پری سے حیا،لال پری سے خودداری،سبز پری سے حسن،کالے دیو سے خواہش،گلفام سے عشق اور لال دیو سے غمازی مراد۔ ہے۔اندر سبھا کی اک دوسری خوبی موسیقی ہے۔ اس میں بسنت ہولی،ٹھمری،ملار،ساون غزل وغیر ہر قسم کی چیزیں لکھی ہیں جو مختلف دھنوں میں گای جاتی ہیں۔اندر سبھا کے گانوں میں اک بڑا حصہ تمام راگ راگنیوں کا آ جاتا ہے"۔
عبد الحلیم شرر کے بقول اندر سبھا کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہندو مسلمانوں کے علمی،تمدنی مذاقوں کے باہمی میل جول کی اس سے بہتر یادگار نہیں ہو سکتی۔اس میں اک ہندو دیوتا  مسلمان تاجداروں کی وضع میں نظر آتا ہے۔ شہزادہ گلفام بالکل  لکھنؤ کا کوئی شہزادہ ہے جو زبان سے اقرار کرتا ہے۔۔"شہزادہ ہوں میں ہند کا،نام مرا گلفام*محلوں میں رہتا ہوں  اور عیش ہے میرا کام" اور واقعی میں یہی کام ہمارے بادشاہوں اور نواب زادوں کا رہ گیا تھا۔ پریاں ہندو دیوتا کی اپسرائیں ہیں لیکن ان کو کوہ قاف کی عجمی پرییوں کا جامہ پہنایا گیا ہے۔ دیو ایران اور آذربائجان کے ہیں۔ پریوں میں رنگ کے لحاظ سے امتیاز ہونا خالص ایرانی مذاق ہے اور پری کا اک انسانی شہزادہ پر عاشق ہوناعجمی یا عربی خیال  ہے۔پریوں کا راجہ اندر کی محفل میں ناچنا اک ہندو مذاق ہے۔گلفام کا قید خانہ ایران کے کوہ قاف کا کنواں ہے اور سبز پری جب اس کی جستجو  میں نکلتی ہے تو  پوری ہندو جوگن ہے"۔

زبان و بیان کے حوالہ سے ایسے اشعار اندر سبھا میں کثرت سے ملیں گے جن میں الفاظ کی شوکت،بندش کی چستی،طبیعت کا زور،استعاروں کی نزاکت،تشبیہوں کی پختگی اور تخیل کی بلند پروازی عروج پر ہے۔ اردو ادب کی کسی بھی گفتگو میں جب کبھی ڈرامہ کے ارتقاء یا لکھنو کی شعری زبان کی بحث چھڑے گی وہ امانت کے ذکر سے خالی نہیں ہو گی۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب