نیا سفر

راشد عزیز

قمر رئیس
2005 | مزید
  • ذیلی عنوان

    شمارہ نمبر۔004

  • معاون

    کمال احمد صدیقی

  • صفحات

    194

کتاب: تعارف

تعارف

رسالہ "نیا سفر" دہلی سے شائع ہونے والا ایک سہ ماہی مجلہ تھا۔ اس رسالے کے ایڈیٹر قمر رئیس تھے۔ بطور منیجنگ ایڈیٹر ارتضیٰ کریم نے ان کی معاونت کی۔ اس رسالے کا پہلا شمارہ جنوری تا مارچ ۱۹۹۳ میں منظرِ عام پر آیا۔ "نیا سفر" کے پہلے شمارے کی قیمت ۲۰ روپے تھی اور رجسٹری ڈاک سے سالانہ ۱۰۰ روپیہ تھا۔ "نیا رسالہ" ایک خالص ادبی رسالہ تھا۔ جس میں اصنافِ ادب جیسے نظمیں، غزلیں، افسانے، ڈرامے، انشائیے، خطوط وغیرہ کو زیادہ شمولیت حاصل تھی۔ لیکن اس سے یہ مراد نہیں کہ یہ رسالہ عصری منظرنامے پر ہونے ہلچل اور سماجی تبدیلیوں سے اغماض کرتا ہو۔ جس وقت رسالہ جاری ہوا۔ وہ فسادات اور بم دھماکوں کا دور تھا، کچھ ہی عرصہ ہوا تھا بابری مسجد کی شہادت کو۔ اس رسالے کے شماروں میں اس تعلق سے بھی تخلیقات کو پیش کیا گیا۔ اس زمانے میں شمالی امریکہ میں اردو زبان اپنے بال و پر نکال رہی تھی، اس شمارے میں ان محفلوں کا بھی ذکر ہے۔ قمر رئیس کی پیدائش جولائی ۱۹۳۲ میں شاہجہان پور، ہندوستان میں ہوئی۔ انھوں نے لکھنئو یونیورسٹی سے ایم اے اور ایل ایل بی کیا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ۱۹۵۹ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال وہ دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردو میں لیکچرر ہوئے اور پھر ریڈر، پروفیسر اور صدر شعبہ بنے۔ وہ ترقی پسند ادیبوں میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھے اور کم و بیش دو درجن کتب کے مصنف بھی تھے۔ وہ تین سال تک دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چئیرمین تھے۔ انہوں نے نہ صرف ترقی پسند ادیب کی حیثیت سے بلکہ اردو کے خادم کی حیثیت سے بھی کافی نام کمایا۔ "نیا سفر" کا شمار اس وقت اردو کے ممتاز ادبی جریدوں میں ہوتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ یہ رسالہ ماضیٔ قریب کے فن کاروں کی تخلیقات کو شائع کرتا بلکہ معاصر فن کاروں، نئے ادیبوں کی حوصلہ افزائی بھی کرنے میں یہ پیش پیش رہا۔ اس رسالے کی عمومی فہرست یوں تھی: مضامین کے تحت چار، پانچ تنقیدی مضامین، چار پانچ افسانے، کھلا خط، خود نوشت اور سفرنامہ، ڈراما، نظمیں، مشاہیر کے خطوط، غزلیں، ادبی تبصرے، اور تعارف۔ اس ترتیب میں تبدیلی کی بڑی گنجائش تھی اکثر ان میں رد و بدل کیے جاتے رہے۔ ان میں یورپی ادب کے ترجمے، کلاسیکل ادب کے گوشے، یونیورسٹی اور اکیڈمیوں میں پڑھے جانے والے مقالے، وفاتیہ اور یادیں کے عنوان سے رفتگاں کو خراج، رپورتاژ اور ادبی خبروں کو بھی جگہ دی گئی۔ رسالہ "نیا سفر" کی ضخامت بھی کوئی متعین کردہ نہیں تھی، کوئی رسالہ دو سو صفحات کا ہوتا کوئی چار سو۔ اس سے رسالے کی مزاج میں لچک تو ظاہر ہوتی ہے لیکن یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس رسالے کا ہدف کا روباری نہیں بلکہ معیاری ہے۔ "نیا سفر" کے تحت کچھ خاص نمبر بھی شائع ہوئے، جن میں جوش ملیح آبادی، مجروح سلطانپوری، علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی قابلِ ذکر ہیں۔ کچھ تو اس وجہ سے کہ ان مختصر اور جامع شماروں میں شامل مضامین ان ادباء کے اعزہ و اقارب نے لکھے ہیں، اور کچھ رسالے کے مرتبین بھی شناساؤں میں تھے، نے اس نمبروں کو دستاویزی حیثیت دی ہے۔ "نیا سفر" میں شائع ہونے والے کچھ اہم نام یوں ہیں۔ علی احمد فاطمی، لطف الرحمٰن، مشرف عالم ذوقی، کمال احمد صدیقی، قمر رئیس، جوگندر پال، حمیرا رحمٰن، تسلیم الٰہی زلفی، ارتضیٰ کریم، وارث علوی، علی سردار جعفری، زبیر رضوی، شہریار، سید امین اشرف، یوسف ناظم اور رفیعہ شبنم عابدی۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب