منادی

خواجہ حسن نظامی

خواجہ حسن ثانی نظامی
2009 | مزید
  • ذیلی عنوان

    شمارہ نمبر۔003

  • معاون

    فرحت احساس

  • موضوعات

    رسالے

  • صفحات

    66

کتاب: تعارف

تعارف

خواجہ حسن نظامی کا اصلی نام علی حسن تھا۔ آپ کے والد سید امام نظام الدین اولیا درگاہ دہلی سے وابستہ تھے آپ یہیں پیدا ہوئے۔ وہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر میں یتیم ہو گئے۔ تلاش معاش کی خاطر دہلی کی گلیوں میں کتابیں فروخت کرنے لگے۔ خدا نے غضب کی صلاحیت دی تھی لہٰذا لکھنا شروع کیا، ابتدا میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھے، بعد ازاں مختلف موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھیں۔ خواجہ حسن نظامی حضرت نظام الدین اولیاکی درگاہ کے سجادہ نشین رہے، آپ نے کئی رسالے شائع کیے، جن میں "منادی" کو خاصی شہرت ملی۔ حالانکہ خواجہ حسن نظامی نے مذہب، تصوف، تفسیر، حدیث، تاریخ، سفرنامہ، روزنامچے، انشائیے پر قابل قدر تصانیف یادگار چھوڑیں، تاہم بنیادی طور پر ایک صوفی اور خد ارسیدہ بزرگ تھے۔ اس لیے آپ کی تحریروں میں تصوف، دنیا کی بے ثباتی اور انسان کی بے بسی ہر جگہ نمایا ں ہے۔ خواجہ حسن نظامی کی تصانیف چالیس کے لگ بھگ ہیں جن میں سیپارہ دل، بیگمات کے آنسو، غدر دلی کے افسانے، مجموعہ مضامین حسن نظامی، طمانچہ بر رخسار یزید، سفر نامہ ہندوستان اور کرشن کتھا مشہور ہیں۔ آپ نے ۳۱ جولائی ۱۹۵۵ کو وفات پائی اور نظام الدین اولیا کے احاطے میں دفن ہوئے۔ رسالہ "منادی" کی اشاعت کا آغاز ۱۹۱۶کو ہوا تھا یہ ایک ماہنامہ کی صورت میں جاری ہوا۔ تقریباً ۵۰ صفحات پر مشتمل یہ شمارہ علم، تہذیب، تصوف جیسے متنوع مضامین سے بھرپور ہوتا تھا۔ ابتدا میں اس کی قیمت فی پرچہ ۲۵نئے پیسے اور سالانہ ۳ روپیہ تھی۔ جو اب ۵ روپے فی پرچہ اور ۵۰ روپے سالانہ ہے۔ منادی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ان چند گنے چنے رسالوں میں سرِفہرست ہے جو متواتر ایک صدی سے پورے طمطراق کے ساتھ منصۂ شہود پر آرہے ہیں۔ اس کے بانی اور مدیر تو خواجہ حسن نظامی تھے، لیکن ۱۹۵۵ میں ان کے انتقال کے بعد حسن نظامی ثانی نے اس کی ادارت سنبھالی۔ منادی کے سرِورق پر درگاہِ نظام الدین اولیا کی تصویر کے ساتھ یہ فقرہ بھی مندرج ہوتا ہے، "بارگاہِ سلطان المشائخ، حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیا، محبوبِ الٰہی کا۔۔۔۔ منادی۔" اور اندرونی صفحات پر یہ نعرہ ہوتا ہے، "بارگاہِ نظام الدین اولیا سے ایمان اور امن کی ندا دینے والا اور خواجہ حسن نظامی کی یادگار۔" "منادی" کی خوبی یہ ہے کہ اس میں سلسلۂ نظامیہ اور تصوف کے بیانات نہایت آسان اور سلیس زبان میں شائع ہوتے ہیں۔ اس کی عمومی فہرست یوں تھی، اولین صفحات پر الفاتحہ، پھر کسی اہم شخصیت کے راہیٔ ملک عدم ہونے پر مضمون یا کوئی اہم واقعہ، پھر ادارے کا مضمون جیسے قرآن کا فرمان، پھر حضرت محبوبِ الٰہی اور خواجہ حسن نظامی اور حسن نظامی ثانی کی نگارشات، کچھ نعتیں، حلقۂ نظامیہ کا تعارف وغیرہ۔ "منادی" کے تحت کچھ خاص شمارے بھی شائع ہوئے جس میں پرانے صوفیانہ آثار و کتب کا ترجمہ و تلخیص کی گئی۔ مثلاً ۲۰۰۹ میں مرأۃ الاسرار اور ۲۰۱۰ میں نظام الدین اولیا کے چشم دید حالات پر مبنی "قوام العقائد" چھپی، جس کا ترجمہ نثار احمد فاروقی نے کیا تھا۔ "منادی" میں شائع ہونے والی شخصیات کے نام یوں ہیں۔ حضرت خواجہ حسن نظامی، جناب حسن نظامی ثانی، ساغر نظامی، تہنیت بیگم، ماسٹر محمد احسان، عبد الرحمٰن چشتی، نصیرالدین محمود، حسن شمس الدین محمد، حسام الدین ملتانی، علاؤالدین نیلی، برہان الدین غریب، شیخ قطب الدین، شیخ فخر الدین زرّاوی وغیرہ۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر: تعارف

خواجہ حسن نظامی

خواجہ حسن نظامی

شاید یہ جان کر بہتوں کو حیرت ہوگی کہ اردو ادب کی تاریخ میں چشتی سلسلہ کے ایک ایسے بزرگ ادیب، دانشور، مؤرخ ، صحافی اور صاحب طرز انشا پرداز کا نام نمایاں طور پردرج ہے جس نے نہایت والہانہ عقیدت کے ساتھ شری کرشن کی زندگی کے واقعات پر مبنی ’کرشن بیتی‘ کے نام سے نہ صرف کتاب لکھی بلکہ تمام ہندو تیرتھوں کی یاترا سادھووں کے لباس میں کی، ویدانت کا فلسفہ سیکھا اور’ تیرتھ یاترا، کے عنوان سے اپنا سفرنامہ لکھا جو کسی وجہ سے شائع نہ ہو سکا۔ وہ یہ کہتے تھے کہ ”ہندوستان کے نامور بزرگ شری رام چندر جی، شری کرشن اور مہاتما بدھ کے حالات پڑھنے، ان کی طرز زندگی پر غور کرنے اور ان کی تعلیمات پر منصفانہ نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے وہی حالات تھے جو سیدنا حضرت ابراہیم ،عیسیٰ اور موسیٰ کے تھے اور وہی تعلیم تھی جس کا ذکر بار بار قرآن شریف میں آیا ہے۔“
انہوں نے ہی گاؤ کشی کے خلاف ۱۲۹۱ءمیں’ترک قربانی گاﺅ‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ تحریر فرمایا جس میں مذہبی اور منطقی دلیلوں سے ثابت کیا کہ گاؤ کشی مناسب نہیں ہے اور نہ ہی یہ اسلامی شعار ہے۔ انہوں نے مسلمان بادشاہوں کے طرز عمل اور ان کے فرمانوں کی روشنی میں یہ واضح کیا کہ بابر، اکبر اور جہاں گیر وغیرہ نے گائے کی قربانی کو ممنوع قرار دیا تھا۔ انہوں نے مختلف علما اور دانشوران ملک و ملت کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ گو رکشا انسانوں ہی کی رکشا ہے۔
قومی یک جہتی اور اتحاد کے اس علمبردار کا نام خواجہ حسن نظامی ہے۔ جنہیں ادبی دنیا مصور فطرت کے نام سے جانتی ہے۔
خواجہ حسن نظامی (اصل نام سید علی حسن) کی پیدایش بستی حضرت نظام الدین دہلی میں 1879 میں ہوئی۔ ان کے والد حافظ سید عاشق علی نظامی تھے، والدہ سیدہ چہیتی بیگم تھیں۔ ان کا شجرہ حضرت علی مرتضیٰ سے ملتا ہے۔
خواجہ صاحب نے ابتدائی تعلیم بستی نظام الدین میں حاصل کی، ان کے اساتذہ میں مولانا اسماعیل کاندھلوی، مولانا یحیٰ کاندھلوی جیسی عظیم ہستیاں تھیں۔ انہوں نے مولانا رشید احمد گنگوہی کے مدرسہ رشیدیہ گنگوہ سے فراغت حاصل کی۔ اٹھارہ سال کی عمر میں ہی ان کی شادی سیدہ حبیب بانو سے ہوئی جو ان کے حقیقی چچا سید معشوق علی کی دختر نیک اختر تھیں۔
خواجہ حسن نظامی کا بچپن بہت تکلیفوں میں گزرا۔ ان کے والد جلد سازی کر کے اپنے گھر کا خرچ چلاتے تھے۔ خود خواجہ صاحب نے درگاہ کے زائرین کے جوتوں کی حفاظت کر کے گھر والوں کی مدد کی۔ گزراوقات کے لیے خواجہ صاحب نے پھیری لگا کر کتابیں اور دہلی کی عمارتوں کے فوٹو بھی فروخت کیے۔
خواجہ حسن نظامی کا تعلق صوفی خاندان سے تھا اس لیے انہوں نے بھی خاندانی روایت کے مطابق خواجہ غلام فرید کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت پیر مہر علی شاہ گولڈوی سے بیعت ہوئے۔ وہ درگاہ سے وابستہ تھے مگر پیرزادگی انہیں پسند نہ تھی اس لیے معاش کی دوسری راہ نکالی۔ وہ صحافت سے وابستہ ہو گئے۔ انہوں نے حلقہ نظام المشائخ قائم کیا جس کے تحت ’نظام المشایخ‘ کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا۔ اپنے ایک دوست احسان الحق کے ہفتہ وار اخبار ’توحید‘ کی ادارت کے فرائض انجام دیے۔ پھر اپنا رسالہ ’منادی‘ بھی نکالا۔
خواجہ حسن نظامی کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان کے بارے میں دشمنوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ وہ انگریزوں کے جاسوس ہیں۔ ان کے خلاف اخبارات بھی شائع کیے گئے۔ ان کے’ منادی‘ کے خلاف ہفتہ وار اخبار منادی نکالا گیا۔
خواجہ حسن نظامی نے ان مخالفتوں کی پرواہ نہیں کی اور مسلسل محنت کرتے رہے۔ اور اس محنت نے انہیں شہرت اور عظمت عطا کی انہوں نے اپنا ایک بھی لمحہ ضائع نہیں کیا۔ ہمہ وقت کتابوں کی تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے۔ ان کتابوں پر ہی ان کی آمدنی کا انحصار تھا۔ کتابوں کے کاروبار سے حلال رزق کھاتے تھے اس لئے نذر و نیاز سے دوری بنائے رکھی تھی۔ انہوں نے ایک دواخانہ بھی کھول رکھا تھا۔ جس میں دوائیاں تیار کی جاتیں۔ انہوں نے ایک اردو سرمہ بھی تیار کیا تھا جس کا اشتہار اپنے رسالہ ’منادی‘ میں دیتے ہوئے انہوں نے لکھا تھا کہ ”آج میں نے ایک سرمہ تیار کیا ہے ۔ میں نے اس سرمہ کا نام اردو سرمہ اس واسطے تجویز کیا ہے کہ اردو زبان بھی آنکھوں کو ایسا ہی روشن کرتی ہے۔“
خواجہ حسن نظامی اردو ادب کے تاریخ میں کئی حیثیتوں سے یاد رکھے جائیں گے۔ روزنامچہ کو باقاعدہ صنف کی حیثیت انہوں نے ہی دی۔ قلمی چہروں کا سلسلہ بھی انہوں نے ہی شروع کیا۔ بحیثیت صحافی ان کا نام بہت بلند ہے کہ ان کی سرپرستی اور ادارت میں سب سے زیادہ روزنامے، ہفتہ واراخبار اور ماہانہ جرائد شائع ہوئے۔ نظام المشائخ، روزنامہ رعیت، ماہانہ دین دنیا، منادی، ماہنامہ آستانہ ان تمام اخبارات و رسائل سے خواجہ حسن نظامی کی کسی نہ کسی طور پر وابستگی رہی ہے۔
خواجہ حسن نظامی ایک مؤرخ بھی تھے۔ 1857 کے انقلاب پر ان کی گہری نظر تھی۔ انہوں نے اس ضمن میں جو کتابیں لکھی ہیں وہ تاریخ کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں۔ بیگمات کے آنسو، غدر کے اخبار، غدر کے فرمان، بہادر شاہ ظفر کا مقدمہ ، غدر کی صبح و شام، محاصرہ دہلی کے خطوط ان کی نہایت اہم کتابیں ہیں۔
خواجہ حسن نظامی نے ہر موضوع پر لکھا، شاید ہی کوئی ایسا موضوع ہو جس پر ان کی کوئی تحریر نہ ملے۔ انہوں نے آپ بیتی بھی لکھی، سفرنامے بھی لکھے، سفرنامہ حجاز مصر و شام، سفرنامہ ہندوستان، سفرنامہ پاکستان، قابل ذکر کتابیں ہیں۔ ’گاندھی نامہ‘ اور ’یزید نامہ‘ بھی ان کی اہم کتابوں میں سے ہیں۔
خواجہ حسن نظامی نے انشائیے بھی لکھے۔ جھینگر کا جنازہ، گلاب تمہارا کیکر ہمارا، مرغ کی اذان، مچھر، مکھی، الّو ان کے مشہور انشائیے ہیں۔
خواجہ حسن نظامی کا اسلوب سب سے الگ تھا۔ وہ ایک صاحب طرز انشا پرداز تھے، اپنے اسلوب کے موجد بھی اور خاتم بھی۔
خواجہ حسن نظامی کا انتقال 13 جولائی 1955 میں ہوا۔ وہ بستی حضرت نظام الدین نئی دہلی میں مدفون ہیں۔


.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب