آگ لے جائے کہیں یا پانی لے جائے مجھے
آگ لے جائے کہیں یا پانی لے جائے مجھے
میں بہت مشکل میں ہوں آسانی لے جائے مجھے
پھول مجھ پر کھول دے خوشبو کا در دوران وصل
روح تک اس جسم کی عریانی لے جائے مجھے
دو نقوش جاوداں ابھریں کسی تصویر سے
اولیں لے جائے اس کو ثانی لے جائے مجھے
دیکھتا ہوں ہر کسی تمثیل کو تفصیل میں
چاہتا ہوں آنکھ کی حیرانی لے جائے مجھے
دور ہوں آبادیوں شہزادیوں کے شہر سے
پاس ہوں ویرانے کے ویرانی لے جائے مجھے
میرے بعد اس تخت کا حق دار میرا گھر نہیں
یاد رکھنا جب مری سلطانی لے جائے مجھے
یہ بھی ممکن ہے بچا لے مجھ کو آزرؔ زندگی
یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نادانی لے جائے مجھے
- کتاب : سورج مکھی کا پھول (Pg. 97)
- Author : دلاور علی آزر
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2022)
- اشاعت : 2nd
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.