by راحت اندوری,
بشیر بدر,
منظر بھوپالی,
اعجاز انصاری,
کمال مدراسی,
شاداب بےدھڑک,
ندا فاضلی
کل ہند مشاعرہ
اے وائی ٹو کے۔ اکیل
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
اے وائی ٹو کے۔ اکیل
یہ کتاب سنہ 2005 میں چینئی میں منعقدہ کل ہند اردو مشاعرے میں پڑھے گئے نظمیں اور غزلوں کا مجموعہ ہے، جس میں مشہور شعراء کا کلام شامل ہے۔
نام راحت اللہ اور تخلص راحت ہے۔ یکم جنوری ۱۹۵۰ء کو اندور ، بھارت میں پید ا ہوئے ۔ انھیں کراچی کے عالمی مشاعرے میں شرکت کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ دھوپ، دھوپ‘‘، ’’میرے بعد‘‘، ’’پانچواں درویش‘‘، ’’رت بدل گئی‘‘، ’’ناراض‘‘، ’’موجود‘‘۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:401
نئی غزل کی دلکش پہچان
بشیر بدر نئی اردو غزل کے منفرد، تازہ بیان شاعر ہیں جنھوں نے غزل میں نئی لفظیات داخل کرتے ہوئے نئے حسّی پیکر تراشے اور نئے زمانے کے فرد کی نفسیات اور اس کے جذباتی تقاضوں کی ترجمانی کی۔ انھوں نے روائتی مضامین اور ترقی پسندی و جدیدیت کے نظریاتی حصار سے آزاد رہتے ہوئے عام آدمی کے روز مرّہ کے تجربات و مشاہدات کو خوبصورت شعری اظہار دے کر اردو داں طبقہ کے ساتھ ساتھ غیر اردو داں طبقہ سے بھی خراجِ تحسین حاصل کیا۔ غالب کے بعد غیر اردو داں طبقہ میں سب سے زیادہ معروف اور مقبول شاعر بشیر بدر ہیں۔
بشیر بدر کی غزل کا مجموعی آہنگ یکسر غیر روائتی ہے۔ وہ محبوب کا حسن ہو یا دوسرے مظاہر کائنات، بشیر بدر نے ان سب کا احساس و ادراک اک ایسے زاویہ سے کیا جو سابقہ اور ہم عصر شاعروں سے الگ ہے۔ بشیر بدر کی غزلوں میں اک نازک ڈرامائی کیفیت ملتی ہے۔ ان کے اشعار محض اک واردات نہیں بلکہ اک کہانی کا انکشاف کرتے ہیں جس پر استعارے یا علامت کی باریک نقاب پڑی ہوتی ہے۔ واقعاتی فضا رکھنے والے متحرّک پیکر بشیر بدر کی غزل کا خاصّہ ہیں۔ بشیر بدر کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے غزل کے پیکر میں ایسے بیشمار الفاظ داخل کئے جن کو غزل نے ان سے پہلے شرف قبولیت نہیں بخشا تھا۔ اس معاملہ میں بشیر بدر کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ انھوں نے بول چال کی ٹھیٹھ اردو کو اپنایا۔ ایسی آزاد زبان میں نئے الفاظ کے کھپ جانے کی گنجائش روائتی معرب و مفرس زبان کے مقابلہ میں زیادہ تھی۔ بشیر بدر کی غزل میں لفظ و احساس کی سطح پر تازگی، شگفتگی، شعریت اور حسن ہے جو ان کی غزل کو دوسرے شعراء سے ممتاز کرتی ہے۔
بشیر بدر (اصل نام سید محمد بشیر) 15 فروری 1935ء کو کانپور میں پیدا ہوے۔ ان کا آبائی وطن فیض آباد ضلع کا موضع بکیا ہے۔ ان کے والد سید محمد نظیر پولیس کے محکمہ میں ملازم تھے۔ بشیر بدر نے تیسری جماعت تک کانپور کے حلیم مسلم کالج میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد والد کا تبادلہ اٹاوہ ہو گیا جہاں محمد صدیق اسلامیہ کالج سے انھوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ ہائی اسکول کے بعد والد کی وفات کے سبب ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو گیا اور ان کو 85 روہے ماہوار پر پولیس کی ملازمت کرنی پڑی۔ والد کی موت کے بعد گھر کی ذمہ داریاں ان ہی کے سر پر تھیں۔ ان کی نسبت والد کی زندگی میں ہی اپنی چچازاد بہن قمر جہاں سے ہو گئی تھی۔ پولیس کی ملازمت کے دوران ہی ان کی شادی ہو گئی اور تین بچے بھی ہو گئے۔
بشیر بدر کو شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا۔ جب وہ ساتویں جماعت میں تھے ان کی غزل نیاز فحپوری کے رسالہ "نگار" میں چھپی جس پراٹاوہ کے ادبی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ 20 سال کی عمر کو پہنچے پہنچتے ان کی غزلیں ہندوسان اور پاکسان کے موقر رسالوں میں شائع ہونے لگی تھیں اور ادبی حلقوں میں ان کی شناخت بن گئی تھی۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جانے کے کئی سال بعد انھوں نے از سر نو اپنی علمی صلاحیت بڑھانے کا فیصلہ کیا اور جامعہ علی گڑھ کے ادیب ماہر اور ادیب کامل امتحانات پاس کرنے کے بعد علی گڑہ یونیورسٹی سے بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ پی ایچ ڈی میں ان کے نگراں پروفیسر آل احمد سرور تھے اور مقالہ کا موضوع "آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ" تھا۔ بی اے کے بعد انھوں نے 1967ء میں پولیس کی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ وہ یونیرسٹی کے وظیفے اور مشاعروں کی آمدنی سے گھر چلاتے رہے۔ 1974 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ملنے کے بعد وہ کچھ دن عارضی طور پر علی گڑھ یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے پھر ان کا تقرر میرٹھ یونیورسٹی میں ہو گیا۔ اس عرصہ میں مشاعروں میں ان کی مقبولیت بڑھتی رہی۔ مئی 1984 میں جب وہ اک مشاعرہ کے لئے پاکستان گئے ہوئے تھے ان کی بیوی کا انتقال ہو گیا۔ محلہ والوں نے، جن میں اکثر غیر مسلم تھے، ان کی تدفین کی۔ 1987 کے میرٹھ فسادات میں ان کا گھر لوٹ کر جلا دیا گیا۔ 1986 میں انھوں نے بھوپال کی ڈاکٹر راحت سلطان سے شادی کر لی اور کچھ دنوں بعد وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ان کی یاد داشت کمزور ہونے لگی اور بالآخر وہ سب کچھ بھول گئے۔ ان کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ کبھی ان کی شرکت مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔
سن 1984ء میں شائع ہونے والے اپنے تیسرے مجموعے" آمد" میں انھوں نے اپنی شاعری کے بارے میں بلند بانگ دعوے کئے تو سنجیدہ قارئین کو یہ بات اچھی نہیں لگی۔ اس مجموعے میں 2035ء کے قارئین کے نام ایک خط تھا جس میں کہا گیا تھا، ’’آج 1985 کی غزل میں مجھ سے زیادہ مقبول و محبوب کوئی شاعر نہیں۔ آج غزل کے کروڑوں عاشقوں کا خیال ہے کہ ناچیز کی غزل اردو غزل کے کئی سو سالہ سفر میں نیا موڑ ہے۔ میرا اسلوب آج کی غزل کا اسلوب بن چکا ہے۔ تنقید کی بد دیانتی اور نا فہمی کے اکثر حربے اپنے آپ میں محدود ہو گئے ہیں۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ آپ کے عہد (2035ء)میں جو غزل رواں دواں ہے اس کا آغاز مجھ ناچیز کے چراغوں سے ہوا۔‘‘
اس میں شک نہیں کہ بشیر بدر نے اپنی غزلوں میں نئے دور کے نئے موضوعات، مسائل، افکار و تناظرات سے پنی گہری حسّی، وجدانی، جذباتی اور اور فکری وابستگی کو اک انوکھا اور دلکش پیرایۂ بیان دے کر اردو غزل میں اک نئے باب کا اضافہ کیا۔ بشیر بدر نے عام جذبات کو عوامی زبان میں پُر فریب سادگی سے بیان کر دیے ہیں جس میں کوئی تصنع یا بناوٹ نظر نہیں آتی۔ ان کے اشعار میں گاؤں اور قصبات کی سوندھی سوندھی مٹْٰی کی مہک بھی ہے اور شہری زندگی کے تلخ حقائق کی سنگینی بھی۔ بشیر بدر کی شاعری نے تغزّل کو نیا مفہوم عطا کیا۔ یہ تغزل روحانی اور جسمانی محبت کی ارضیت اور ماورائیت کا امتزاج ہے۔ بقول گوپی چندر نارنگ بشیر بدر نے پوئٹری میں نئی بستیاں آباد کی ہیں۔ یہ بات سچ ہے کہ یہی ان کا پاپولر امیج ہے۔ لیکن امیج پورے بشیر بدر کی نمائندگی نہیں کرتا۔ ان کی شاعری وہ خوشبو ہے جو ہمارا رشتہ آریائی مزاج سے، ہماری دھرتی سے، گنگ و جمن کی وادی سے، اور ہندی، برج، اودھی بلکہ تمام مقامی بولیوں سے جوڑتی ہے۔
ڈاکٹر بشیر بدر کو حکومت ہند نے پدم شری کے خظاب سے نوازا اور ان کو ساہتیہ اکیڈمی کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نے بھی ایوارڈ دئے۔ بشیر بدر کے کلام کے چھہ مجموعے اکائی، امیج، آمد، آس، آسمان اور آہٹ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا کلیات بھی دستیاب ہے۔
منظرؔ بھوپالی اصل نام سید علی رضا معروف ہندوستانی اردو شاعر ہیں۔ 29 دسمبر 1959ء کو مدھیہ پردیش کے شہر امراوتی میں پیدا ہوئے اور کم عمری میں ہی خاندان کے ساتھ بھوپال منتقل ہو گئے، جہاں ان کی ابتدائی پرورش اور تعلیم و تربیت ہوئی۔ ایم اے (اردو) تک تعلیم حاصل کی۔ ادبی ذوق انھیں وراثت میں ملا، ان کے والد میر عباس علی ادب سے وابستہ اور شاعر تھے، جب کہ دادا میر خیرات علی اپنے عہد کے معروف حکیم تھے۔
منظرؔ بھوپالی نے چودہ برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کیا اور سترہ سال کی عمر میں پہلی بار مشاعرے میں شرکت کی۔ شعری تربیت انھیں رضا رام پوری سے حاصل ہوئی۔ بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں، تاہم دیگر اصنافِ سخن میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ خوش الحانی اور مؤثر ترنم ان کی پہچان ہے۔
تین دہائیوں سے زائد پر محیط شعری سفر میں انہوں نے اردو اور ہندی میں درجن سے زیادہ کتابیں تصنیف کیں، جن میں یہ صدی ہماری ہے، زندگی، لہورنگ موسم، لاوا، منظر اک بلندی پر اور اداس کیوں ہو قابلِ ذکر ہیں۔ وہ دنیا کے پانچ براعظموں اور دو درجن سے زائد ممالک میں ہزاروں مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔ 1987ء میں کراچی کے پہلے بین الاقوامی مشاعرے میں شرکت کے بعد امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پاکستان، سعودی عرب، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور انگلینڈ سمیت متعدد ممالک کے ادبی اسفار کیے۔
ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک و بیرونِ ملک کئی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں لوئس ول (امریکہ) کی اعزازی شہریت اور 2018ء میں حکومتِ مدھیہ پردیش کا “پرائیڈ آف مدھیہ پردیش” ایوارڈ شامل ہے۔ منظرؔ بھوپالی آج بھی عالمی سطح پر اردو مشاعروں کی ایک معتبر، مقبول اور توانا آواز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔
’’ندا کے تخیّل کا یہ کرشمہ ہے کہ وہ ایک ہی مصرع میں مختلف حواس سے مستعار اتنے سارے شعری پیکر جمع کر لیتے ہیں کہ ہمارے تمام حواس جاگ اٹھتے ہیں۔ مصرع وہ بجلی کا تار بن جاتا ہے جس کی برقی رو ہم اپنی رگوں میں دوڑتی محسوس کرتے ہیں۔ یہ تاثؔر اور تاثیر نہیں تو شاعری راکھ کا ڈھیر ہے۔‘‘
وارث علوی
ندا فاضلی اردو اور ہندی کے اک ایسے ادیب،شاعر،نغمہ نگار،مکالمہ نویس اور صحافی تھے جنھوں نے اردو شاعری کو اک ایسا لب و لہجہ اور اسلوب دیا جس کو اردو ادب کی اشرافیہ نے ان سے پہلے قابل اعتناء نہیں سمجھا تھا۔ان کی شاعری میں اردو کا اک نیا شعری محاورہ وجود میں آیا جس نے نئی نسل کو متوجہ اور متاثر کیا۔ ان کے اظہار میں سنتوں کی بانی جیسی سادگی،اک قلندرانہ شان اور لوک گیتوں جیسی مٹھاس ہے۔ان کے مخاطب عام لوگ تھے لہٰذا انھوں نے ان کی ہی زبان میں گفتگو کرتے ہوے لطیف اور غیر جارحانہ طنز کے ذریعہ دل میں اتر جانے والی باتیں کیں ۔انھوں نے امیر خسرو،میر،رحیم اور نظیر اکبرابادی کی بھولی بسری شعری روایت سے دوبارہ رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتے ہوے نہ صرف اس روایت کی بازیافت کی بلکہ اس میں عصر حاضر کی لسانی ذہانت جوڑ کر اردو کے نثری ادب میں بھی نئے امکانات کی نشاندہی کی۔وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں لیکن ان کے نثری اسلوب نے بھی اپنی الگ راہ بنا لی۔وارث علوی کے بقول ندا ان چند خوش قسمت لوگوں میں ہیں جن کی شاعری اور نثر دونوں لوگوں کو رجھا گئے۔ اپنی شاعری کے بارے میں ندا کا کہنا تھا "میری شاعری نہ صرف ادب اور اس کے قارئین کے رشتے کو ضروری مانتی ہے بلکہ اس کے معاشرتی سیاق کو اپنا معیار بھی بناتی ہے۔میری شاعری بند کمروں سے باہر نکل کر چلتی پھرتی زندگی کا ساتھ نبھاتی ہے۔اُن حلقوں میں جانے سے بھی نہیں ہچکچاتی جہاں روشنی بھی مشکل سے پہنچ پاتی ہے۔ میں اپنی زبان تلاش کرنے ،سڑکون پر،گلیوں میں ، جہاں شریف لوگ جانے سے کتراتے ہیں،وہاں جا کر اپنی زبان لیتا ہوں۔ جیسے میر،کبیر،اور رحیم کی زبانیں۔میری زبان نہ چہرہ پر داڑھی بڑھاتی ہے اور نہ پیشانی پر تلک لگاتی ہے"۔ ندا کی شاعری ہمیشہ نظریاتی ہٹ دھرمی اور ادعائیت سے پاک رہی۔انھوں نے علامتوں کے ذریعہ ایسی پیکر تراشی کی کہ سامع یا قاری کو اسے سمجھنے کے لئے کوئی ذہنی ورزش نہیں کرنی پڑتی۔ ان کے شعری کردار اودھم مچاتے ہوئے شریر بچّے،اپنے راستہ پر گزرتی ہوئی کوئی سانولی سی لڑکی،روتا ہوا کوئی بچہ،گھر میں کام کرنے والی بائی جیسے لوگ ہیں ۔ندا کے یہاں ماں کا کردار بہت اہم ہے جسے وہ کبھی نہیں بھول پاتے۔۔"بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹّی چٹنی جیسی ماں۔۔۔ یاد آتی ہے چوکا باسن،چمٹا، پھکنی جیسی ماں"۔
ندا فاضلی 12 اکتوبر 1938ء کو دہلی میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام مقتدیٰ حسن تھا ۔ان کے والد مرتضیٰ حسن شاعر تھے اور دعا ڈبائیوی تخلص کرتے تھے۔اور ریاست گوالیار کے محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔گھر میں شعر و شاعری کا چرچا تھا جس نے ندا کے اندر کمسنی سے ہی شعر گوئی کا شوق پیدا کر دیا۔ ان کی ابتدائی تعلیم گوالیار میں ہوئی اور انھوں نے وکرم یونیورسٹی اُجین سے اردو اور ہندی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔ملک کی تقسیم کے بعد مہاجرین کی آمد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب ان کے والد کو گوالیار چھوڑنا پڑا اور وہ بھوپال آ گئے۔اس کے بعد انھوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کیا۔ندا گھر سے بھاگ نکلے اور پاکستان نہیں گئے۔گھر والوں سے بچھڑ جانے کے بعد ندا نے اپنی جد و جہد تنہا جاری رکھی۔اور اپنے وقت کو مطالعہ اور شاعری میں صَرف کیا۔شاعری کی مشق کرتے ہوئے انھیں احساس ہوا کہ اردو کے شعری سرمایہ میں ایک چیز کی کمی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح کی شاعری سننے سنانے میں تو لطف دیتی ہے لیکن انفرادی جذبون کا ساتھ نہیں دے پاتی۔اس احساس میں اس وقت شدت پیدا ہو گئی جب ان کے کالج کی ایک لڑکی مس ٹنڈن کا،جس سے انھیں جذباتی لگاؤ ہو گیا تھا اک حادثہ میں انتقال ہو گیا۔ ندا کو اس کا بہت صدمہ ہوا لیکن ان کو اپنے دکھ کے اظہار کے لئے اردو کے سرمایۂ ادب میں ایک بھی شعر نہیں مل سکا۔اپنی اس خلش کا جواب ندا کو اک مندر کے پجاری کی زبانی سور داس کے اک گیت میں ملا جس میں کرشن کے ہجر کی ماری رادھا باغ کو مخاطب کر کے کہتی ہے کہ تو ہرا بھرا کس طرح ہے کرشن کی جدائی میں جل کیوں نہیں گیا۔ یہیں سے ندا نے اپنا نیا ڈکشن وضع کرنا شروع کیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے کچھ دنوں تک دہلی اور دوسرے مقامات پر ملازمت کی تلاش میں ٹھوکریں کھائیں اور پھر 1964 میں بمبئی چلے گئے۔ بمبئی میں شروع میں انھیں خاصی جدو جہد کرنی پڑی۔انھوں نے دھرم یگ اور بلٹز جیسے رسالوں اور اخبارات میں کام کیا۔اس کے ساتھ ہی ادبی حلقوں میں بھی ان کی پہچان بنتی گئی۔وہ اپنے پہلے مجموعۂ کلام "لفظوں کا پُل " کی بیشتر نظمیں،غزلیں اور گیت بمبئی آنے سے پہلے لکھ چکے تھے اور ان کی نئی آواز نے لوگوں کو انکی طرف متوجہ کر دیا تھا۔یہ کتاب 1971ء میں منظر عام پر آئی اور ہاتوں ہاتھ لی گئی۔وہ مشاعروں کے بھی مقبول شاعر بن گئے تھے۔فلمی دنیا سے ان کا تعلق اس وقت شروع ہوا جب کمال امروہی نے اپنی فلم رضیہ سلطان کے لئے ان سے دو گیت لکھواے۔اس کے بعد ان کو بطور نغمہ نگار اور مکالمہ نویس مختلف فلموں میں کام ملنے لگا اور ان کی فاقہ مستی دور ہو گئی۔بہرحال وہ فلموں میں ساحر ،مجروح ، گلزار یا اختر الایمان جیسی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ لیکن بطور شاعر اور نثر نگار انھوں نے ادب پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔لفظوں کا پل کے بعد ان کے کلام کے کئی مجموعے،مور ناچ،آنکھ اور خواب کے درمیان،شہر تو میرے ساتھ چل،زندگی کی طرف ،شہر میں گاؤں اور کھویا ہوا سا کچھ شائع ہوے۔ان کی نثری تحریروں میں دو سوانحی ناول "دیواروں کے بیچ" اور "دیواروں کے باہر "کے علاوہ مشہور شعراء کے خاکے "ؐ ملاقاتیں " شامل ہیں۔ندا فاضلی کی شادی ان کی تنگدستی کے زمانہ میں عشرت نام کی اک ٹیچر سے ہوئی تھی لیکن نباہ نہیں ہو سکا ۔پھر مالتی جوشی ان کی رفیقۂ حیات بنیں۔ندا کو ان کی کتاب "کھویا ہوا سا کچھ" پر 1998 میں ساہتیہ اکیڈمی اوارڈ دیا گیا۔2013 میں حکومت ہند نے انھیں "پدم شری" کے اعزاز سے نوازا۔فلم "سُر" کے لئے ان کو اسکرین اوارڈ ملا۔اس کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈمیوں نے انھیں انعامات دئے۔ان کی شاعری کے تراجم مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں کئے جا چکے ہیں 8 فروری 2016 کو دل کا دورہ پڑنے کے بعد ان کا انتقال ہوا۔
ندا کی شاعری میں کبیر کے فلسفۂ حیات کی وہ اقدار نمایاں ہیں جو مذہبیت کے مروجہ فلسفے سے زیادہ بلند و برتر ہے اور جن کا جوہر انسانی درد مندی میں ہے۔ندا ساری دنیا کو ایک کنبے اور اور سرحدوں سے آزاد اک آفاقی حیثیت کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ان کے نزدیک ساری کائنات اک خاندان ہے۔۔چاند،ستارے،درخت،ندیاں،پرندے،اور انسان سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں لیکن یہ رشتے اب ٹوٹ رہے ہیں اور اقدار رو بہ زوال ہیں۔ان کاماننا تھا کہ ایسے میں آج کے ادیب و شاعر کا فرض ہے کہ وہ ان رشتوں کو پھر سے جوڑنے اور بچے ہوئے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کرے۔ان کے مطابق رشتوں کی بازیافت،باہمی ربط اور فرد کو اس کی شناخت عطا کرنے کا کام اب ادیب و شاعر کے ذمہ ہے۔