Nigar, Lucknow

Niyaz Fatehpuri

Qadir Ali
1953 | More Info
  • Sub Title

    Shumara Number-001,002

  • Contributor

    Anjuman Taraqqi Urdu (Hind), Delhi

  • Categories

    Magazines

  • Pages

    140

About The Book

Description

نیاز فتح پوری برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشا پرداز، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ آپ ۱۸۸۴ میں اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، مدرسہ عالیہ رامپور اور ندوۃ العلماء لکھنئو سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انھیں ۱۹۶۲ کو پدم بھوشن سے نوازا۔ پھر ۳۱ جولائی ۱۹۶۲ کو ہجرت کرکے کراچی چلے گئے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی انھیں نشانِ سپاس کے خطاب سے نوازا۔ سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ۲۴ مئی ۱۹۶۶ کو نیاز فتحپوری کا انتقال ہوا۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کی ابتدا میں "نگار" نے ہندوستان میں ایک دبستان اورتحریک کی صورت اختیار کرلی تھی اور اس کے موضوعات اور اسلوب نثر، ادب کی رومانوی تحریک کی تقویت کا باعث بنے۔ "نگار" کا پہلا شمارہ فروری ۱۹۲۲ میں آگرہ سے شائع ہوا۔ اولین شمارہ کے سرورق پر رئیس التحریر کے عنوان سے نیاز فتح پوری کا نام درج ہے. جبکہ اندرونی صفحات سے پتہ چلتا ہے کہ مخمور اکبر آبادی بھی ان کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر شامل تھے۔ "نگار" بنت عثمان ترکی کی ایک انقلابی شاعرہ تھیں۔ نیاز، ان کی انقلابی اور رومانوی شاعری سے متاثر تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کے نام پر "نگار" کا اجراء کیا۔ نیاز فتح پوری اس وقت تک افسانہ نگار کے طور پر شہرت حاصل کرچکے تھے، لیکن "نگار" ان کے سنجیدہ علمی موضوعات کا صحیح معنوں میں ترجمان ثابت ہوا۔ "نگار" میں انہوں نے اخلاق و حکمت سے لے کر علم نجوم، مذہب، ادب، سیاست، معاشرت اور جنس تک کے موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔ پہلے شمارے کے کل صفحات اسی ہیں۔ پرچہ کی ابتدا منظوم انتساب کی صورت میں ہے۔ جو نیاز فتح پوری کے اعلا شعری ذ وق اور اختراعی ذہن کی علامت ہے۔ نیاز فتحپوری کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ رسالہ نگار کو ہی شمارکیاجاتا ہے۔ جو مسلسل ۴۴ برسوں تک ہندو پاک کی سر زمین کو شاداب وسیراب کرتا رہا۔ رسالہ نگار کی عمر ہندوستان میں کافی طویل رہی۔ جب کہ پاکستان میں اس کی عمر صرف چار سال رہی۔ "نگار" کا سفر ۱۹۲۲ سے ۱۹۶۶ تک محیط ہے۔ جس میں چالیس سال ہندوستان اور چار سال پاکستان میں اس کی اشاعت ہوتی رہی۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کرنی لازمی ہے کہ آزادی تک دونوں ممالک کے لوگ نگا ر سے مستفید ہوتے رہے۔نگار نے ۱۹۶۲ تک کل ۳۶ خاص نمبر شائع کیے جن میں مومن نمبر، بہادرشاہ ظفر نمبر، غالب نمبر، اردو شاعری نمبر، مصحفی نمبر، نظیر نمبر، انتقاد نمبر، افسانہ نمبر، حسرت نمبر، داغ نمبر، اقبال نمبر وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ابتدا میں نگار کی فی پرچہ قیمت آٹھ آنہ اور سالانہ ۵ روپیہ تھی، جو بعد ازاں ۷۵ نئے پیسے فی پرچہ اور سالانہ ۱۰ روپے ہوگئی۔ یہ رسالہ بالعموم تقریباً ۸۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ "نگار" میں شائع ہونے والے اہم نام کچھ یوں ہیں: مجنوں گورکھپوری، فراق گورکھپوری، گیان چند جین، فرمان فتحپوری، سید احشام الدین، راز یزدانی، کبیر احمد جائسی، سید اعجاز حسین، خواجہ احمد فاروقی، محمد ادریس، شاد عارفی، عبادت بریلوی۔

.....Read more

About The Editor

Niyaz Fatehpuri

Among the authors and intellectuals of Urdu, Niaz Fatehpuri acquired a unique identity as he combined many disciplines with remarkable ease. He made his contributions in the multiple fields of literature, history, culture, religion, philosophy, and journalism. He was also a poet and a short story writer. Niaz edited a journal called Nigar which came to be recognized as a major Urdu periodical in the Indian subcontinent. In recognition of his services, he was conferred with the awards of Padma Bhushan in India and Nishan-e Sipaas in Pakistan.

Niaz Fatehpuri was born in the Barabanki district of Uttar Pradesh in 1884. He was given the name of Niaz Mohamad Khan by his mother and Liaqat Ali Khan by his father. He received his education at Madrasa Islamia, Fatehpur and Dar-ul-uloom Nadwat-ul Ulema, Lucknow. His father, Mohammad Ameer Khan, being a police officer, moved from place to place during his period of service which gave Niaz an occasion to interact broadly with people of intellectual bent. In the year 1900, Niaz received his training as a Sub Inspector at Moradabad but relinquished his job in 1902. From 1903 to 1905, he worked as the Head Master at Madrasa Islamia. Following this, he worked in various capacities but it was in 1922 that he launched his journal Nigar at the advice of Laam Ahmad from Agra. This journal was later published from Lucknow, Bhopal, and Karachi. In 1962, he migrated to Pakistan and spent the last four years of his life there. He suffered from cancer and breathed his last on 24 May, 1966.        
Niaz Fatehpuri has written over fifty books on a variety of subjects that constituted his intellectual make up. Some of his major books include Shair ka Anjaam, Nigaristan, Jamalistan, Shahab ki Sharguzasht, Inteqadiyaat, Mala Wama Alaih, Mazaahib-e Alam ka Taqaabuli Mutaleaa,, and Targhwwbat-e Jins.   

 

.....Read more

More From Editor

See More

Popular And Trending Magazines

See More

EXPLORE BOOKS BY

Book Categories

Books on Poetry

Magazines

Index of Books

Index of Authors

University Urdu Syllabus