shayad

Jaun Eliya

Eliya Academy, Karachi
1991 | More Info

About The Book

Description

جون ایلیا ایک باغی اور روایت شکن شاعر تھے۔ روایت شکنی، اختلاف رائے شاید جون ایلیا کا محبوب مشغلہ تھا ،اور ہر جگہ وہ اپنی بات بڑے وثوق سے رکھتے اور اس کو دلائل سے ثابت کرتے تھے۔ علمی مباحث اور اپنی فکر کا اظہار کرتے ہوئے جون ایلیا تارٰیخ ، فلسفہ ، منطق ، مذاہب عالم ، زبانوں ، ثقافتوں اور ماضی کی نابغہ روزگار شخصیات کے نظریات اور سیاسی و سماجی تحریکوں کے حوالے دیتے جاتے تھے ۔جون کی زندگی میں ان کا صرف ایک ہی مجموعہ کلام منظر عام پر آیا تھا جس کا نام "شاید" ہے ۔ اس کتاب کا دیباچہ جون کی زندگی کی مختلف واقعات سے آراستہ ہے ۔ ان کی شاعری نے ہر عمر اور طبقے کے لوگوں کو متاثر کیا ۔ ان کا حلیہ اور مشاعرہ پڑھنے کا انداز ایسا تھا کہ ہر شخص ان کی طرف کھنچا چلا آتا ۔ وہ اپنے عہد کے ایک بڑے تخلیق کار تھے ، جس نے روایتی بندشوں سے غزل کو نہ صرف آزاد کرایا بلکہ اسے ایک نئے ڈھب سے روشناس کرایا۔ محبوب سے شکوہ کرنا ہو یا رسوا ، زمانے کے چلن سے بیزاری اور نفرت کا اظہار کرنا ہو یا کسی رویے پر چوٹ ، جون ایلیا خوف زدہ نظر نہیں آتے ۔ جون نے زندگی کو اپنی ہی طرقے سے دیکھا اور جیا ہے ۔ اس لئے اگر اردو کا ایک ایسا لہجہ جو جون پر شروع ہوا اور ان ہی پر ختم ہوا دیکھنا ہے تو ان کے اس شعری مجموعہ کا مطالعہ کرنا اشد ضروری ہو جاتا ہے، خاص کر اس وقت جب ہمیں یہ پتہ ہو کہ جون نے اس مجموعہ کو خود مرتب کیا ہے۔ اس مجموعہ میں شامل "نیازمندانہ" کے نام سے جون کا مقدمہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

.....Read more

About The Author

Jaun Eliya

Jaun Eliya

Syed Jaun Asghar (1931-2002), popularly known as Jaun Elia, was born in Amroha where he received his early education under the guidance of his father, Shafiq Hasan Elia. He acquired the degrees of Adeeb Kamil (Urdu), Kamil (Persian), and Fazil (Arabic). He migrated from India in 1957 and settled in Karachi where he worked at the Ismailia Association of Pakistan supervising writing and compilation from 1963 to 1968. Following this, he remained associated with the Urdu Dictionary Board. He also edited Aalami Digest with Zahida Hena.

Jaun Elia was deeply interested in the disciplines of history, philosophy, and religion. This gave a certain touch of otherness to his personality and poetry. His poetry is remarkable for its effortless expression and immediacy of appeal. While he published his first anthology Shaayed (1991) during his lifetime, other collections Yaani (2003), Gumaan (2004), Lekin (2006), Goyaa (2008) and a book in prose entitled Farmood (2008) were published posthumously. He had also collected his letters to Zahida Hena to whom he was married but they had separated later. Elia had also written another book in prose called Rumooz and translated Kitab-ut-Tawwaseen and Jauhar-e-Salqui by Mansoor Hallaj which remain unpublished. The government of Pakistan honoured him with the prestigious award of excellence for his services to literature.


.....Read more

More From Author

See More

Popular And Trending Read

See More

EXPLORE BOOKS BY

Book Categories

Books on Poetry

Magazines

Index of Books

Index of Authors

University Urdu Syllabus