जरीदा

अबू मुनव्वर गीलानी

शोबा-ए-उर्दू बिहार युनिवर्सिटी, बिहार
2011 | अन्य
  • उप शीर्षक

    Shumara Number-001

  • सहयोगी

    ख़्वाजा मोईनुद्दीन चिश्ती यूनिवर्सिटी, लखनऊ

  • श्रेणियाँ

    शोध एवं समीक्षा

  • पृष्ठ

    206

पुस्तक: परिचय

परिचय

"جریدہ" شعبۂ تصنیف و تالیف کراچی یونیورسٹی سے شائع ہونے والا ایک سہ ماہی رسالہ ہے۔ اردو زبان کو انگریزی کے متبادل علمی و تحقیقی ذریعۂ اظہار فراہم کرنے کے لیے میجرآفتاب اقبال حسن کی ادارت میں شعبۂ تصنیف و تالیف، کراچی یونیورسٹی سے ۱۹۶۳ میں جریدہ کا آغاز ہوا جو نہایت اہم علمی و تحقیقی رسالہ تھا۔ "جریدہ" ایک سہ ماہی مجلہ تھا۔ مگر ۱۹۶۳ سے ۱۹۸۵ تک اس کے کل ۱۷ شمارے ہی شائع ہوسکے۔ اس کا آخری شمارہ ڈاکٹر جمیل جالبی کی سر پرستی میں۱۹۸۵ میں شائع ہوا۔ "جریدہ" ایک مخصوص نظریاتی رسالہ تھا جس کے مقاصد آفتاب حسن صاحب نے پہلے شمارے میں یوں بتائے تھے۔ ۱۔ فرہنگیں مرتب کرنا، تمام علوم و فنون، خصوصاً سائنسی اصطلاحوں کو معیاری بنانا۔ ۲- اردو زبان میں نصابی کتابیں تصنیف، تالیف اور ترجمہ کروانا۔ ۳۔ اردو کے ادبِ عالیہ کو بیرونی زبانوں میں منتقل کرنا نیز دوسری زبان کے شہ پاروں کا اردو میں ترجمہ کرونا۔ "جریدہ" تقریباً سوا سو صفحات پر محیط ہوتا تھا اور خطِ نسخ میں شائع ہوتا تھا۔ پہلے شمارے میں شائع ہونے والے مضامین یوں ہیں۔ اصولِ وضعِ اصطلاحات، اصطلاحاتِ تاریخ سیاسیات و عمرانیات، اصطلاحاتِ فلسفہ، اصطلاحاتِ معاشیات و تجارت، اصطلاحاتِ نفسیات، اصطلاحاتِ جغرافیہ، اصطلاحاتِ حیوانات و نباتیات و خورد حیوانات۔ اس فہرست سے اندازہ ہوتا ہے کہ "جریدہ" نہایت ہی منظم ومسبوط علمی جریدہ تھا۔ جنوری ۲۰۰۱ میں جب ظفر سعیدی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بنے تو انھوں نے ڈاکٹر معین الدین عقیل کو شعبۂ تصنیف و تالیف کا سربراہ بنایا، اور ان ہی کی ادارت میں "جریدہ" سترہ سال کے تعطل کے بعد جون ۲۰۰۲ میں از سرِ نو منظرِ عام پر آیا۔ "جریدہ" کی قیمت مخصوص نہیں تھی کبھی یہ سو روپے کا تھا اور کبھی تین سو، یہ قدر ضخامت پر منحصر ہوتی تھی۔ "جریدہ" کو جو بات اہم بناتی تھی وہ یہ تھی کہ یہ اپنی طرز کا منفرد رسالہ تھا جو اردو زبان کے فروغ و اشاعت کے لیے سرگرم تھا اور بڑی حد تک کامیابی سے ہم کنار بھی ہوا۔ جریدہ کے تحت فرہنگ و اصطایحات کے علاوہ، لسانیات نمبر (جس میں بروشسکی زبان کی تاریخ و قواعد پر مضامین تھے) قدیم لسانیات نمبر، جس کے تحت موہن جوداڑو اور قدیم سندھی تہذیبوں کے متعلق مضامین شائع ہوئے۔ اس کے بعد کے رسالوں میں عربی، عجمی، ہسپانوی، عبرانی زبان و تہذیب پر نہایت سیر حاصل مضامین شائع ہوئے۔ اس رسالے کے مشمولات میں خالص اردو ادب کا رجحان مفقود تھا، لیکن غیر مطبوعہ کتابیں نمبر کے تحت عزیز حامد مدنی کی غزلیں، سید اقبال عظیم کی نظمیں اور مختلف قلم کاروں کے افسانے اور ناولٹ بھی شائع ہوئے۔ کچھ نمبروں میں تنقیدی مباحث بھی قائم کیے گئے جن میں عبدالقادر بیدل اور علامہ اقبال پر مضامین بھی شائع کیے گئے۔ جلد نمبر ۲۷، چہ دلاور است میں مشرق و مغرب میں سرقہ بازی کی تاریخ کا محاسبہ کیا گیا ہے جو ماہانہ مہرِ نیم روز میں شائع ہونے والے مضامین کا مجموعہ تھا، بہت مقبول ہوا اور اس نے نئے مباحث کے در وا کیے۔ "جریدہ" میں شائع ہونے والے اہم نام یوں ہیں۔ آفتاب حسن، معین الدین عقیل، سید خالد جامعی، خالد قادر حسن، نصیر الدین نصیر ہونزائی، عمر حمید ہاشمی، مولانا ابولجلال ندوی، شبلی نعمانی، سلیمان ندوی، ولیم ولسن ہنٹر، مولانا حسن مثنیٰ ندوی، ریاض الاسلام، غلام رسول مہر، لیفٹیننٹ کرنل خواجہ عبد الرشید، علامہ تمنا عمادی، عزیز ا حمد، شاہ ریحان چشتی، ابولخیر کشفی، مولانا احسن مارہروی۔

.....और पढ़िए

लोकप्रिय और ट्रेंडिंग

पूरा देखिए

पुस्तकों की तलाश निम्नलिखित के अनुसार

पुस्तकें विषयानुसार

शायरी की पुस्तकें

पत्रिकाएँ

पुस्तक सूची

लेखकों की सूची

विश्वविद्यालय उर्दू पाठ्यक्रम