روشنی کی بات

قیصر صدیقی

مکتبہ صدف، مظفرپور
2013 | مزید

مصنف: تعارف

قیصر صدیقی

قیصر صدیقی

نام افتخار احمد تخلص قیصر صدیقی ہے  19 مارچ 1937 کو سمستی پور  (بہار )  کے ایک گاؤں گوھر نوادہ میں پیدا ہوئے  قیصر صدیقی نہایت ہی کہنہ مشق، زود گو اور قادرالکلام  شاعر تھے 
ان کی سخن سازی سات دہائیوں پر محیط ہے ۔ اس لحاظ سے انہیں صدی کا جریدۂ شاعری قرار دیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے اس عرصے میں شاعری کی مختلف اصناف بلکہ بعض نہایت ہی مشکل اصناف میں بھی کامیابی کے ساتھ طبع آزمائی کی ہے تاہم وہ بنیادی طور پر غزل ہی کے شاعر مانے جاتے ہیں اور اب تک ان کے شعری کارنامے جو بصورت کتاب منظر عام پر آے ہیں وہ غزل ہی سے متعلق ہیں۔ آج سے تقریباً  37 سال قبل اولین مجموعۂ غزل" صحیفہ " شائع ہوا تھا ۔ دوسرا  اور قدرے ضخیم مجموعۂ غزل  " دوبتے سورج کا منظر "  اجنبی خواب کا چہرہ ، بے چراغ آنکھیں ، درد کا چہرہ ،  غزل چہرہ (ہندی )  نظموں پر مشتمل "سجدہ گاہ فلق "  نعت پر مشتمل "روشنی کی بات "  زمبیلِ سحر تاب( ترانۂ سحر) شائع ہو چکا ہے ۔
قیصر صدیقی  4 ستمبر 2018 کو دنیاۓ فانی کو الوداع کہہ گئے

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب