کلیات شکیل بدایونی

شکیل بدایونی

ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس، دہلی
2006 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

شکیل بدایونی،اردو غزل کے وہ مقبول شاعر ہیں، جنہیں "شاعر شباب"کے لقب سے نوازا گیا۔وہ ایک ایسے ممتاز شاعر تھے جنھوں نے ایک ہی وقت مین غزل کو نکھارا اور نغمات کی دنیا میں نیا رنگ پیش کیا۔ جگر مرادآبادی اور فراق گورکھ پوری کے بعد واحد شاعر تھے جنھوں نے اپنے فن کے لیے غزل کے میدان کو اپنایا ،اور اسے زندگی کے بدلتے ہوئے رجحانات اور جدید تصورات سے ہم کنار کیا۔پورے ہندوستان میں ان کی غزلوں کی دھوم تھی، بڑے بڑے مشاعروں میں شکیل بدایونی کا نام ہونا ضرور سمجھا جاتاتھا، اور وہی مشاعرہ کامیاب سمجھا جاتا تھا جس میں شکیل بدایونی کی شرکت ہوتی تھی۔یہ حقیقت ہے کہ شکیل بدایونی کا اردو ادب پر بہت بڑا احسان ہے، انھوں نے اپنے نغمات کے سہارے اردو ادب کو ہندوستان کے کونے کونے پہنچایا، انھوں نے اپنے دور کی مکمل ترجمانی کی ۔اپنی غزلیات میں منظومات میں اور جب موقع ملا تو نغمات بھی لکھے اور اپنے نغمات میں خلوص و محبت کا پیغام بھی دیا اور سماج کو سدھارنے کا طریقہ بھی بتایا ۔زیر نظر کتاب شکیل بدایونی کا کیات ہے ،اس کلیات میں ان کے شعری مجموعے "رعنائیاں "،"صنم و حرم"،"شبستان"اور "رنگینیاں" نغمہ فردوس اور دھرتی کو آکاش پکارے" شامل ہیں۔ اس کلیات کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نے چھاپا ہے۔ کلیات کے شروع میں رئیس المتغزلین جگر مرادآبادی کے علاوہ دلیپ کمار، ساحر لدھیانوی اور فراق گورکھپوی جیسے بڑے لوگوں کے مضامین و خیالات شامل ہیں۔ نیز شکیل کی خودنوشت سوانح کے بھی کچھ اوراق شامل ہیں جو بہت دل چسپ ہیں۔ ان سب کو پڑھ کر شکیل کی شخصیت اور شاعرانہ عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شکیل بدایونی

شکیل بدایونی

نام شکیل احمد،تخلص شکیل اور تاریخی نام غفار احمد۔ ۳؍اگست ۱۹۱۶ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اردو، فارسی اور عربی کی ہوئی۔ ۱۹۳۶ ء میں میٹرک مشن ہائی اسکول ، شیخوپورہ(بدایوں) سے کیا۔ ۱۹۴۲ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد مرکزی حکومت ہند کے محکمۂ سپلائی میں کلرک بھرتی ہوگئے۔ وہ دلی میں ۱۹۴۶ء تک رہے۔ فروری۱۹۴۶ء میں شکیل ایک مشاعرے کے سلسلے میں بمبئی گئے۔ مشہور فلم ساز کاردار کے ایما پر مستقل طور پر بمبئی میں سکونت اختیار کرلی۔ شکیل نے سو سے زیادہ فلموں کے اردو ، ہندی اور پوربی زبانوں میں گیت لکھے ۔ انھوں نے گیتوں سے بہت روپیہ کمایا۔ شکیل کو ذیابطیس کی موروثی شکایت تھی۔ وہ ۲۰؍ اپریل ۱۹۷۰ء کو بمبئی میں انتقال کرگئے۔ وہ ضیاء القادری سے مشورہ سخن کرتے تھے۔ ان کی زندگی میں ان کے ادبی خدمات کے اعتراف میں غالب صدی تقریبات کے سلسلے میں گورنر یوپی(شری گوپال ریڈی) نے ان کے وطن بدایوں میں شکیل روڈ کا افتتاح کیا۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’رعنائیاں‘‘، ’’صنم وحرم‘‘، ’’رنگینیاں‘‘، ’’شبستاں‘‘ اور ’’نغمۂ فردوس‘‘(نعتیہ کلام)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:73

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب