وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

مجروح سلطانپوری

وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

مجروح سلطانپوری

MORE BYمجروح سلطانپوری

    دلچسپ معلومات

    یہ گیت 1963 میں آئی فلم 'اکیلی مت جائیو' میں استمعال کیا گیا تھا، جسے سر مدن موہن نے دیا .

    وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

    آج یوں ملتے ہیں جیسے کبھی پہچان نہ تھی

    وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

    دیکھتے بھی ہیں تو یوں میری نگاہوں میں کبھی

    اجنبی جیسے ملا کرتے ہیں راہوں میں کبھی

    اس قدر ان کی نظر ہم سے تو انجان نہ تھی

    وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

    ایک دن تھا کبھی یوں ہی جو مچل جاتے تھے

    کھیلتے تھے مری زلفوں سے بہل جاتے تھے

    وہ پریشاں تھے مری زلف پریشان نہ تھی

    وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

    وہ محبت وہ شرارت مجھے یاد آتی ہے

    دل میں اک پیار کا طوفان اٹھا جاتی ہے

    تھی مگر ایسی تو الجھن میں مری جان نہ تھی

    وہ جو ملتے تھے کبھی ہم سے دوانوں کی طرح

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Majrooh Sultanpuri (Pg. 272)
    • Author : Majrooh sultanpri
    • مطبع : Alhamd Publications

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے