کتب خانہ: تعارف
صولت پبلک لائبریری، رام پور کا قیام 1934ء کو شہر کے ممتاز عوامی رہنما اور علم دوست صولت علی خان نے اس مقصد سے کیا کہ ریاستی دور میں رضا لائبریری سے عام لوگوں کو استفادے کی سہولت حاصل نہیں تھی، اس لیے ایک ایسی عوامی لائبریری قائم کی جائے جہاں ہر طبقۂ فکر کے افراد مطالعہ اور تحقیق سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ابتدا میں اس ادارے کا نام "کتب خانۂ عام" تھا اور یہ محلہ راج دوارہ میں افسر علی کی کوٹھی میں قائم کیا گیا۔ بعد ازاں 19 مارچ 1935ء کو ایک عوامی اجلاس کی منظوری سے اس کا نام "صولت پبلک لائبریری" رکھا گیا۔ نواب رضا علی خان نے اس ادارے کی سرپرستی کرتے ہوئے جامع مسجد رام پور کے قریب حضور تحصیل کی بالائی عمارت لائبریری کے لیے وقف کی، جہاں یہ آج بھی قائم ہے۔
صولت پبلک لائبریری میں اس وقت 80 ہزار سے زائد مطبوعہ کتابیں اور 555 نادر عربی و فارسی مخطوطات محفوظ ہیں۔ یہاں اردو، فارسی، عربی، ہندی اور انگریزی زبانوں میں ادب، تاریخ، مذہب، فلسفہ، سماجی علوم اور دیگر موضوعات کا وقیع ذخیرہ موجود ہے۔ یہ لائبریری صرف ایک کتب خانہ نہیں بلکہ رام پور کی علمی، ادبی، ثقافتی اور فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بھی ہے، جہاں مشاعرے، ادبی نشستیں، سیمینار، کتابی نمائشیں اور دیگر علمی تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں۔
صولت پبلک لائبریری نے اپنے گراں قدر ذخیرۂ کتب کو ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی متعدد نادر کتابیں اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر دستیاب ہیں، جہاں دنیا بھر کے قارئین، طلبہ اور محققین اس علمی و ادبی سرمایہ سے آن لائن استفادہ کر سکتے ہیں۔