آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

جاں نثاراختر

آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

جاں نثاراختر

MORE BY جاں نثاراختر

    آئے کیا کیا یاد نظر جب پڑتی ان دالانوں پر

    اس کا کاغذ چپکا دینا گھر کے روشن دانوں پر

    آج بھی جیسے شانے پر تم ہاتھ مرے رکھ دیتی ہو

    چلتے چلتے رک جاتا ہوں ساری کی دوکانوں پر

    برکھا کی تو بات ہی چھوڑو چنچل ہے پروائی بھی

    جانے کس کا سبز دوپٹا پھینک گئی ہے دھانوں پر

    شہر کے تپتے فٹ پاتھوں پر گاؤں کے موسم ساتھ چلیں

    بوڑھے برگد ہاتھ سا رکھ دیں میرے جلتے شانوں پر

    سستے داموں لے تو آتے لیکن دل تھا بھر آیا

    جانے کس کا نام کھدا تھا پیتل کے گل دانوں پر

    اس کا کیا من بھید بتاؤں اس کا کیا انداز کہوں

    بات بھی میری سننا چاہے ہاتھ بھی رکھے کانوں پر

    اور بھی سینہ کسنے لگتا اور کمر بل کھا جاتی

    جب بھی اس کے پاؤں پھسلنے لگتے تھے ڈھلوانوں پر

    شعر تو ان پر لکھے لیکن اوروں سے منسوب کئے

    ان کو کیا کیا غصہ آیا نظموں کے عنوانوں پر

    یارو اپنے عشق کے قصے یوں بھی کم مشہور نہیں

    کل تو شاید ناول لکھے جائیں ان رومانوں پر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites