قصائد و قطعات تاریخ

جلیل مانک پوری

ادارۂ تحقیقات اردو، پٹنہ
1995 | مزید

مصنف: تعارف

جلیل مانک پوری

جلیل مانک پوری

روحانی معتقدات کے ساتھ ساتھ انسان کے لئے جو سب سے پرکشش چیز شروع سے چلی آرہی ہے وہ ہے حسن کی جلوہ نمائی کی خواہش دیدار۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جب کوہ طور پر حسن ازلی کو نور کی شکل میں دیکھا تو بے ہوش ہوگئے۔ ہمارے شاعروں میں میر تقی میرؔ نے یہ دیکھا کہ حسن مجسم جب بزم میں آیا تو ایسی مستی کا عالم طاری ہوا کہ ان کی نگاہیں رخ پر بکھر بکھر گئیں اور ایک نقاب کا کام کرنے لگیں نظارہ نہ ہوسکا۔ حضرت داغؔ نے رخ روشن اور شمع کے حسن و نور کا انتخاب پروانے پر چھوڑ دیا خود کچھ فیصلہ نہ کرسکے۔ ان کے بعد حضرت جلیلؔ نے حسن کی جلوہ گاہ کو دیکھ کر یہ محسوس کیا کہ نہ تو نگاہیں برق ہیں اور نہ ہی چہرہ آفتاب ہے لیکن خود ان میں دیکھنے کی تاب اور قوت برداشت نہیں ہے باوجود اس کے کہ حسن انسانی شکل میں ہے۔

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جلیلؔ کے شعر میں ’’آدمی‘‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جب کہ پچھلے شاعروں کے اشعار میں ایسا نہیں ہے یہی کلیدی لفظ اس شعر کا حسن ہے اور اسی لیے اسے قبول عام کی سند ملی ہے۔ اگر یہ مصرع یوں ہوتا کہ

نہ جانے کیا ہے جسے دیکھنے کی تاب نہیں

تو شعر کا مضمون معمولی سا ہوجاتا۔ اس حسین شعر کے خالق جناب جلیلؔ مانکپوری کا مزید تعارف یہ ہے۔

جلیلؔ حسن 1862ء میں قصبہ مانک پور (ضلع پرتاب گڑھ۔ اترپردیش) میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادا کا نام عبدالرحیم اور والد کا نام عبدالکریم تھا۔ یہ نہ معلوم ہوسکا کہ ان کے اجداد مانک پور میں کب اور کہاں سے آ کر آباد ہوئے تھے۔ مانک پور کے محلہ سلطان پور میں ان کا آبائی مکان تھا جس سے متصل ایک مسجد میں حافظ عبدالکریم مانک پور کے رئیسوں اور زمینداروں کے بچوں کو قرآن شریف اور دینیات کی تعلیم دیتے تھے۔ جلیل حسن، عبدالکریم کی زوجہ ثانیہ کے بڑے بیٹے تھے۔ یہ سب 9بھائی بہن تھے۔ جلیل نے ابتدائی تعلیم مانک پور میں ہی اپنے والد سے حاصل کی۔ بارہ برس کی سن میں پورا قرآن شریف حفظ کر لیا۔ رواج کے مطابق فارسی اور عربی علوم اور فنون کی تعلیم مکمل کرتے رہے اور یہ سلسلہ بیس برس کی عمر تک جاری رہا۔ اس کے بعد آگے کی تعلیم کے لئے وہ لکھنؤ آگئے اور وہاں کے مشہور و معروف مدرسہ فرنگی محل میں داخلہ لیا۔ مولانا عبدالحلیم اور مولانا عبدالعلی جیسے قابل اساتذہ کی نگرانی میں عربی فارسی صرف و نحو، معقولات اور منقولات (منطق اور دیگر علوم)کا درس مکمل کر کے مانک پور واپس آگئے۔ شعر و شاعری کا شوق ابتدائے عمر سے تھا جس کو لکھنؤ کے ادبی ماحول نے اور ابھار دیا۔ خود مانک پور میں بھی اہل ذوق حضرات کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ جلیل کے بڑے بھائی حافظ خلیل حسن خلیلؔ بھی اچھے شاعر تھے۔ ان کی صحبت میں رہ کر جلیلؔ نے بھی غزل کہنا شروع کردی۔ والدین اور اہل خاندان نے کبھی ان کی شعری سرگرمیوں پر اعتراض نہیں کیا۔ یہ دونوں بھائی مانک پور کے راجہ تعیش حسین کے مشاعروں میں بھی شرکت کرنے لگے اور آس پاس کے مشاعروں میں مدعو کئے جانے لگے کیوں کہ ان کا کلام پسند کیا جاتا تھا۔ قیام لکھنؤ کے دوران جلیلؔ کا تعارف امیر احمد مینائی سے ہوچکا تھا۔ جلیلؔ اور خلیلؔ نے مشترکہ عریضہ امیرؔ مینائی کو لکھا کہ وہ ان کی شاگردی میں آنا چاہتے ہیں۔ امیرؔ مینائی نے یہ عرض قبول کر لی۔ وہ ان دنوں رامپور میں تھے جہاں امیر اللغات کی تالیف کا کام جاری تھا۔ جلیلؔ سے مراسلت کا سلسلہ زیادہ دن نہیں چلا بلکہ نہایت اصرار سے امیرؔ مینائی نے جلیلؔ کو رامپور بلا لیا اور امیر اللغات کے دفتر کا معتمد بنا دیا۔

یہ 1887ء کا زمانہ تھا۔ رامپور میں نواب حامد علی خاں والیٔ ریاست تھے جو اب شعرا کا مرجع ہوگیا تھا کیوں کہ دہلی اور پھر لکھنؤ کے مراکز ختم ہوگئے تھے۔ رامپور کا یہ نیا ادبی سنگم دہلی اور لکھنؤ کے دبستانوں سے ل کر بنا تھا۔ رامپور میں 17 برس تک جلیل پر امیرؔمینائی کی نوازشیں جاریرہیں۔ انہوں نے ضعیف العمری میں اصلاح سخن کا کام بھی جلیلؔ کے سپرد کردیا تھا۔ امیراللغات سے متعلق تمام امور تو جلیل دیکھتے ہی تھے۔ رامپور کے مالی حالات درست نہ تھے اس لیے جو رقم امیر اللغات کے لئے مختص تھی وہ داخل دفتر ہوگئی۔ لغت کے کام کو جاری رکھنے کے لئے امیرؔ مینائی کی نظریں بھوپال اور حیدر آباد کے سربراہان مملک کی طرف گئیں۔ اس کام کے لئے جلیلؔ بھوپال گئے مگر کام نہ بنا۔ 1899ء میں نظام سادس کلکتہ آئے تھے۔ ان کی واپسی براہ  بنارس ہوئی تو امیرؔ مینائی ان سے ملنے جلیلؔ کے ساتھ بنارس گئے۔ نظام سے باریابی کے بعد یہ طے ہوا کہ امیرؔ مینائی حیدر آباد آجائیں تو کام بن سکتا ہے۔ چنانچہ 1900ء میں امیرؔ مینائی اپنے وہ فرزندوں اور جلیلؔ کے ہمراہ حیدرآباد پہنچے اور حضرت داغؔ دہلوی کے مہمان ہوئے جو ان دنوں استاد شاہ تھے۔ پھر قریب ہی مکان کرایہ پر لے کر وہاں رہنے لگے۔ ابھی سرکار میں باریابی بھی نہیں ہوئی تھی کہ امیرؔ مینائی بیمار پڑگئے۔ باوجود علاج معالجہ کے افاقہ نہ ہوا وہ 5ہفتہ بیمار رہ کر وفات پاگئے اور درگاہ یوسفین میں مدفون ہوئے۔ جو لوگ شاعری کے سلسلے میں امیرؔ مینائی سے وابستہ تھے اب ان کے مرجع جلیلؔ بن گئے کیوں کہ ان کے لائق تلامذہ میں یہی سب سے ممتاز تھے۔ حیدرآباد کے ابراہیم خاں کے ہاں جو مشاعرہ ہوتا تھا اس کی طرح نظام سادس دیا کرتے تھے۔ چنانچہ جب اس مشاعرے میں جلیلؔ نے اپنی طرحی غزل پڑھی تو ان کو بے حد داد ملی اور اس کا مطلع تو گویا ان کی پہچان بن گیا:

نگاہ برق نہیں چہرہ آفتاب نہیں
وہ آدمی ہے مگر دیکھنے کی تاب نہیں

جب مشاعرہ کی رپورٹ نظام کے ملاحظے میں آئی تو انہوں نے بھی بہت سراہا۔ داغؔ دہلوی اور نظمؔ طباطبائی اور مہاراجہ کشن پرشاد ان کے مداحوں میں شامل تھے۔ جلیلؔ کا حیدرآباد میں قیام کا مقصد دربار تک رسائی حاصل کرنا تھا یہ کام مہاراجہ کے ذریعہ ممکن تھا۔ مہاراجہ جب شاہ دکن کے ساتھ ایڈورڈ ہفتم کے جشن تاج پوشی میں دہلی گئے تو ان کے ہمراہ جلیلؔ بھی تھے۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ اس کے بعد جب حیدر آباد میں مہاراجہ نے مشاعرہ بسلسلہ تقریب سلور جبلی نظام منعقد کیا تو وہاں بھی جلیلؔ کا کلام مشاعرے کے بعد نظام نے بہ نفس نفیس پاس بلا کر سنا اور داد دی۔ لیکن کوئی مستقل صورت نہیں پیدا ہوئی۔ 9برس تک ایسی ہی آویزش کا زمانہ رہا۔ آخر کسی شہزادے کی بسم اللہ کی تقریب میں نظام کو اپنے کلام پر اصلاح کی ضرورت ہوئی تو انہوں نے مہاراجہ کی وساطت سے جلیلؔ کو طلب کیا۔ چوں کہ داغؔ کا انتقال ہوچکا تھا۔ اس لئے جلیل کو استاد شاہ کا عہدہ بذریعہ فرمان 16شوال 1327 ھ (1909)عطا کیا گیا بعد کو انہیں مصاحبین میں شامل کر لیا گیا اور داغؔ کی جگہ کو پُر کیا گیا۔

1911ء میں نظام سادس کا انتقال ہوگیا۔ اسی سال جارج پنجم کی تاج پوشی کا جشن دہلی میں ہوا تو جلیلؔ بھی نظام سابع میر عثمان علی خاں کے ساتھ دہلی گئے لیکن کوئی بات نہ ہوسکی۔ نظام سابع کی تخت نشینی کے موقع پر عام دربار میں جب اکابرین سلطنت کے ساتھ جلیلؔ نے بھی نذر گزرانی تو نظام نے کنگ کوٹھی پر حاضر ہونے کے لئے کہا۔ اس کے بعد کنگ کوٹھی پر دیر مصاحبوں کے ساتھ جلیلؔ کی بھی حاضری ہونے لگی۔ شاعری کا اوڑھنا بچھونا ہوگئی۔

جلیلؔ نے ایک طویل جدوجہد کے بعد فراغت کی من پسند زندگی گزاری اور یہ سلسلہ 35 برس تک چلتا رہا۔ اب عمر بھی اسی سال سے تجاوز کر چکی تھی۔ آخر عمر میں ضعف دماغ اور رعشہ کی شکایت شروع ہوگئی۔ شاہی طبیبوں نے اور ڈاکٹروں نے علاج کیا لیکن بلڈپریشر کی شکایت بڑھتی گئی۔ آخر دو دن کوما میں رہنے کے بعد 6 جنوری 1946ء  کو رحلت فرمائی اور خطہ صالحین درگاہ یوسفین میں مدفون ہوئے۔ نظام نے تاریخ نکالی ’’دکن گفت آہ استاد جلیلے‘‘ (1365ھ)جلیلؔ کو نظام سادس نے ’’فصاحت جنگ‘‘ اور ’’امام الفن‘‘ کے خطابات عطا کیے تھے۔

جلیلؔ ایک درویش صفت عابد و مرتاض تھے اور متوسط قامت،چھریرے بدن، رنگ گندمی باریش چہرہ کے مالک تھے۔ قدیم وضع کے لکھنوی پٹے رکھتے تھے اور سر پر خاص وضع کی سیاہ مخملی ٹوپی، شیروانی اور سلیم شاہی جوتا پہنتے تھے۔ آنکھوں میں گہرا سرمہ لگاتے تھے اور پان نوشی سے ہونٹ سرخ رہتے تھے۔ سرکار تقاریب میں سفید دستار اور کمر میں بکلوس اور ڈنریا بینکوٹ میں شکرت کے وقت انگریزی لباس زیب تن کرتے تھے۔

ان کے مجموعۂ کلام تاج سخن، جان سخن اور روح سخن کے نام سے شائع ہوئے اور نثر میں 1908ء میں ’’تذکیرہ و تانیث‘‘ معیار اردو 1924ء  میں محاورات کا لغت اور 1940ء میں اردو کا عروض نامی کتب و رسائل شائع ہوئے۔ جلیلؔ کا تقریباً نے عمل، قصیدہ کلام فی البدیہہ ہے۔ رؤساء اور دوبادشاہوں کی مصاحبت اور استادی کی وجہ سے ان کو بہ عجلت حسب موقع اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کی بروئے کار لانا پڑتا تھا۔ اصلاح کا کام بھی قلم برداشتہ ہوتا تھا۔ اس لیے جلیلؔ کے کلام کا ایک بڑا حصہ روانی طبع اور قدرت کلام کو ظاہر کرتا ہے۔ فنی صلاحیتیں غزل میں نمایاں ہیں اس بارے میں خود ان کا ایک شعر حقیقت حال پر پورا اترتا ہے۔

اپنا دیوان مرقع ہے حسینوں کا جلیلؔ
نکتہ چیں تھک گئے کچھ عیب نکالے نہ گئے

یقیناً جلیلؔ کے کلام کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بے عیب ہے کسی جگہ عامیان پن، ثقل مبان کی دقت یا بیان میں تعقید یا تفہیم میں رکاوٹ نہیں ہے۔ ان کی غزلوں کے کچھ بے حد خوبصورت اشعار درج ذیل ہیں:

جب میں چلوں تو سایہ بھی اپنا نہ ساتھ دے
جب تم چلو زمین چلے آسماں چلے

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی
کر کے توبہ توڑ ڈالی جائے گی

ہنرور شاعر اور جوہر شناس حکمراں میں جو قریبی تعلقات مسلمانوں کے عباسی دور حکومت سے چلے آرہے تھے حضرت جلیلؔ اور عثمان علی خاں کو اس کی آخری کڑی سمجھنا چاہئے۔ جلیل کے انتقال کے دو برس کے بعد آصف جاہی حکومت کی بساط بھی الٹ گئی۔

جلیلؔ کی تصویر کے سلسلے میں میں نے ان کے فرزند رشید جناب ڈاکٹر علی احمد جلیلیؔ سے بالمصافحہ ملاقات کی مگر یہ معلوم کرکے مایوسی ہوئی کہ ان کی کوئی اوریجنل تصویر ان کے پاس نہیں ہے۔ ایک تھی بھی تو وہ اردو اکیڈمی کے حوالے کردی گئی جو اکیڈمی کے رسالے میں مارچ 2000ء کے ٹائیٹل پردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ یہی تصویر بے حد اورٹچنگ کے بعد جلیلی صاحب کی کتاب ’’فصاحت جنگ جلیلؔ‘‘ میں شامل ہے۔ صابردت کی کتاب ’’چند تصویر بتاں‘‘ میں تصویر کا بسٹ (LATERAL INVERSION) کے عیب کے ساتھ دیا گیا ہے یعنی داہنا حصہ بایاں اور بایاں داہنا ہوگیا ہے۔ میں نے ان تصاویر کو سامنے رکھ کر خود ایک پورٹریٹ تیار کیا ہے جو خوبصورت رنگوں کے ساتھ پیش ہے۔ شیروانی اورنگ آباد کے ہمروکی ہے جس کا رنگ بقول جلیلیؔ صاحب کے ہلکا سبز تھا۔

.....مزید پڑھئے

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب