اودھ پنچ

احمد جمال پاشا

| مزید
  • ذیلی عنوان

    کنہیا لال کپور نمبر: شمارہ نمبر-012

  • معاون

    سینٹرل لائبریری آف الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد

  • موضوعات

    رساله

  • صفحات

    148

کتاب: تعارف

تعارف

رسالہ اودھ پنچ "لندن پنچ" کی طرز پر اردو کا ایک مزاحیہ ہفت روزہ تھا، جسے منشی سجاد حسین نے۱۶ جنوری ۱۸۷۷ میں لکھنئو سے جاری کیا۔ یہ اخبار سیاست کو ظرافت کا جامہ پہنا کر پیش کرتا تھا۔ مرزا محمد مرتضٰی عرف مچھو بیگ عاشق جن کا قلمی نام ستم ظریف تھا، ۳۳ برس تک اس میں مزاحیہ مضامین لکھتے رہے۔ نواب سید محمد آزاد، اکبرالٰہ آبادی، پنڈت تربھون ناتھ، منشی جوالا پرشاد برق، منشی احمد علی شوق، منشی احمد علی کسمنڈوی جیسے اہل قلم ادارت تحریر سے منسلک رہے۔ یہ اخبار ہندو مسلم اتحاد اور انڈین نیشنل کانگرس کا مؤید، مغربی تہذیب کا مخالف اور مشرقی اقدار کا علمبردار تھا۔ مزاحیہ کارٹون اور نظمیں کثرت سے شائع ہوتی تھیں۔ اودھ پنچ چھتیس برس کی مسلسل اشاعت کے بعد منشی سجاد حسین کی زندگی ہی میں ۱۹دسمبر ۱۹۱۲ میں بند ہو گیا۔ دو سال بعد اس رسالے کو حکیم ممتاز حسین عثمانی نے دوبارہ جاری کیا، "اودھ پنچ" دوبارہ تو ویسے نہیں چل سکا لیکن حکیم صاحب کی محنت سے یہ پرچہ جیسے تیسے چلتا رہا، ۱۹۳۳ میں حکیم صاحب کی رحلت کے بعد ایک سال تک ان کے صاحب زادے نے اس پرچے کو نکالا اور پھر وہ بھی عین جوانی میں انتقال کر گئے۔ "اودھ پنچ" کا ابتدائی دور ظنز و مزاح کا لطیف اور شائستہ دور تھا، بعد ازاں اور گاہے گاہے اس میں رکاکت، ابتذال، پھبتیاں اور ذاتیات کو نشانہ بنانا جیسے عناصر بھی شامل ہوتے گئے۔ ڈاکٹر خورشید اسلام لکھتے ہیں کہ "بحیثیتِ مجموعی اودھ پنچ کی ظرافت میں گہرائی اور گیرائی کی کمی ہے لیکن اس میں زمانے کی پابندیوں اور مجبوریوں کو ذہن سے محو نہیں کردینا چاہیے، اودھ پنچ کی ظرافت ثقیل ہے مگر نمک سے خالی نہیں، کہیں کہیں عریاں ہے مگر پھر بھی ناگوار نہیں ہوتی، الفاظ کی بازی گری ہے مگر اس میں فطری روانی بھی ہے، وہ قہقہوں سے فروغ پاتی ہے مگر بد سلیقہ نہیں۔" یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ "اودھ پنچ" ابتدا سے انجام تک ایک ہی طرز پر چھپتا رہا، سرورق پر اسکیچ کی ایک گنجلک تصویر ہوتی جس میں نام، جلد و شمارہ نمبر، ناشر کی معلومات، قیمت وغیرہ ہوتی۔ اندرونی صفحے پر اودھ پنچ کے مینیجر کی اشاعت و خریداری وغیرہ کے متعلق اطلاعات و گزارشات ہوتیں، جن کا لب لباب ہوتا: پیشگی رقم کا مطالبہ، وی پی کے ذریعے نہ بھیجا جانا، نمونے کے طور پر پرچہ نہ بھیجنا، طالب علموں کے لیے رعایتیں اور مزید خریدار بنانے کی اپیل۔ اس کے بعد آئندہ دس صفحات پر مضامین، خبریں، تبصرے اور دیگر چیزیں ہوتیں۔ مختصر سا پرچہ، فہرست کی کیا ضرورت! البتہ یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ مدیر اور دوسری ادارتی ذمہ داریوں پر فائز لوگوں کو پرچے پر ظاہر نہیں کیا جاتا تھا۔ "اودھ پنچ" طنز و مزاح کا پرچہ تھا لوگ اپنے اصل نام کے علاوہ مضحکہ خیز ناموں سے بھی نگارشات لکھا کرتے تھے، چناںچہ بہت سے ادیب اس گمنامی کی تاریکی میں گم ہوگئے۔ "اودھ پنچ" کے قلمکار سرسیّد اور ان کی تحریک کے شروع دن سے ہی سخت مخالف تھے۔ سرسیّد کے نظریات ان کو چین نہ لینے دیتے اور اس کے مخالف تحاریر، نثر و نظم کی صورت میں بڑھ چڑھ کر سامنے آتی تھیں۔ ایسی تحریروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ سرسید اور ان کی تحریک کے خلاف پرچار کرنا "اودھ پنچ" کا مشن تھا۔ سرسیّد کے ساتھی بھی اس مخالفت کا خوب نشانہ بنتے اور ان پر انتہائی رکیک حملے کیے جاتے، جو کسی بھی لحاظ سے تہذیب کے دائرے میں نہیں آتے، بلکہ یہ توہین کا ایک انداز تھا۔ "اودھ پنچ" کے اہم طناز شاعر اکبر الہٰ آبادی، سرسیّد پر تلخ و ترش ظریفانہ حملے کرنے والوں کے گروہ میں پیش پیش رہے۔ اس کے علاوہ "اودھ پنچ" کے موضوعات میں انگریزی تعلیم و تمدن کا مذاق اور مشرقی تہذیب و تمدن کی حمایت مستقل تھی۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب