رشک قمر

قمر جلالوی

شیخ شوکت علی اینڈ سنز، کراچی
1977 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

"رشک قمر"قمر جلالوی کے غزلوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔جو اپنی منفرد خوبیوں کےباعث مقبول عام ہے۔بیان کی برجستگی اسلوب کی سلاست ایک چبھتی ہوئی بات کہنے کا انداز اور اس کے ساتھ ایک مخصوص قسم کی ڈرامائیت ان کے کلام کی اہم خصوصیات ہیں۔ان کاکلام درد دل کے ساتھ غم روزگار کی تصویر بھی پیش کرتا ہے۔ ان کی غزلوں میں ترنم اور سلاست ہے۔ان کے کلام میں دہلی اور لکھنو دونوں مکاتیب شاعری کی چاشنی ،شوخی او رلطافت نظر آتی تھی۔ قمر جلاجلوی ایک بڑی روایت کےآخری مقبول شاعر تھے۔ان کے کلام میں وہ مزہ تھا جو انھیں کے ساتھ اور اس بڑی روایت کے خاتمے کے ساتھ شاعری سے رخصت ہوگیا۔ان کا شمار کلاسیکی اردو غزل کے بہترین کلاسیکل شعرا میں ہوتا ہے۔قمر جلالوی کوزبان پر بلا کی دسترس حاصل تھی اسی لیے ان کے یہاں فکر کی شدت کم ہے اور زبان کاذائقہ بہت زیادہ ان کے اشعار سہل ہیں جن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں ہے ۔قاری کو سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔اسی سادگی کی وجہ سے قمر کے کلام کو ہندو پاک میں مقبولیت حاصل ہوئی اور ہندو پاک کے نامور گلوکار اور گلوکاروں نے اپنی آواز سے مزید دلکش بھی بنادیاہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

قمر جلالوی

قمر جلالوی

نام سید محمد حسین، قمر تخلص۔ ۱۸۸۷ء میں قصبہ جلالی، ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے بچپن میں سید زندہ علی سے باقاعدہ اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ضلع علی گڑھ میں بائیسکل کی دکان تھی، یہی ان کی روزی کا ذریعہ تھا۔ امیر مینائی ان کے روحانی استاد تھے۔ قیام پاکستان کے بعد ہجرت کرکے کراچی میں سکونت اختیار کرلی۔ معاش کے لیے پاکستان کوارٹرز میں سائیکل کی دکان کرلی تھی۔ شاعری کے جملہ اصناف سخن پر قادر تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں آپ کے متعدد شاگرد تھے۔ ۲۴؍اکتوبر۱۹۶۸ء کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ یہ کلاسیکی روایت کے آخری مقبول شاعر تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے قدر دانوں نے ان کی حسب ذیل کتابیں شائع کیں۔ ’عقیدت جاوداں‘(سلام اور مراثی کا مجموعہ)، ’رشک قمر‘، ’روح قمر‘، ’غم جاوداں‘، ’اوج قمر‘۔

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:311

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب