لوح محفوظ

سیماب اکبرآبادی

سیماب اکیڈمی، بمبئی
1979 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

سیماب اکبرآبادی کا شمار ان خوش نصیب شعرا میں ہوتا ہے جنہیں گزرتے وقت کے ساتھ فراموش نہیں کیا گیا۔ ان کا شمار بیسویں صدی کے اوائل کے ان شعراء میں ہوتا ہے جنہوں نے مختلف اصناف سخن میں فکری و فنی التزام کے ساتھ کامیاب اور صحت مند تجربے کرکے مقبولیت حاصل کی۔ زیر نظر مجموعہ میں ان کی وہ غیر مطبوعہ غزلیں شامل کی گئی ہیں جو ۴۳ ۱۹ء سے ۵۰ ۱۹ء کے دوران کہی گئیں ۔ اس عرصے میں جو غزلیں جس سال کہی گئیں اسے غزل شروع ہونے کے پہلے ہی لکھ دیا گیا ہے، اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کس سال انہوں نے کون کون سی کتنی غزلیں کہیں۔ یہ تمام غزلیں ان کے انتقال کے تقریبا تین دہائی بعد کتابی شکل میں شائع ہوئیں۔ اس میں ان کی زندگی کے بالکل آخری ایام کی دو غزلیں بھی شامل ہیں جو انہوں نے اپنے زمانہ علالت کے دوران کہی تھی۔ ان کے متعدد دیوان چھپ کر زبان زد عام و خاص ہیں اور اب یہ مجموعہ قارئین کو ذہنی تازگی کا سامان فراہم کرے گا۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

سیماب اکبرآبادی

سیماب اکبرآبادی

بیسویں صدی کے اوائل میں کائناتِ اردو ادب میں ایسے کئی روشن ستارے نمودار ہوئے جو اپنی وسعتوں میں ایک پوری کہکشاں سمیٹے ہوئے تھے ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی، جلال لکھنوی، ریاض خیر آبادی، مضطر خیرآبادی، عزیز لکھنوی، اکبرالہ آبادی، برج نرائن چکبست، حسرت موہانی، آغا شاعر قزلباش، بے خود دہلوی، صفی لکھنوی، جلیل مانکپوری، نوح ناروی، احسن مارہروی، وحشت کلکتوی، شاد عظیم آبادی، ظفر علی خان، تاجور نجیب آبادی، آرزو لکھنوی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، برجموہن دتاتریہ کیفی، نیاز فتح پوری، یاس یگانہ چنگیزی، ماہرالقادری اور ایسے ہی کئی لافانی نام کہ جنھوں نے اس پورے عہد کو اردو ادب کا عہدِ زریں بنادیا، لیکن یہ فہرست سیماب اکبرآبادی کے نام کے بغیر ہرگز مکمل نہیں ہوسکتی۔

علاّمہ سیماب اکبرآبادیؒ کا اصل نام شیخ عاشق حسین صدیقی تھا، وہ 5 جون 1882 ء کو اکبر آباد (آگرہ) میں علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا شیخ محمد حسین صدیقی عالمِ دین اور واعظ و نعت خواں تھے، شاعر بھی تھے مگر عام طرزِ شاعری سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی، کئی کتابوں کے مصنف تھے گلدستۂ عطّار،مجموعۂ شہادت اور کراماتِ غوثیہ ان کی مقبول تصانیف ہیں۔ سیماب کی ابتدائی تعلیم مروّجہ دستور کے مطابق عربی فارسی اور اردو سے شروع ہوئی، قرآن و حدیث کا درس اپنے والد سے لیا۔ مولانا محمد حسین اجمیر میں ٹائمز آف انڈیا پریس کی شاخ کے مینیجر تھے، اجمیر ہی میں گورنمینٹ کالج کے برانچ انگلش اسکول میں سیماب کو شریک کروادیا لیکن بچپن ہی سے فطری موذونیت اور شعری میلان کے سبب انھیں زمانۂ طالبِ علمی ہی میں زبان و بیان اور عروض پر خاصہ عبور حاصل ہوگیا تھا اور وہ امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے جواب بھی منظوم لکھتے تھے۔ اپنے والد سے چھُپ چھُپا کر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے والد کو جب پتہ چلا تو انھوں نے کئی احکامات اور پابندیوں کے ساتھ مشاعروں کی اجازت دے دی۔ اس دوران انھوں نے سنسکرت اور ہندی زبانیں بھی سیکھ لیں۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں سیماب تخلص اختیار کر لیا تھا۔

ابھی سیماب ایف اے کے آخری سال ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھریلو اخراجات کی پوری ذمے داری ان کے کاندھوں پر آپڑی لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور مختلف ملازمتیں اختیار کیں جن میں ریلوے کی ملازمت بھی شامل ہے۔

1898 ء میں سیماب اکبرآبادی فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے۔ داغ کے دو ہزار سے زائد شاگردوں میں علاّمہ اقبال اور ان کے بعد علاّمہ سیماب کو جو شہرتیں ملیں کسی اور کو میسّر نہ ہوئیں۔1899 ء میں حضرت حاجی وارث علی شاہؒ (دیوہ شریف) کے ہاتھوں پر بیعت کا شرف حاصل ہوا اور اسی نسبت سے کبھی کبھی وارثی تخلص بھی استعمال کرتے تھے۔

1923 ء میں انھوں نے آگرہ میں ایک علمی ادبی اور اشاعتی ادارے قصرالادب کی کی بنیاد ڈالی جس کے تحت کتابوں کی اشاعت کے علاوہ کئی اخبارات و رسائل بھی جاری کئے جن میں ماہنامہ پیمانہ، پندرہ روزہ ثریّا، ہفت روزہ پرچم ہفت روزہ تاج اور ماہنامہ شاعر قابلِ ذکر ہیں۔ماہنامہ شاعر 1930 ء میں جاری ہوا، جلد ہی اس کی ادارت سیماب نے اپنے فرزند اور جانشین اعجاز صدیقی کے سپرد کردی، شاعر تا حال ممبئی سے جاری ہے اور اپنی اشاعت کے 88برس مکمل کر چکا ہے، اعجاز صدیقی کے فرزندان افتخار امام صدیقی، ناظر نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی اس ادبی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

علاّمہ سیماب اکبر آبادی نے تقریباً سبھی مروّجہ اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی اور 300 سے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ وہ نظم کو غزل پر فوقیت دیتے تھے اور نظم میں ہیئت کے کئی تجربے بھی کیےوہ بلا شبہ جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ان کی نظموں کے مقابلے غزلوں کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تصانیف میں وحیِ منظوم، الہامِ منظوم، کلیمِ عجم، سدرۃ المنتہی، لوحِ محفوظ، نیستاں، کارِ امروز، سازو آہنگ، شعرِ انقلاب، عالم آشوب، نفیرِ غم، سرودِ غم ،رازِ عروض اور دستور الاصلاح شامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کا مکمل منظوم ترجمہ وحیِ منظوم ہے اس کے علاہ مولانا رومی کی مشہور مثنوی کا مکمل منظوم ترجمہ الہامِ منظوم بھی ان کا ایک نہایت اہم کارنامہ ہے۔

داغ دہلوی کے شاگردوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ تھی اور شاید ان سے قبل اردو شاعری کی تاریخ میں اتنے شاگرد کسی استاد کے نہیں ہوئے لیکن یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیماب اپنے استاد سے بھی کہیں آگے نکل گئے، ان کے تین ہزار سے زیادہ شاگر دہوئے، چند مشہور نام یہ ہیں: اعجاز صدیقی، ساغر نظامی، راز چاند پوری، بسمل سعیدی، شفا گوالیاری، قمر نعمانی، مختار صدیقی، مخمور جالندھری، سراج الدین ظفر، الطاف مشہدی، صبا متھراوی، خموش سرحدی، شہ زور کاشمیری، ضیا فتح آبادی، طُرفہ قریشی، آغاز برہانپوری، منظر صدیقی، جالب مظاہری، مبشر علی صدیقی، حبیب اشعر، مفتوں کوٹوی، علیم اختر مظفر نگری، رونق دکنی، مفتوں کوٹوی وغیرہ۔ سیماب کے کئی تلامذہ کے بہت سے شاگرد آج نامورانِ ادب میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً انور شعور، مخمور سعیدی، یعقوب راہی، عبدالاحد ساز وغیرہ، یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے اگر اس پر باقاعدہ تحقیقی کام کیا جائے۔

علاّمہ سیماب نے مشاعروں کو وقتی تفریح بنانے کی شدید مخالفت کی اور مشاعروں میں علمی ادبی موضوعات پر مشتمل صدارتی خطبوں کو رواج دیا۔ شاعری میں فحش موضوعات، شراب اور اس کے متعلقات اور تعیّش پرستی کی بھی مخالفت کی نیز شعرِ مہذّب کو رواج دیا۔ انھوں نے ادبی نظریات اور زبان کے برتاؤ کی بنیاد پر آگرہ اسکول کا تصوّر دیا، شعرِ مہذّب کو رواج دیا غزل میں فحش نگاری اور اخلاق سوز موضوعات کی مخالفت کرتے ہوئے فکر، فلسفہ، نفسیات اور احوالِ واقعی کو جگہ دی، عربی اور فارسی کی بوجھل تراکیب اور فرسودہ استعاروں سے اجتناب کیا، انھیں جدید غزل کے ابتدائی نقوش کہا جاسکتا ہے۔

1948 ء میں وہ اپنی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں لاہور تشریف لے گئے، قصد تھا کہ کام مکمل ہوتے ہی لوٹ آئیں گے، وہاں سے شدیدعلالت کے سبب کراچی منتقل ہوئے ، اس دوران بھی ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور تاج کمپنی کی فرمائش پر سیرت النبویﷺ تحریر کی اس کے علاوہ کئی احادیث کے منظوم ترجمے بھی کیے۔ انھوں نے کراچی میں اپنی نوعیت کا اوّلین انسٹی ٹیوٹ جامعہ ادبیہ قائم کیا جس کے نصاب میں اردو صرف و نحو، فنِ شاعری، نثر نگاری اور صحافت کی تربیت شامل تھی، یہ جامعہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکا اور مروّجہ اکیڈمک اسکول ہوگیا مگر اردو شاعری اور اردو صحافت کی تدریس کا اسےسب سے پہلا ادارہ کہا جاسکتا ہے۔

کراچی میں ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور 31 جنوری 1951 ء کواردو ادب کا یہ عظیم مجدّد اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا۔کراچی کے قائد آباد علاقے میں تدفین ہوئی اور قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ کروایا گیا:
کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں  اور آدمی افسانہ ہوجائے

یہ علامہ سیماب کی حیات اور خدمات کا ایک مختصر سا جائزہ ہے، ان پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے، برِ صغیر کے چھے ریسرچ اسکالرس ان پر کام کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرچکے ہیں لیکن اب بھی ان کی شخصیت اور کاموں کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر کام کیا جانا چاہیے، خود ان ہی کے بقول
بھرے گی ان کو  میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب