عجز خاکساری کیوں فخر کج کلاہی کیا

سلیم کوثر

عجز خاکساری کیوں فخر کج کلاہی کیا

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    عجز خاکساری کیوں فخر کج کلاہی کیا

    جب محبتیں کی ہیں پھر کوئی گواہی کیا

    ہم رتوں کے مجرم ہیں ہر ہوا کی نظروں میں

    تیری پارسائی کیا میری بے گناہی کیا

    تم تو آنکھ والے تھے عکس مل گیا ہوگا

    میں سدا کا بے چہرہ میرا آئینہ ہی کیا

    وصل کا کوئی لمحہ رائیگاں نہیں لیکن

    جو الگ نہ کرتا ہو ایسا راستہ ہی کیا

    شب گزیدہ لوگوں کو نیند سے الجھنا ہے

    رات کی مسافت میں رزم صبح گاہی کیا

    جانے کب بگڑ جائیں جانے کب سنور جائیں

    دست کوزہ گر میں ہیں اپنا آسرا ہی کیا

    تم سلیمؔ شاعر ہو شہرتوں پہ مت جاؤ

    مسند فقیری پہ خبط بادشاہی کیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY