سہ آتشہ

میراجی

محمد علی کاشانی
1992 | مزید
  • معاون

    ارجمند آرا

  • موضوعات

    شاعری

  • صفحات

    279

مصنف: تعارف

میراجی

 

                                                                             اردو کا بوہیمین شاعر

                                                            " بحیثیت شاعر اس (میراجی) کی حیثیت وہی ہے جو گلے
                                                             سڑے پتّون کی ہوتی ہے،جسے کھاد کے طور پر استعمال 
                                                             کیا جا سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس کا کام بہت عمدہ کھاد
                                                           ہے جسکی افادیت  ایک نہ ایک دن ضرور ظاہر ہو کر رہے
                                                            گی۔اس کی شاعری اک گمراہ انسان کا کام  ہے جو انسانیت
                                                            کی عمیق ترین پستیوں سےمتعلق ہونےکے باوجود دوسرے
                                                           انسانوں کے لئے اونچی فضاؤن میں مرغ باد نما  کا کام دے
                                                          سکتا ہے۔اس کا کلام  اک JIGSAW PUZZLE ہے  جسکے 
                                                           ٹکڑے بڑے اطمینان و سکون سے جوڑ کر دیکھنے چاہئیں۔"

                                                                                                            سعادت حسن منٹو

 

میرا جی کا نام اردو میں آزاد نظم اور علامتی شاعری کورائج کرنے اور اسے  فروغ دینے والوں میں سر فہرست ہے۔  ن۔م راشد کا کہنا تھا  کہ میرا جی محض شاعر نہیں ,اک  Phenomenon ہیں۔ میراجی نے ہندوسان کی دیگر زبانوں کے ساtھ ساتھ مغربی ادبی رجحانا ت،جدید نفسیات اور ہندو دیو مالا کی روح کو اپنے اندر جذب کر کے اسے خالص ہندوستانی زبان کا جامہ پہنایا۔ انھوں نے ایک طرف ہندوستان کے چنڈی داس،میرا بائی  اور ودیاپتی کا اثر قبول کیا تو دوسری طرف فرانکوی ولن ،چارلس بودلیراور،ملارمے(فرانسیسی) وٹمین اور پو(امریکی) ڈی ایچ لارنس اور کیتھرین مینسفیلڈ (برطانوی)،پشکن(روسی) اور ہائنے (جرمن) کے ادبی رویوں کا جوہر تلاش کر کے  اسے اردو شاعری کے جسد  میں داخل کیا۔ میرا جی کا کہنا تھا کہ محض ازاد نظم کی ہیئت استعمال کر کے کوئی جدید شاعر نہیں بن جاتا۔اس کے لئے جدید حسیّت بھی ضروری ہے۔  ان کے گوناگوں شعری،نفسیاتی  اور حسّی تجربات کی آمیزش نےمیرا جی کی شاعری کومشکل لیکن منفرد اور وقیع بنا دیا ۔ ۔ڈاکٹر جمیل جالبی کے الفاظ مین "میراجی کی شاعری  سماج کے اک ایسے ذہن کی ترجمانی کرتی ہے کہ میرا جی سے کم اخلاقی جرات رکھنے والا انسان اس کو پیش ھی نہیں کر سکتا تھا اور میراجی کی شاعری میں خلوص  و صداقت کا وہ عنصر ملتا ہے کہ ہم ان کی شاعری کا احترام کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔" یہ   حقیقت  ہے کہ میراجی  کی شاعری نے اپنے قاری پر اتنا اثر نہیں ڈالا جتنا مجموعی طور پر اپنے بعد لکھے جانے والے ادب پر ڈالا ہے۔

قدرت کا کرشمہ دیکھئے  کہ اس نے شاعری کا یہ گلاب گوبر کے ڈھیر پر کھلایا۔ میرا جی کی ظاہری شخصیت حد درجہ غلیظ اور کریہہ تھی۔ میلے کچیلے کپڑے،ہر موسم میں جاڑون کا لباس،لمبی چیکٹ زلفیں،گندے ناخون،گلے میں گز بھر کی مالا،ہاتھ میں لوہے کے تین گولے جن پر سگرٹ کی پنّی مڑھی ہوتی،دن رات نشہ میں دھت، مشت زنی کی قبیح لت اور اس کا فخریہ بیان،رنڈی بازی اور اس کے نتیجہ میں آتشک ،شائستہ محفلوں میں جوتوں سمیت اکڑون کرسی پر بیٹھنا، سالن میں زردہ یا کھیر ملا کر کھانا،مشاعرہ میں سامعین کی طرف پیٹھ کر کے نظم سنانا، نشہ میں دھاڑیں مار مار کر رونا،اسپتال میں نرس کی کلائی دانتوں سے کاٹ لینا۔ حد درجہ جنسی پرورژن، ان سب باتوں نے میرا جی کی شخصیت کو افسانہ بنا دیا ۔۔۔ ایسی شخصیت جو ان کی شاعری کی مطالعہ  میں آڑے آتی ہے اوراکثر  ان کے قاری اوران کی شاعری کےدرمیان آڑ بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔

میرا جی کا اصل نام محمد ثناءللہ ڈار تھا۔ وہ 25 مئی 1912 کو لاہور میں پیدا ہوے۔ان کا خاندان کچھ نسلوں پہلے کشمیر سے آ کر گوجرانوالہ میں آباد پو گیا تھا  میراجی کے۔والد منشی مہتاب الدین ریلوے ،ین ٹھیکیداری کرتے تھے ۔ایکبار ان کو کاروبار میں اتنا گھاٹا ہوا کہ کوڑی کوڑی کے محتاج ہو گئے۔تب ایک انگریز انجنیر نے انھیں برج انسپکٹر بنا دیا اور وہ ملازمت کے سلسلہ میں مختلف مقامات پر رہے۔میراجی کی والدہ سردار بیگم ان کی دوسری بیوی اور عمر میں ان سے بہت چھوٹی اور نہائت خوبصورت  ہونے کی وجہ سے شوہر پر حاوی تھیں ۔ماں سے میراجی کو بہت محبت تھی اور وہ اان کو مظلوم سمجھتے تھے ۔ میراجی کے بچپن اور نوجوانی کا کچھ حصہ ہندوستان کی ریاست گجرات میں گزرا ان کو نصابی کتابوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی جبکہ  دوسری ادبی اور علمی کتابوں کا کیڑا تھے۔ وہ میٹرک کا امتحان نہیں پاس کر سکے۔"ادبی دنیا" کے مدیر مولانا صلاح الدین منشی مہتاب الدین کے دوست تھے ۔منشی جی نے ریتائرمنت کے بعد جو کچھ ملا تھا وہ ؐمولانا صلاح الدین کے ساتھ تجارت میں لگا دیا لیکن پیسہ ڈوب گیا اور منشی جی کے تعلقات مولانا سے خراب ہو گئے۔ میٹرک میں فیل ہونے کے بعد میراجی نے باپ کی مرضی کے خلاف  ؐمولانا صلاح السین کے رسالہ "ادنی دنیا" مین تیس روپے ماہوار پر ملازمت کر لی۔اور یہیں سے ان کے ادبی سفر کا آغاز ہوا۔ "ادبی دنیا"  میں کام کرتے ہوئے میرا جی نے بہت سے مغربی اور مشرقی شعراء کی زندگی اور ان کے ادب سے اردو دنیا کو باخبر کرنے کے لئے مضامین لکھے اور ان کی تخلیقات کے ترجمے کئے جو بعد میں "مشرق و مغرب کے نغمے" کے نام سے کتابی شکل ،یں شائع ہوے۔ اس عرصہ میں"۔ادبی  دنیا" اور دیگر رسالوں میں ان کی طبع زاد  تخلیقات شائع ہونے لگیں اور ان کے تنقیدی مضامین نے قارئین کو موجہ کیا۔لاہرمیں اسکول کے زمانہ میں ان کو اک بنگالی لڑکی میرا سین سے عشق ہو گیا۔ یہ انہائی شدید  infatuation تھا   اتنا شدید کہ ثناءللہ ڈار نے اپنا تخلص ساحری سے بدل کر میراجی رکھ لیا۔وہ میراسین کا خاصے فاصلے سے تعاقب  کرتے تھے  اور صرف ایک بار اسے راستہ میں روک کر بس اتنا کہہ سکے تھے کہ "مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے" میرا سین کوئی جواب دئے بغیر ان کو خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوےآگے بڑھ گئی تھی۔ میرا جی نے اپنے اس جنونی عشق کا بڑا ڈھنڈورا پیٹا جبکہ حسن عسکری کا بیان کچھ اور ہی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ " ایک دن کوئی بنگالی لڑکی ان کے سامنے سے گزری۔دوستوں نے یوں ہی مذاق میں کہا کہ یہ ان کی محبوبہ ہے۔ دو چار دن لڑکون نے میرا کا نام لے کر انھیں چھیڑااور وہ ایسے بنے رہے جیسے واقعی چڑ رہے ہوں۔پھر جب انھوں نے دیکھا کہ دوست انہیں افسانہ بنا دینا چاہے ہیں و بے تامل بن گئے اوراس کے بعد ان کی ساری عمر اس افسانے کو نبھانے میں گزری"۔ بعید نہیں کہ کہ اپنی ہئیت کذائی، شراب نوشی اور خود لذی کی ؑعادت کے لئے ان کو میرا سین کے عشق میں ناکامی کی صورت میں اک جواز کی ضرورت پڑی ہو ۔ میرا جی 1938 ء سے 1941 ء تک "ادبی دنیا" سے وابستہ رہے۔ تنخواہ بہت کم تھی لیکن  اس ملازمت نے ان کے فکر و شعور کو وہ جلا بخشی جس نے انہیں میرا جی بنایا۔ 1941 میں ان کو ریڈیو اسٹیشن لاہور پر ملازمت مل گئی۔ اور 1942 میں ان کا تبادلہ دہلی ریڈیو اسیشن پر ہو گیا۔ اب ان کے مالی حالات بہتر تھے لیکن دوسری تمام بری عادتیں جاری تھیں بلکہ ان میں طوائفوں  کے کوٹھون پر جانےکا اضافہ بھی ہو گیا تھا جہان سے وہ آتشک کا تحفہ بھی لے آے تھے ۔ ان کو اپنی تمام قبیح حرکتوں کی تشہیر کا بھی زوق تھا اور ایسا کر کے لطف حاصل کرتے تھے۔ میرا سین سے اپنے دنیا سے نرالے عشق کے بلند بانگ دعووں کے باوجود انہون نےدفتر کے عملہ کی دو تیز طرار لڑکیوں سحاب قزلباش اور صفیہ معینی کے ساتھ عشق کی پینگیں بڑھانے کی کوشش کی لیکن ان کے پاس ایسا کچھ نہیں تھا جو ان شوخ لڑکیوں  کو متاثر کر سکے۔جب وہ زیادہ پیچھے پڑے تو صفیہ معینی نے کہہ دیا "میرا جی رہنے دیجئے آپ ہیں کس لائق" ۔۔1945 میں میرا جی کی شامت نے انہیں گھیرا اور فلموں میں قسمت آزمانے بمبئی پہنچ گئے۔

بمبئی پہنچ کر میرا جی کے چودہ طبق روشن ہو گئے۔تین مہینہ تک کوئی کام نہیں ملا ۔وہ کبھی اَِس کے پاس اور کبھی ُاس کے پاس بن بلاے مہمان کی طرح وقت گزارتے رہے۔پھر پونا چلے گئے جہاں اختر الایمان تھے۔اختر الایمان نے ان کو محبت سے اپنے پاس رکھا۔پونا میں بھی ان کی ملازمت کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکا مجبورا وہ16 اکتوبر 1947ء کو بمبئی واپس آ گئے کچھ دنوں بعد اختر الایمان بھی بمبئی ا گئے تو انھوں نے رسالہ خیال نکالا اور ادارت میرا جی کو سونپ دی۔اس کے لئے وہ میرا جی کو 100 روپے ماہوار دیتے تھے۔ اب تک کثرت شراب نوشی اور کھانے پینے میں بے قاعدگی کی وجہ سے ان کی صحت بہت خراب ہو چکی تھی۔ ان کو اسہال کی شکایت تھی لیکن نہ پرہیز کرتے تھے اور نہ علاج۔جب حالت دگر گوں ہوتے دیکھی تواختر الایمان ان کو اپنے گھر لے گئے لیکن وہاں بھی وہ پرہیز نہیں کرتے تھے ۔جب حالت زیادہ بگڑی تو ان کو سرکاری اسپتال میں داخل کرا دیا گیا جہان وہ کینٹین والوں اور دوسرے ملازمین سے بلکہ کبھی کبھی ساتھ کے مریضوں سے بھی کھانا مانگ کر بد پرہیزی کرتے تھے۔ ان کی دماغی حالت بھی   ٹھیک نہییں تھی۔ڈاکٹرون کا کہنا تھا کہ آتشک کے مریضون میں اکثر اس قسم کی پیچیدگیاں پیدا  ہوجاتی ہیں۔ میرا جی کے آخری ایّام انتہائی اذیت ناک تھے۔  ان کے سارے بال سفید ہو گئے تھے۔ہاتھوں پیروں اور پیٹ پر ورم تھا خون بننا بالکل بند ہو گیا تھا۔ 3 نومبر 1949ء کو ان کا انتقال ہو گیا جنازے میں پانچ آدمی تھے۔۔۔ اخترالایمان ،مہندر ناتھ ،مدھوسودن، نجم نقوی اور آنند بھوشن۔ تدفین میری لائن قبرسان میں ہوئی۔تمام کوششوں کے باوجود بمبئی کے کسی اخبار  نے ان کی موت پر ایک لائن کی خبر بھی نہیں شائع کی۔

میرا جی کی دستیاب شعری تخلیقات کو کلیات کی شکل میں جمع کیا جا چکا ہے جس میں 223 نظمیں،136 گیت،17 غزلیں،22 منظوم تراجم  5ہزلیات اورمتفرقات شامل ہیں ۔نثر میں انھوں نے دامودر گپت کی قدیم سنسکرت کتاب" کٹنی متم"کا ترجمہ" نگار خانہ"کے نام سے کیا۔ متفرق تنقیدی مضامین اس کے علاوہ ہیں۔

میرا جی اک نئے دبستان شعری کے بانی ہیں ان کا موضوع انسان کا ظاہر نہیں باطن ہے۔ انسان کی وہ شعوری اور تحت الشعوری کیفیات،جو اس کے فکر و عمل کی محرّک ہوتی ہیں،میرا جی نے ان کے اظہار کے لئے نئی زبان نئی علامتیں نئی اصطلاحات اور نئے کردار وضع کرنے کی کوشش کی۔ان کی نظمون میں ہندوستانی فضا بہت واضح اورگہری ہے ۔میراجی نے زبان و بیان کے جو تجربے کئے اورجس ذوق شعر کی ترویج کی کوشش کی اس کے نتیجہ میں ان کی حیثیت ایک بھٹکے ہوے شاعر کی نہیں بلکہ ایسے فنکار کی ہے جس نے اک ایسے شعری اسلوب کی بنیاد رکھی جس میں عظیم شاعری کے امکانات پنہاں ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب