سوانح مولانا روم

شبلی نعمانی

امتیاز علی تاج
1961 | مزید
  • معاون

    غالب اکیڈمی، دہلی

  • موضوعات

    سوانح حیات

  • صفحات

    245

کتاب: تعارف

تعارف

علامہ شبلی کی یہ کتاب مشہور صوفی بزرگ مولانا محمد جلال الدین رومیؒ کی سوانح عمری ہے،در اصل جب علامہ شبلی نے سلسلہ کلامیہ کا آغاز کیا اور "الغزالی"، "علم الکلام" اور "الکلام" لکھی تو انھوں نے مولانا روم کو بھی متکلم اسلام کی حیثیت متعارف کرانے کا ارادہ کیا ،اور سوانح مولانا روم لکھ کر مولانا روم کے حالات زندگی بیان کئے، اور مولانا روم کی تصنیفات و کلام پر بھی روشن ڈالی ،اس کتاب کو علم کلام کے حوالہ سے علامہ کی کتابو ں کی چوتھی کڑی کہا جا سکتا ہے، اس سوانح میں شبلی نے مولانا روم کی مثنوی کو تصوف کے نقطہ نظر کے بجائے عقائد اور علم کلام کی حیثیت سے پیش کیا ہے،علامہ نے اس کتاب میں مولانا رومی کی خوبیوں کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شبلی نعمانی

                           موّرخ، شاعر اور اردو تنقید کے بنیاد گزار

        "اردو ادب کی دیو پیکر ہستیوں میں  شبلی ہی وہ خود دار ہستی ہے جس نے مغربی علوم و فنون 
 کی تیز و تند آندھی میں بھی مشرقی علوم و فنون کے دیئے کو  نہ صرف بجھنے نہیں دیا بلکہ اپنی
 تلاش و جستجو،تحقیق و تدقیق کے روغن سے اسکی لَو کو بڑھاتی رہی یہاں  تک کہ  "چراغ خانہ"
"شمع انجمن "کے دوش بدوش کھڑا ہونے کے لائق ہو گیا"۔۔         

                                                                         آفتاب احمد صدیقی

شبلی نعمانی ان لوگوں  میں ہیں جو سر سیّد احمد خاں  کے اثر اور فیضِ صحبت  کی بدولت  مولویت کے محدود اور تنگ دائرہ سے نکل کر ادب کے وسیع میدان میں آے۔ انھوں نے اردو زبان میں اسلامی تاریخ کا صحیح ذوق پھیلایا تاریخ میں انھوں نے اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیتوں کے حالات زندگی قلم بند کرنے کا اک سلسلہ شروع کیا، جس میں متعدد نامور اسلاف آ گئے۔ ان کی سب سے مشہور و مقبول   کتاب  خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کی سوانح "الفاروق" ہے۔ ا اس سلسلہ میں ان کی آخری تصنیف "سیرت النبی" ان کی زندگی میں مکمل نہیں ہو سکی تھی۔ اسے ان کے شاگرد سید سلیمان ندوی نے مکمل کر کے شائع کرایا۔ ان تصانیف کے علاوہ شبلی نے بیشمار تاریخی و تحقیقی مضامین لکھے، جس سے تاریخ دانی اورتاریخ نویسی کا عام شوق پیدا ہوا۔ شبلی شاعر اوراعلیٰ درجہ کے سخن شناس و نقّاد تھے۔ اور انھیں اردو تنقید کے بنیاد گزاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ علی گڑھ کے قیام کے دوران شبلی نے  پروفیسر آرنلڈ سے بھی فیض حاصل کیا اور ان کے توسط سے مغربی تہذیب اور اس کے معاشرتی آداب سے  واقف ہوئے شبلی نے اس تہذیب  و معاشرت کے محاسن کا اعتراف کیا  اور مشرقی  تہذیب کے ساتھ اس کی آمیزش بھی کی۔ اس آمیزش نے قدامت پسندوں کو ان سے بدظن کر دیا حتی کہ انھیں ندوہ سے بھی نکلنا پڑا۔ وہ مغرب زدہ حلقوں میں بغیر کسی احساس کمتری کے شریک ہوتے تھے۔ اونچے طبقہ کی سوسائٹی میں ان کی بڑی مانگ  تھی اور وہ  کہیں سے بیگانے نہیں لگتے تھے۔ ان اونچے خاندانوں کی بعض لیڈیاں  نہائت شائستہ، قابل اور ادب کی دلدادہ تھیں،  ان ہی میں ایک عظیہ فیضی تھیں جن پر مولانا ہزار جان سے لٹّو تھے۔  ان کے اس یکطرفہ عشق نے ان سے نہائت گرم شاعری کرائی۔  مولانا کو اپنی نجی زندگی پر پردے ڈالنے اور پبلک لائف میں دنیا داری کے تمام ہتھکنڈے استعمال کرنے کا ہنر خوب آتا تھا اسے لئے ان کی گرما گرم عشقیہ شاعری فارسی میں ہے جو عوام کی نظر سے کم ہی گزرتی ہے۔اردو میں انھوں نے عموما قومی اور سیاسی شاعری کی ہے۔ ان کی فارسی شاعری کے بارے میں حالی نے کہا۔۔ " کوئی کیونکر مان سکتا ہے کہ یہ اس شخص کا کلام ہے، جس نے سیرت  نعمان، الفاروق اور سوانح مولانا روم  جیسی مقدس کتابیں لکھی ہیں، غزلیں کاہے کو ہیں، شراب دو آتشہ ہے، جس کے نشہ میں خمار چشم ساقی بھی ملا ہوا ہے۔ غزلیات حافظ کا جو حصہ رندی اور بے باکی کے مضامین پر مشتمل ہے، ممکن ہے  کہ اس کے الفاظ میں زیادہ دلربائی ہو مگر خیالات کے لحاظ سے یہ غزلیں بہت زیادہ گرم ہیں"۔ مولانا صرف عطیہ فیضی  پر ہی نہیں جان چھڑکتے تھے بلکہ ان کے کچھ اور بھی محبوب تھے۔ جن میں اس وقت اٹھارہ انیس سال کے مولانا ابو اکلام آزاد اور ایک نامعلوم مدراسی خاتون بھی شامل تھیں۔ ڈاکٹر وحید قریشی  اپنی کتاب' شبلی۔۔حیات معاشقہ "میں لکھتے ہیں۔۔۔"مولانا کی دوہری محبت بڑی مرکّب سی ہے۔ ندوہ کی سرگرمیوں کے ساتھ ابو الکلام میں دلچسپی اور  پھر عطیہ بیگم سے لگاؤ ۔۔۔ ایک طرف انھیں ندوہ عزیز ہے تو دوسری طرف عطیہ لیکن آپ دونون کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ ایک طرف ان کے اشعار میں جنسیتت کی بُو آتی ہے تو دوسری طرف وہ عطیہ کے ساتھ جا نماز کا تعلق پیدا کرنے کے خواہش مند ہیں۔" مولانا آزاد  ہوں یا عطیہ دونوں شبلی کی عزت اک بزرگ اور عالم کی حیثیئت سے کرتے تھے لیکن جب مولانا  کی محبت  چھلک پڑی تو دونوں ان سے نالاں ہو گئے۔ یہ پھر بھی ان کے  التفات کے لئے گِڑگڑاتے نظر آتے ہیں۔ عطیہ اک علم دوست خاتون شبلی سے عمر میں بہت چھوٹی تھیں۔ ان کے اندر زنانہ حسن بالکل نہیں تھا،  لیکن ان کی قابلیت سے علامہ اقبال بھی متاثر تھے۔ عطیہ کے مراسم جارج برنارڈ شا جیسے لوگوں سے بھی تھے۔ وہ  جنجیرہ خاندان  کی نواب زادی  تھیں لیکن جناح کی دعوت پر پاکستان چلے جانے کے بعد انھوں نے  وہاں بڑی کسمپرسی میں زندگی کے اخری دن گزارے۔

شبلی 1857ء میں اعظم گڑھ کے نزدیک بندوال میں پیدا ہوئے ۔یہ لوگ نسلا" راجپوت تھے  شبلی نے   اپنی متشدّدانہ حنفیت کے اظہار کے لئے اپنے نام کے ساتھ نعمانی لکھنا شروع کیا ۔ان کے والد اعظم گڑھ کے نامور وکیل ،بڑے زمیندار اور نیل و شکر کے تاجر تھے۔ شبلی کو انھوں نے دینی تعلیم دلانے کا فیصلہ کیا۔شبلی نے اپنے وقت کے جیّد علماء سے فارسی عربی حدیث فقہ اور دیگر اسلامی علوم حاصل کئے تعلیم سے فراغت کے بعد مولانا  نے کچھ دنوں قرق امین کے طور پر ملازمت کی پھر وکالت کا امتحان دیا جس میں فیل ہو گئے، لیکن اگلے سال کامیاب ہوئے۔ کچھ دنوں مختلف مقامات پر ناکام وکالت کرنے کے بعد مولانا کو علی گڑھ میں سر سید کے کالج میں عربی اور فارسی کے معلم  کی نوکری مل گئی۔یہیں سے شبلی کی کامیابیوں کا سفر شروع ہوا۔  علی گڑھ کی ملازمت کے دوران ہی مولانا نے ترکی شام اور مصر کا سفر کیا ۔ ترکی میں سر سید کے رفیق اور عربی و فارسی کے اسکالر کے طور پر ان کی بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ عطیہ فیضی کے والد حسن آفندی کی سفارش پر، کہ وہ وہ سلطان عبد الحمید کے دربار میں خاصا رسوخ رکھتے تھے، ان کو "تمغہ ء مجیدیہ" سے نوازا گیا۔ واپسی پر انھوں نے المامون اور سیرت نعمان لکھیں۔ 1890ء میں شبلی نے ایک بار پھر ترکی،لبنان اور فلسطین کا دورہ کیا اور وہاں کے کتب خانے دیکھے۔ اس سفر سے واپسی پر انھوں نے "الفاروق" لکھی۔ 1898ء میں سر سید کے انتقال کے بعد شبلی نے علی گڑھ چھوڑ دیا۔ اور اعظم گڑھ واپس آ کر اپنے قائم کردہ "نیشنل اسکول" ( جو اب شبلی کالج ہے) کی ترقی میں مصروف ہو گئے۔ پھر وہ حیدراباد چلے گئے، جہاں کے اپنے چار سالہ قیام میں انھوں نے  الغزالی، علم الکلام، الکلام، سوانح عمری مولانا روم، اور موازنہء انیس و دبیر لکھیں۔ اس کے بعد وہ لکھنؤ آ گئے جہاں انھوں نے  ندوہ العلماء  کے تعلیمی معاملات سنبھالے۔ ندوہ کی مصروفیا ت کے درمیان ہی انھوں نے شعر العجم لکھی۔1907 میں گھر میں بھری بندوق اچانک چل جانے سے وہ اپنا اک پیر گنوا بیٹھے اور لکڑی کے پیر کے ساتھ باقی زندگی گزاری۔ مولانا نے دو شادیاں کیں پہلی شادی کم عمری میں ہی ہو گئئ تھی۔  پہلی بیوی کا 1895 میں انتقال ہو گیا۔ 1900ء میں  43 سال کی عمر میں انھوں نے اک انتہائی کمسن لڑکی سے دوسری شادی کی، جس کا  1905ء میں انتقال ہو گیا۔ شبلی کا خواب تھا کہ بڑے بڑے علماء کو جمع کر کے علمی تحقیق و اشاعت کا اک ادارہ "دار المصنفین" کے نام سے قائم کیا جاے۔ انھوں نے اس کا انتظام پورا کر لیا تھا لیکن ادارہ کا افتتاح ان کی موت کے بعد ہی ہو سکا۔ مولانا کی بعض سرگرمیوں کی وجہ سے ندوہ میں ان کی مخالفت بڑھ گئی تھی۔ آخر ان کو اس ادارے سے، جس  کی ترقی کے لئے  انھوں نے بڑی محنت کی تھی، الگ ہونا پڑا اور وہ اعظم گڑھ آ کر اسکول اور زمینداری کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ یہاں ا کر ان کی صحت گرنے لگی اور 18 نومبر 1914ء کو ان کا انتقال ہو گیا۔ شبلی نعمانی اک  فعّال اور محنتی آدمی تھے۔ جس کام میں ہاتھ ڈالتے پوری محنت اور لگن سے اسے پایہء تکمیل تک پہنچانے کی کوشش کرتے۔ اپنی علمیت و شہرت کی بدولت ان کی رسائی اس وقت کی بہت سی  ریاستوں کے مسلم اور غیر مسلم حکمرانوں تک  تھی، جن سے ان کو اپنے علمی وعملی منصوبوں کے لئے مدد ملتی رہتی تھی۔

شبلی کا شمار اردو تنقید کے بنیاد گزاروںمیں ہوتا ہے۔ انھوں نے اپنے تنقیدی نظریات کو اپنی دو  لا جواب کتابوں" شعرالعجم "اور" موازنہ ء انیس و دبیر "میں جامعیت کے ساتھ بیان کیا ہے۔موازنہ  میں شبلی نے فن مرثیہ نگاری کے بنیادی اصولوں کے ساتھ ساتھ فصاحت،بلاغت ،تشبیہ،استعارے اور دیگر صنعتوں کی تعریف و توضیح کی ہے ۔شعر العجم میں انھوں نے شعر کی حقیقت و ماہیت  نیز لفظ و معنی کے رشتے کو سمجنے سمجھانے کی کوشش کی ہے اور اس میں انھوں نے اردو کی جملہ کلاسیکی اصناف کا محاکمہ کیا ہے۔اس میں انھوں نے شاعری کے عناصر حقیقی،تاریخ و شعر کے  فرق اور شاعری اور واقعہ نگاری کے فرق کو واضح کیا ہے۔وہ شاعری کو ذوقی اور وجدانی چیز سمجھتے تھے جس کی کوئی جامع و مانع تعریف م وضع کرنا  ممکن نہیں۔وہ ادراک کے مقابلہ میں جذبہ و احساس کو شاعری کا جوہر حقیقی قرار دیتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جذبات کے  بغیر شاعری ممکن نہیں  تاہم  اس کا مطلب ہیجان  یا ہنگامہ برپا کرنا نہیں  بلکہ جذبات میں زندگی اور جولانی پیدا کرنا ہے۔ وہ ہر اس چیز کو جو دل پر استعجاب،جوش یا کوئی اور جذبہ پیدا کرے شعر مین شمار کرتے  ہیں۔ اس طرح ان کے نزدیک  آسمان ،ستارے،صبح کی ہوا،کلیوں کی مسکان،بلبل کے نغمے،دشت کی ویرانی اور چمن کی شادابی سب شعر میں شامل ہیں۔اس طرح شبلی نے شعر کے حسّی اور جمالیاتی پہلو پر زور دیا ۔لفظ و معنی کی بحث میں ان کا جھکاؤ لفظ کی خوبصورتی اور اس کے مناسب استعمال کی طرف ہے۔وہ لفظ کو جسم اور معنی کو اس کی  روح قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر عمدہ معنی عمدہ الفاظ کا جامہ پہن کر سامنے آئیں و زیادہ پپُر اثر ہوں گے۔شبلی نعمانی کی علمی خدمات کے اعتراف میں انگریز سرکار نے ان کو شمس العلماء کا خطاب دیا تھا۔ ان کے قائم کردہ ادارے شبلی کالج اور دار المصنفین   آج بھی علم و تحقیق کے کاموں میں مصروف ہیں۔اردوزبان شبلی کے احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب