نگار، لکھنؤ

نیاز فتح پوری

قادر علی
1953 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

نیاز فتح پوری برصغیر پاک و ہند کے ممتاز عقلیت پسند دانشور، شاعر، انشا پرداز، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔ آپ ۱۸۸۴ میں اترپردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ مدرسہ اسلامیہ فتح پور، مدرسہ عالیہ رامپور اور ندوۃ العلماء لکھنئو سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انھیں ۱۹۶۲ کو پدم بھوشن سے نوازا۔ پھر ۳۱ جولائی ۱۹۶۲ کو ہجرت کرکے کراچی چلے گئے۔ حکومتِ پاکستان نے بھی انھیں نشانِ سپاس کے خطاب سے نوازا۔ سرطان کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد ۲۴ مئی ۱۹۶۶ کو نیاز فتحپوری کا انتقال ہوا۔ بیسویں صدی کی دوسری دہائی کی ابتدا میں "نگار" نے ہندوستان میں ایک دبستان اورتحریک کی صورت اختیار کرلی تھی اور اس کے موضوعات اور اسلوب نثر، ادب کی رومانوی تحریک کی تقویت کا باعث بنے۔ "نگار" کا پہلا شمارہ فروری ۱۹۲۲ میں آگرہ سے شائع ہوا۔ اولین شمارہ کے سرورق پر رئیس التحریر کے عنوان سے نیاز فتح پوری کا نام درج ہے. جبکہ اندرونی صفحات سے پتہ چلتا ہے کہ مخمور اکبر آبادی بھی ان کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر شامل تھے۔ "نگار" بنت عثمان ترکی کی ایک انقلابی شاعرہ تھیں۔ نیاز، ان کی انقلابی اور رومانوی شاعری سے متاثر تھے۔ اس لئے انہوں نے ان کے نام پر "نگار" کا اجراء کیا۔ نیاز فتح پوری اس وقت تک افسانہ نگار کے طور پر شہرت حاصل کرچکے تھے، لیکن "نگار" ان کے سنجیدہ علمی موضوعات کا صحیح معنوں میں ترجمان ثابت ہوا۔ "نگار" میں انہوں نے اخلاق و حکمت سے لے کر علم نجوم، مذہب، ادب، سیاست، معاشرت اور جنس تک کے موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔ پہلے شمارے کے کل صفحات اسی ہیں۔ پرچہ کی ابتدا منظوم انتساب کی صورت میں ہے۔ جو نیاز فتح پوری کے اعلا شعری ذ وق اور اختراعی ذہن کی علامت ہے۔ نیاز فتحپوری کی زندگی کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ رسالہ نگار کو ہی شمارکیاجاتا ہے۔ جو مسلسل ۴۴ برسوں تک ہندو پاک کی سر زمین کو شاداب وسیراب کرتا رہا۔ رسالہ نگار کی عمر ہندوستان میں کافی طویل رہی۔ جب کہ پاکستان میں اس کی عمر صرف چار سال رہی۔ "نگار" کا سفر ۱۹۲۲ سے ۱۹۶۶ تک محیط ہے۔ جس میں چالیس سال ہندوستان اور چار سال پاکستان میں اس کی اشاعت ہوتی رہی۔ لیکن یہ بات ذہن نشین کرنی لازمی ہے کہ آزادی تک دونوں ممالک کے لوگ نگا ر سے مستفید ہوتے رہے۔نگار نے ۱۹۶۲ تک کل ۳۶ خاص نمبر شائع کیے جن میں مومن نمبر، بہادرشاہ ظفر نمبر، غالب نمبر، اردو شاعری نمبر، مصحفی نمبر، نظیر نمبر، انتقاد نمبر، افسانہ نمبر، حسرت نمبر، داغ نمبر، اقبال نمبر وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ابتدا میں نگار کی فی پرچہ قیمت آٹھ آنہ اور سالانہ ۵ روپیہ تھی، جو بعد ازاں ۷۵ نئے پیسے فی پرچہ اور سالانہ ۱۰ روپے ہوگئی۔ یہ رسالہ بالعموم تقریباً ۸۰ صفحات پر مشتمل تھا۔ "نگار" میں شائع ہونے والے اہم نام کچھ یوں ہیں: مجنوں گورکھپوری، فراق گورکھپوری، گیان چند جین، فرمان فتحپوری، سید احشام الدین، راز یزدانی، کبیر احمد جائسی، سید اعجاز حسین، خواجہ احمد فاروقی، محمد ادریس، شاد عارفی، عبادت بریلوی۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر: تعارف

نیاز فتح پوری

نیاز فتح پوری

ادب، مذہب اورعورت کی تثلیث کا ملحد عبادت گزار

’’اُن (نیاز فتحپوری) کی ذات کے احاطہ میں اتنے خلّاقی کے شہر آباد ہیں، اتنے شعور کے لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں اور رامش و رنگ کی اتنی بےشمار براتیں اُتری ہوئی ہیں کہ بیساختہ جی چاہتا ہے کہ اُن کو کلیجہ سے لگا لوں۔‘‘
جوشؔ ملیح آبادی

نیاز فتحپوری بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، نقّاد، محقق، مفکّر، عالم دین، ماہر نفسیات، صحافی، مترجم اورعقلیت پسند مجاہد قلم تھے جن کی عبقری شخصیت میں علم کے کتنے ہی سمندر موجزن تھے۔ ان کی تحریریں ہزاروں صفحات پر اتنے گوناگوں ادبی وعلمی موضوعا ت پر پھیلی ہوئی ہیں کہ اس حوالہ سے اردو میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ نیاز فتحپوری کا شمار دور اوّل کے ان چند افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو زبان میں مختصر افسانے کو متعارف کرایا اور بڑے تواتر کے ساتھ کہانیاں لکھیں۔ ان کا پہلا افسانہ ’’اک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر‘‘ 1915 میں چھپا تھا۔ ان سے  چند سال پہلے راشد الخیری، سجّاد حیدر یلدرم اور پریم چند نے چند کہانیاں لکھی تھیں۔ لیکن عام طور پر نقّاد اس بات پرمتفق ہیں کہ نیاز کے افسانوں سے ہی اردو میں رومانی تحریک کا آغاز ہوا۔ لیکن نیازصرف افسانہ نگار یا شاعر نہیں تھے۔ ان کی ادبی اورعلمی سرگرمیوں کا میدان بہت وسیع تھا جس کا تقاضہ تھا وہ اک ایسا جامع رسالہ نکالیں جس کے ذریعہ وہ اپنے علم کے اتھاہ گہرے پانیوں سے تشنگان علم و ادب کو جرعہ جرعہ سیراب کرتے رہیں چنانچہ انھوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے ’’نگار‘‘ نکالا۔

نیاز اک ایسے دور کے پروردہ تھے کہ جب مشرقی علوم دم توڑ رہے تھے۔ انھوں نے ’’نگار‘‘ کو  ایسا رسالہ بنایا جو خاص ادبی روایت کا پاسدار ہونے کے ساتھ ساتھ مشرق اور مغرب کی تفریق مٹانے کا سبب بنا۔ بقول فرمان فتحپوری نگار اور نیاز دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ نگار جسم ہے تو نیاز اس کی روح ہیں، نگار اک روایت ہے تو نیاز اس کے بانی ہیں۔ نیاز نے نگار کو جنم دیا ہے  تو نگار نے نیاز کو حیات ابدی بخشی ہے۔ مجاز اور سبط حسن نے اک نجی گفتگو میں اعتراف کیا کہ ’’ہماری ذہنی تعمیر نگار  کے مطالعہ سے ہوئی۔‘‘ اور جمیل مظہری نے کہا ’’نگار پڑھ پڑھ کر ہمیں لکھنا آیا۔‘‘ مجنوں گورکھپوری  کا کہنا تھا ’’جب ہم  نگار کا اداریہ یعنی  نیاز کے ’’ملاحظات‘‘ پڑھتے ہیں تو موضوع سے زیادہ نیاز کا اسلوب تحریر ہم کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر محمد احسن فاروقی کے مطابق اونچے طبقہ میں صاحب علم اور صاحب ذوق ہونے  کی پہچان یہ تھی کہ ’’نگار‘‘ کا خریدار ہو اور نیاز صاحب  کی رایوں پر بحث  کر سکتا ہو۔ ’’نگار‘‘ اک ادبی جریدہ نہیں اک ادارہ، اک رجحان اور اک قدر تھا۔ نگار کا نام ندوۃ العماء، سلطان المدارس اور لکھنؤ یونیورسٹی کے ساتھ لیا جاتا تھا اور ’’نگار‘‘ میں مضمون چھپ جانا ایسا ہی تھا جیسے کہ ان علمی اداروں سے سند مل جائے۔

نیاز فتحپوری کا اصل نام: نیازمحمد خان اور تاریخی نام: لیاقت علی خاں تھا۔ وہ 1884ء میں بارہ بنکی ضلع کی تحصیل رام سنیہی گھاٹ میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد امیر خاں بطور پولیس انسپکٹر تعینات تھے۔ امیر خان اچھے ادبی ذوق کے مالک تھے اور ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ نیاز نے ابتدائی تعلیم  فتحپور، ندوہ اور رامپور کے مدارس میں حاصل کی۔ مدرسوں میں وہ درس نظامی پڑھتے تھے لیکن گھر پر ان کے والد ان کو فارسی پڑھاتے تھے اور وہ بھی فارسی کی ابتدائی کتابیں نہیں، بلکہ مینا بازار، پنج رقعہ، شاہنامہ اور دیوان اور دفاتر ابوالفضل وغیرہ۔ گھر میں نیاز کا دوسرا مشغلہ غیر مذہبی کتابوں کا مطالعہ تھا جو مدرسہ کے ان کے استادوں کو سخت ناپسند تھا۔ مذہبی طریق تعلیم کی طرف سے نیاز کی بے اطمینانی کم عمری سے ہی شروع ہو گئی تھی وہ  دینی معاملات میں اپنے اساتذہ سے بحث کرتے تھے۔ مذہبی امور میں اساتذہ کی مقلّدانہ کور عقلی اور بچوں کے ساتھ ان کی مار پیٹ ایسی باتیں تھیں جنھوں نے نیاز کو مروجہ مذہبی تعلیم سے متنفر کر دیا۔ آگے چل کر انھوں نے لکھا ’’میں اس کمسنی میں بھی بار بار سوچا کرتا تھا اگر عبادت اور مذہبی تعلیم کا صحیح نتیجہ یہی ہے تو مذہب اور مذہبیت کوئی معقول چیز نہیں۔‘‘ میٹرک پاس کرنے کے بعد نیاز پولیس میں بھرتی ہو گئے اور1901ء میں ان کا تقرر بطور سب انسپکٹر الہ آباد کے تھانہ ہنڈیا میں ہوگیا۔ تقریباً ایک سال ملازمت کرنے کے بعد نیاز نے استعفیٰ دے دیا اور اس کے بعد انھوں نے اس وقت کی برائے نام آزاد چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں مختلف چھوٹے بڑے عہدوں پر ملازمتیں کیں، تدریس کا کام کیا یا پھر اخبارات سے وابستہ رہے۔ وہ 1910ء میں  زمیندار اخبار سے وابستہ ہوئے،1911ء میں ہفتہ وار ’’توحید‘‘  کے نائب مدیر مقرر ہوئے، 1913ء میں ہفت روزہ ‘‘خطیب‘‘ کے قلمی معاون رہے، اور 1919ء میں اخبار ’’رعیت‘‘ کے مدیر اعلی بنے۔ اس عرصہ میں ان کی ادبی اور علمی سرگرمیاں جاری رہیں اور انھوں نے اپنی  شاعری، افسانوں اور علمی مضامین کی بدولت با ذوق علمی وادبی حلقوں میں شہرت حاصل کر لی۔ 1914ء میں حکیم اجمل خان نے ان کو اپنے قائم کردہ انگریزی اسکول میں ہیڈ ماسٹر مقرر کر دیا۔ اس زمانہ کے بارے میں ’’خطیب‘‘ کے مالک اور اڈیٹر ملّا واحدی کہتے ہیں ’’نیاز صاحب  حکیم اجمل خان کے اسکول کی ہیڈ ماسٹری  کے علاوہ خطیب میں ادبی و مذہبی مضامین بھی لکھتے تھے 1914ء میں ان کی مذہبی تحریریں ادبی تحریروں کی طرح پسند کی جاتی تھیں۔ اس زمانے میں نیاز نماز کے پابند تھے۔ لیکن تقریباً روزانہ دونوں سنیما دیکھنے جاتے تھے نیاز فلم دیکھ کر ایک مضمون ضرور لکھتے تھے۔ ان کا ’’کیوپڈ اور سائکی‘‘ ناولٹ  کسی فلم سے متاثر ہو کر لکھا گیا تھا۔‘‘ نیاز اردو، فارسی اور عربی میں بھی شعر کہتے تھے۔1913ء میں ان کی نظمیں ’’شہر آشوب اسلام‘‘ اور ’’بت خانہ‘‘ الہلال اور ’’نقّاد‘‘ میں شائع ہوئی تھیں۔ شاعری  گاہے بہ گاہے دوسروں کو سنانے کے لئے کرتے تھے۔ ان کا کوئی مجموعۂ کلام شائع نہیں ہوا۔ ان کو جو شاعری کرنی تھی وہ انھوں نے اپنی نثر میں کی۔

نیاز نے باہر سے اپنے آپ پر سنجیدگی کا خول چڑھا رکھا تھا کیونکہ وہ ان کی مذہبی وعلمی شخصیت کے لئے ضروری تھا لیکن اندر سے عورت ان کی بہت بڑی کمزوری تھی۔ عنفوان شباب میں جب وہ اپنے والد کے ساتھ لکھنؤ میں تھے، ان کے والد نے ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ وہ بالا خانوں پر جانے  کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے تاکہ نیاز ان سے تہذیب واداب سیکھیں۔ نیاز کی وادیٔ عشق و جنوں میں لکھنؤ کے علاوہ الہ آباد، مسوری، سرینگر، ہانسی، بھوپال، رامپور اور کلکتہ شامل ہیں۔ ان کا اپنا بیان ہے ’’اچھی صورت اور اچھی آواز میری کمزوری تھی جو ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔ اس نے میری زندگی کو رنگینی بھی بخشی اور داغدار بھی کیا۔ ان مقامات میں، میں اور میرا ذوق ادب عورت سے کس طرح متاثر ہوا اور اس میں کیا تدریجی تبدیلیاں پیدا ہوئیں، طویل داستان ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص میرے افسانوں کے مجموعوں کا مطالعہ کرے تو اس کو کچھ اندازہ اس حقیقت کا ہو سکتا ہے۔‘‘ نیاز کی حسن پرستی ان کی انشائیہ تحریروں  میں کھل کر سامنے آتی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں ’’راجپوتوں کی لڑکیاں ہیں، بلند و بالا، صحیح و توانا، تیوریاں چڑھی ہوئ، گردنیں تنی ہوئی، آنکھوں میں تیر، مانگوں میں عبیر، ابروؤں میں خنجر بالوں میں عنبر، ہاتھوں میں مہندی، ماتھے پر بندی، اب کیا کہوں کیا چیز ہیں۔‘‘ نیاز نے تین شادیاں کیں لیکن ان میں کہیں معاشقہ کو دخل نہیں تھا۔ وہ شادی کو عشق کی موت قرار دیتے تھے۔

1915ء میں نیاز اپنے عقیدتمندوں کی درخواست پر بھوپال چلے گئے جہاں وہ پہلے پولیس میں اور پھر محکمۂ تاریخ میں کام کرتے رہے۔ اس محکمے میں ان کو لکھنے پڑھنے کی زیادہ فرصت ملی اور یہیں انھوں نے ’’تاریخ الدولتین‘‘، ’’مصطفیٰ کمال پاشا‘‘، اور ’’تاریخ اسلام۔۔۔ابتدا سے حملۂ تیمور تک‘‘ لکھیں۔ ’’صحابیات‘‘ قمر الحسن کی تصنیف ہے لیکن نیاز کے طویل دیباچہ کے طفیل اسے بھی نیاز کی کتابوں میں گنا جاتا ہے۔ بھوپال میں قیام کے دوران ہی  نیاز نے ’’نگار‘‘ جاری کیا۔ وہ ترکی شاعرہ نگار بنت عثمان سے بہت متاثر تھے۔ 1927ء میں ان کو بھوپال چھوڑنا پڑا کیونکہ انھوں نے محل کی داخلی سیاست پر اظہار خیال شروع کر دیا تھا اورریاست کے کچھ وزیر  نیاز کی تحریروں سے حوالہ سے ا ن کو دہریہ بھی قرار دیتے تھے۔ 1927 میں وہ لکھنؤ آگئے  جہاں انھیں اپنے خیالات کے اظہار کی زیادہ آزادی تھی۔ ’’نگار‘‘ کا یہی عہد زرّیں تھا۔ 1962ء میں حکومت ہند نے ان کی علمی و تدریسی خدمات کے لئے ان کو ’’پدم بھوشن‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ لیکن اسی سال وہ ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے جس کا سیاست یا قومیت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ ان کے کچھ سنگین گھریلو مسائل تھے۔ وہ پاکستان میں بھی ’’نگار‘‘ نکالتے رہے لیکن ان کو وہاں وہ آزادی میسر نہیں تھی جو ہندوستان میں تھی۔ 24 مئی 1966ء کو کراچی میں کینسر کے مرض میں ان کا انتقال ہوا۔

نیاز نے ایک طرف مذہبی اور ادبی موضوعات پر کتابیں لکھیں تو دوسری طرف ’’فراست الید‘‘ (پامسٹری) اور ’’ترغیبات جنسی‘‘ جیسے موضوعات پر بھی ضخیم کتابیں لکھیں۔ انھوں نے نگار کے قرآن نمبر، خدا نمبر، وغیرہ شائع کئے تو دوسری طرف داغ نمبر، نظیرنمبر، مومن نمبر وغیرہ مختلف شاعروں پر خاص نمبر شائع کئے۔ بطور نقّاد وہ ضدی اور ہٹ دھرم تھے مومن کو غالب سے بڑا شاعراور علی اختر حیدرآبادی کو جوشؔ سے بہتر شاعر کہتے تھے۔ اصغر اور جگر کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ اور انھیں گھٹیا شاعر کہتے تھے۔ بہرحال اپنی مستقل تصانیف کے علاوہ نیاز صاحب نے نگار کے ذریعہ اردو کو متموّل بنایا۔ تقلید پرستی نے لوگوں کی آنکھوں پر جو جالے  پرو رکھے تھے ان کی صفائی میں نیاز صاحب کی تحریروں نے حیرت انگیز کام کیا۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب