مخزن، لاہور

شیخ عبد القادر

شیخ عبد القادر
1901 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

"مخزن" برطانوی ہند میں لاہور سے شائع ہونے والا ایک علمی و ادبی جریدہ تھا جس کا اجرا اپریل ۱۹۰۱ میں ہوا۔ اس جریدے کے بانی و مدیر ہندوستان کے معروف قانون دان، مسلمانانِ ہند کے رہنما اور ریاست بہاولپور کے سابق چیف جج سر شیخ عبد القادر تھے۔ انھوں نے "مخزن" کے پہلے اداریے میں تقلیدی رویوں کی مذمت کی، تصنع نگاری کے خلاف آواز اٹھائی اور ادبا و شعرا کو فطرت کی زبان میں تخلیق کاری کی دعوت دی۔ "مخزن" کا ایک مقصد مذہبی اور سیاسی طبقوں سے الگ رہ کر اردو ادب کی خدمت کرنا تھا۔ چنانچہ "مخزن" نے مروجہ ڈگر سے علاحدہ روش اختیار کی اور جذبے اور تاثر کو ملکوتی زبان میں پیش کیا، تو اس عہد کے بیشتر نئے لکھنے والے مخزن کی طرف راغب ہو گئے۔ "مخزن" کے سر ورق پر ہندوستان کا نقشہ بنا ہوتا تھا۔ یہ فقرہ بھی ہر شمارے کی زینت ہوا کرتا تھا، "اردو علم و ادب کی دلچسپیوں کا ایک ماہوار مجموعہ" سر ورق پر ہی نظم و نثر کی فہرست اور پبلشر کا نا م و ادارہ بھی درج ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ابتدا سے ہی ا س جریدے نے اپنا اعتبار قائم کر لیا تھا جہاں اسے اہم لکھنے والوں کی سر پر ستی حاصل رہی وہیں اس دور کے کاروباری طبقوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ہر شمارے میں اشتہارات کی بہتات ظاہر کرتی ہے کہ اسے مالی مسائل سے نبرد آزما نہیں ہونا پڑا ہو گا۔ "مخزن" صوری و معنوی ہر دو اعتبار سے اپنی مثال آپ تھا۔ شیخ صاحب جہاں تخلیقات کے انتخاب میں بہت باریک بینی سے کام لیتے، وہیں اس کے ظاہری حسن و دلکشی کا بھی خیال رکھتے۔ "مخزن" کے حلقۂ تحریر میں ا پنے عہد کے تقریباً تمام ہی مشاہیرِ ادب شامل تھے، پھر شیخ صاحب نے بہت سے نئے لکھنے والوں کو متعارف کرا کے انھیں بامِ عروج تک پہنچایا۔ اسے ہمیشہ مشاہیر اور بزرگ اہل قلم کی محبت و شفقت اور سر پرستی حاصل رہی۔ بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام اہلِ قلم، کسی ایسے ہی ادبی جریدے کے منتظر تھے جو مؤقر بھی ہو اور معتبر بھی، شیخ صاحب کا جریدہ "مخزن" وقت کی اہم ضرورت تھا۔ مولانا حالی، مولانا شبلی، حسرت موہانی، تلوک چند محروم، شاد عظیم آبادی، اکبر الہ آبادی، حافظ محمود شیرانی، علامہ راشد الخیری، داغ دہلوی، سجاد حسین یلدرم، مولانا ابو الکلام آزاد، آغا شاعر دہلوی، سید محمد اکرم خان، ڈاکٹر شیخ محمد اقبال، منشی کندن لال صاحب، شیخ غلام محمد، حکیم ناصر فراق دہلوی، مہدی حسن وغیرہم، یہ وہ ہستیاں ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں سے "مخزن" کو اعتبار بخشا۔ خود شیخ صاحب بھی جب تک مخزن سے وابستہ رہے، ان کی نگارشات کا یہی زمانہ عروج کا تھا۔ یہ وہ دور تھا کہ جب علامہ اقبال کے افکار و نظریات اردو شعری منظر نامے پر طلوع ہو رہے تھے۔ علامہ اقبال "مخزن" کے مستقل لکھنے والوں میں سے تھے اور یہ تعلق اس وقت تک قائم رہا جب تک مخزن پر سر عبد القادر کا نام چھپتا رہا۔ یوں علامہ اقبال کے سر زمین ہند بلکہ بیرونی دنیا سے تعارف کے سلسلے میں "مخزن" کا بنیادی کردار رہا۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر: تعارف

شیخ عبد القادر

شیخ عبد القادر

سر شیخ عبدالقادر15مارچ 1874ء کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سرسید احمد خان کی تحریک سے مسلمان نوجوانوں کی جو جماعت پیدا ہوی تھی سر شیخ عبدالقادر اس میں پیش پیش تھے۔1898ء میں وہ پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار آبزرور کے مدیر ہوئے اور 1901ء میں انہوں نے اردو کا ادبی جریدہ مخزن جاری کیا۔ دنیائے ادب میں مخزن کو یہ اختصاص حاصل ہوا کہ علامہ اقبال کی بیشتر نظمیں پہلی مرتبہ مخزن ہی میں شائع ہوئی تھیں۔علامہ اقبال کے پہلے اردو مجموعہ کلام بانگ درا کا دیباچہ سرشیخ عبدالقادر ہی نے لکھا تھا۔ 1904ء میں سرشیخ عبدالقادر بیرسٹری کے لیے انگلستان روانہ ہوئے۔ 1907ء میں انہوں نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا پہلے دہلی پھر لاہور میں وکالت کی۔ 1921ء میں ہائی کورٹ کے جج اور 1935ء میں پنجاب کے وزیر تعلیم بنے۔ 1939ء میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور 1942ء میں بہاولپورکے چیف جج بن گئے۔ سر شیخ عبدالقادر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔ 

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب