کئی چاند تھے سر آسماں

شمس الرحمن فاروقی

پینگوئن بکس انڈیا
2006 | مزید
  • معاون

    شمس الرحمن فاروقی

  • موضوعات

    ناول

  • صفحات

    851

کتاب: تعارف

تعارف

شمس الرحنہ فاروقی کا نام بر صغیر کے ادبی حلقے میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انہوں نے اردو،انگلش میں کئی کتابیں لکھی ہیں جن کو بہت ہی زیادہ مقبولیت ملی۔ میر تقی میر کے بارے میں ان کی مایہ ناز کتاب "شعر شور انگیز " چار جلدوں میں نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے،جو کئی بار زیور طبع سے آراستہ ہو چکی ہے۔ 1996 میں ان کو سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔ انہوں نے نقد ، شاعری، فکشن، لغت نویسی، داستان، عروض، ترجمہ جیسے کئی فن پر کتابیں لکھی ہیں۔ "کئی چاند تھے سر آسماں" کا بیانیہ اتنا سٹیک ہے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ شمس الرحمن فاروقی ہی اس طرح کا بیانیہ لکھ سکتے تھے۔اس کا بیانیہ نہ صرف بے عیب ہے بلکہ نہایت تفصیل اور لطافت کےساتھ گڑھا گیا ہے ۔ جسے ہم میں سے اکثر انیسویں صدی کے دلی کے شب و روز سمجھتے ہیں ، ہمیں ایک ایسی کہانی عطا کی ہے جو 1857 کی جنگ آزادی سے کچھ پہلے کی دہائیوں کی ہے۔ کسی بھی ناول کی کامیابی، موضوع ، کردار، پلاٹ ،واقعات، جزئیات اور منظر نگاری پر ہی منحصر نہیں ہوتی بلکہ حسن بیان اور طرز نگارش بھی شایان شان ہونا چاہئے۔ اس ناول میں زبان و بیان کا حسن، مکالمہ کی برجستگی ، واقعات اور زبان کے ہم آہنگ ہونے کا گہرا احساس ہر صفحے پر نمایاں ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مستعمل زبان کو ہی جگہ دی گئی ہے ۔ جو اس عہد میں رائج تھی۔ عربی اور فارسی کے فقروں و محاوروں کی کثرت اس ناول میں دکھائی دیتی ہے جو اس وقت دہلی و نواح دہلی میں مستعمل تھی ۔فارسی اشعار کا مکالموں میں بر محل استعمال بھی حسن بیان کو مزید دلکشی عطا کرتا ہے ۔ غرضیکہ کئی "چاند تھے سر آسماں " تاریخ ، تہذیب و تمدن ، شعر و ادب، معاشرت کے آداب، عام زندگی کی جزئیات کے سچے اور زندہ بیان کی وجہ سے اردو ادب میں صرف اپنا ایک منفرد اور نمایاں مقام بنانے میں ہی کامیاب نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستاویز بھی ہے۔کئی چاند تھے سرِ آسماں کا مرکزی کردار وزیر خانم ہے جو مجسم حسن کا پیکر ہے۔ اپنی نفاست طبع، نازو انداز اور بات کرنے کے طور سلیقوں سے وہ ہر بااختیار مرد پر چھا جانے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔ وزیر خانم کو اس ناول میں مشہور شاعر داغ دہلوی کی والدہ بتایا گیا ہے۔ وزیر خانم کے کردار کو اردو ادب میں پیش کئے گئے عورت کے کرداروں میں سب سے لازوال قرار دیا جاسکتا ہے۔ شمس الرحمان فاروقی نے اس ناول میں زبان و بیان اور مکالموں کی برجستگی پر جو کمال برتا ہے اس کی اردو ادب میں اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس ناول کو پڑھے بنا کوئی قاری خود کو اردو ادب کا قاری نہ ہی گردانے تو بہتر ہوگا اور اس ناول کی زبان سے لطف کشیدنے کے لئے لازم ہے کہ اسے وقفے وقفے سے اور دو بار لازم پڑھا جائے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شمس الرحمن فاروقی

نام شمس الرحمن فاروقی، ڈاکٹر۔ ۱۵؍جنوری۱۹۳۶ء کو پرتاب گڑھ یوپی (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ الہ آباد یونیورسٹی سے ۱۹۵۳ء میں انگریزی میں ایم اے کیا۔علم وفضل کی قدیم روایت باپ اور ماں دونوں سے ورثے میں ملی۔ ذریعہ معاش کے لیے حکومت ہند میں طویل عرصے نوکری کی۔ یہ شاعر کے علاوہ افسانہ نگار ، نقاد اور محقق ہیں۔ رسالہ’’شب خون‘‘ جو الہ آباد سے نکلتا رہا ، اس کے اڈیٹر تھے۔ یہ دودرجن سے زائد کتابوں کے مصنف اور مؤلف ہیں۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں:’’گنج سوختہ‘‘، ’’سبز اندرسبز‘‘، ’’چارسمت کا دریا‘‘، ’’آسماں محراب‘‘(شعری مجموعہ)، ’’سوار اوردوسرے افسانے‘‘، ’’افسانے کی حمایت میں‘‘، ’’لفظ ومعنی‘‘، ’’فاروقی کے تبصرے‘‘، ’شعر شور انگیز‘‘، ’’عروض، آہنگ اور بیان‘‘، ’’اردو غزل کے اہم موڑ‘‘(مجموعہ ہائے مضامین)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:310

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب