مصنف : سالک لکھنوی

ناشر : عمر غزالی

سن اشاعت : 2008

زبان : Urdu

موضوعات : افسانہ

صفحات : 146

معاون : ریختہ

افسانے

کتاب: تعارف

سالک لکھنوی ہشت پہلو شخصیت کے مالک ہیں وہ بیک وقت ممتاز شاعر، افسانہ نگار، مزاحیہ نگار، محقق، صحافی اور شرح نگار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے افسانے زندگی آموز اور زندگی آمیز ہوتے ہیں، ان کے یہ افسانے حجم کے اعتبار سے تو کم ہیں تاہم کیفیت اور کمیت کے حوالے سے کافی اہم ہیں، زیر نظر کتاب کے افسانے 1933 سے 1942 کے درمیان لکھے گئے تھے۔ یہ افسانے اپنی ایک الگ شناخت اور اہمیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ افسانے تو ایسے ہیں جن کو منشی پریم چند کے نام سے منسوب کردیا گیا۔ اس کتاب میں سالک لکھنوی کے آٹھ افسانے شامل ہیں، افسانوں سے قبل عمر غزالی کا لکھا ہوا مفصل مقدمہ اور قمر رئیس کا لکھا ہوا عمدہ پیش لفظ شامل ہے۔ جس سے سالک کی شخصیت اور فن پر روشنی پڑتی ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

سالک لکھنوی وسیع تر ترقی پسندانہ نظریات کے حامل شاعروں میں سے ہیں۔ ان کے نزدیک ترقی پسند فکر کسی مخصوص زمانے اور کسی مخصوص تحریک تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کا درد اور ایک صالح معاشرے کا خواب رکھنے والا ہر شخص ہر زمانے میں ترقی پسند رہا ہے۔ سالک نے اسی بنیادی نظریے کے تحت شاعری کی، مضامین اور افسانے لکھے اور عملی طور پر سرگرم رہے۔ 
سالک 16 دسمبر 1913 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ اردو فارسی اور انگریزی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اعلی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔ ابتدا میں کانگریس پارٹی سے وابستہ رہے لیکن 1949 میں کانگریس سے مستعفی ہوکر کمیونسٹ پارٹی جوائن کی۔ سالک کی تمام جد وجہد کا میدان کلکتہ رہا۔ انہوں نے قحط بنگال کے دوران قید وبند کی بہت سی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ 
سالک کی کتابوں کے نام درج ذیل ہیں۔ ’عذرا اور دیگر افسانے‘ ’پس شعر‘ ’بے سروپا‘ طنزیہ مضامین کا مجموعہ ’بنگال میں اردو نثر کی تاریخ‘ ’کلام سالک‘۔ 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید