دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

ندا فاضلی

دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

ندا فاضلی

MORE BYندا فاضلی

    دریا ہو یا پہاڑ ہو ٹکرانا چاہئے

    جب تک نہ سانس ٹوٹے جیے جانا چاہئے

    یوں تو قدم قدم پہ ہے دیوار سامنے

    کوئی نہ ہو تو خود سے الجھ جانا چاہئے

    جھکتی ہوئی نظر ہو کہ سمٹا ہوا بدن

    ہر رس بھری گھٹا کو برس جانا چاہئے

    چوراہے باغ بلڈنگیں سب شہر تو نہیں

    کچھ ایسے ویسے لوگوں سے یارانا چاہئے

    اپنی تلاش اپنی نظر اپنا تجربہ

    رستہ ہو چاہے صاف بھٹک جانا چاہئے

    چپ چپ مکان راستے گم سم نڈھال وقت

    اس شہر کے لیے کوئی دیوانا چاہئے

    بجلی کا قمقمہ نہ ہو کالا دھواں تو ہو

    یہ بھی اگر نہیں ہو تو بجھ جانا چاہئے

    مأخذ :
    • کتاب : Sheher Men Gaon (Pg. 109)
    • Author : Shahid Mahili
    • مطبع : Miaar Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY