Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

وحشت کلکتوی

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

وحشت کلکتوی

MORE BYوحشت کلکتوی

    آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

    طور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

    پایہ بہت کیا بلند اس نے حریم ناز کا

    تا نا پہنچ سکے غبار رہ گزر‌ نیاز کا

    خستگیٔ کلیم نے نکتہ عجب سمجھا دیا

    ورنہ حریف میں بھی تھا اس مژۂ دراز کا

    دیر ملا تھا راہ میں کعبے کو ہم نکل گئے

    جذبۂ شوق میں دماغ کس کو ہو امتیاز کا

    بندگی اور صاحبی اصل میں دونوں ایک ہیں

    جس کا غلام ایاز ہے وہ ہے غلام ایاز کا

    گو تہی نصیب نے دور رکھا تو کیا ہوا

    بندۂ خانہ زاد ہوں اس کے قد دراز کا

    شوق ترا ہے موجزن ذوق ترا بہانہ جو

    کھول نہ دیں بھرم کہیں پرد گیان راز کا

    مستیٔ بے خودی سے یاں آنکھ کھلی نہ حشر تک

    یعنی یہی جواب تھا نرگس نیم باز کا

    آہ و فغاں کے ساتھ ساتھ چھا گئی ایک بے خودی

    قطع زباں ضرور تھا شمع زباں دراز کا

    خاک میں مل گئے ولے آنکھ اٹھی نہ شرم سے

    ہم سے ہوا نہ حق ادا اس کی نگاہ ناز کا

    مطرب خلد کیا سنائے وحشت خستہ کیا سنے

    معتقد قدیم ہے زمزمہ حجاز کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے