نقدونظر

اسلوب احمد انصاری

لیتھو کلر پرنٹرس، علی گڑھ
1979 | مزید
  • ذیلی عنوان

    شمارہ نمبر-001

  • معاون

    اردو آرٹس کالج، حیدرآباد

  • صفحات

    158

کتاب: تعارف

تعارف

"نقد و نظر" ایک تنقیدی، ششماہی رسالہ تھا۔ جس کے بانی و مدیر پروفیسر اسلوب احمد انصاری تھے۔ اس رسالے کا اجراء ۱۹۷۹ میں ہوا۔ یہ ایک ششماہی رسالہ تھا، جو اپریل اور اکتوبر، سال میں دو بار چھپتا تھا۔ رسالہ "نقد و نظر" کی مجلسِ ادارت میں، شمیم حنفی، زیڈ اے عثمانی، سید وقار حسین، سید امین اشرف، مقبول حسن خاں، انور صدیقی اور شافع قدوائی شامل تھے۔ یہ رسالہ بزمِ اقبال، گلفشاں، سول لائنز، دودھ پور، علی گڑھ ۲۰۲۰۰۱ سے شائع ہوتا تھا۔ ابتداء میں رسالہ "نقد و نظر" کا فی شمارہ ۱۰ روپے اور سالانہ ۱۵ روپے تھا، جو ۱۹۹۶ میں علی الترتیب ۳۰ اور ۵۰ روپیہ ہوگیا۔ تقریباً ۱۵۰ صفحات پر مشتمل یہ شمارہ مختلف النوع تنقیدی مضامین اور کتب و رسائل پر تبصروں کے لیے مخصوص تھا۔ پروفیسر اسلوب احمد انصاری، ۱۹۲۵ کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ آگے چل کر آکسفورڈ یونیورسٹی کے آنر اسکول آف انگلش لینگویج اینڈ لٹریچر سے فارغ التحصیل ہوئے۔ اس کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں انگریزی معلم کے طور پر مقرر ہوئے اور ۱۹۸۵ میں وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے۔ آپ ایک مشہور انگریزی کے پروفیسر، نقاد، ماہرتعلیم، ماہر غالبیات و اقبالیات اور شیکسپئری مطالعات میں با وثوق شخصیت تھے۔ اسلوب انصاری کی پہلی کتاب "ایرو آف انٹلیکٹ" ۱۹۶۵ میں چھپی تھی۔ اسی کتاب کی ریاستہائے متحدہ امریکا میں ۱۹۷۰ میں اشاعت ہوئی تھی۔ ان کی دوسری کتاب "ولیم بلیکز مائنر پروفیسیز" ویلز، برطانیہ کی ایڈوین میلین پریس کی جانب سے ۲۰۰۱ میں چھپی۔ اپنے انتقال سے کچھ وقت پہلے اسی اشاعتی ادارے کی جانب سے ان کی کتاب "دی ایگزسٹینشیل ڈریمٹرگی آف ولیم شیکشپئر" شائع ہوئی تھی۔ وہ ۳۴ کتابوں کے مصنف تھے۔ اس درجہ تفصیلی تعارف سے یہی بتانا مقصود ہے کہ اسلوب انصاری کی علمی شخصیت نے رسالہ "نقد و نظر" پر کیسے اثرات مرتب کیے۔ رسالہ "نقد و نظر" کی عمومی ترتیب یوں تھی، حرفے چند، تنقیدی تجزیے اور پھر کتابوں، رسائل اور دیگر ادبی نگارشات پر تبصرے۔ اسلوب احمد انصاری تو خیر منجھے ہوئے تنقید نگار تھے ہی، ان کی مجلسِ ادارت میں بھی سبھی افراد سکہ بند اور بلند پائے کے تنقید نگار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ رسالہ "نقد و نظر" کے تحت جو تجزیے اور تنقیدی مضامین شائع ہوئے، انھوں نے اس زمانے کی ادبی دنیا میں ہیجان برپا کردیا۔ اور اردو دنیا کو عملی اور متنی تنقید سے متعارف کروایا۔ "گوشۂ حرفے چند" میں اداریہ اور تین چار منتخب تنقیدی مضامین ہوتے تھے، جیسے رشید احمد صدیقی کی تخلیقی نثر، پریم چند بحیثیت افسانہ نگار، ایوانِ غزل ایک مطالعہ۔ ان مضامین میں زیادہ تر اسلوب احمد انصاری کے ہی رشحاتِ قلم ہوتے۔ اس کے بعد تنقیدی تجزیہ ہوتا جس میں کسی نام ور قلم کار کی ادبی تخلیقات کا محاسبہ کیا جاتا۔ اس سلسلے میں ایک یا دو مضامین ہی ہوتے جیسے غزل: الطاف حسین حالی، اس کے بعد تبصرہ خانہ ہوتا جس میں مختلف معاصر ادبی نوعیت کی کتابوں پر تبصرے ہوتے تھے۔ جیسے رشید احمد صدیقی کے خطوط، ادبی اصطلاحات ایک وضاحتی فرہنگ، دلی اور طبِ یونانی، لوحِ ایام وغیرہ۔ "نقد و نظر" کے تحت کچھ خاص نمبر بھی شائع ہوئے جیسے "اقبال نمبر" اور "فانی نمبر" جن میں ان کے فن و شخصیت پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ "نقد و نظر" میں شائع ہونے والے اہم نام کچھ یوں ہیں، اسلوب احمد انصاری، زیڈ اے عثمانی، سید امین اشرف، سید وقار حسین، سید مقبول حسن خاں، قاضی چھتاری، قاضی جمال حسین، شافع قدوائی، شمیم حنفی، وارث کرمانی، سید نعیم الدین، مسعود حسین خاں وغیرہ۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب