آئینہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں ہوں
آئینہ مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں ہوں
ورنہ تو مجھے بھول ہی جاتا ہے کہ میں ہوں
وہ ہونے نہ ہونے کا تذبذب ہے کہ ہر شخص
بے وجہ پکارے چلا جاتا ہے کہ میں ہوں
میں نیند میں جا جا کے بھلاتا ہوں اسے اور
وہ خواب میں آ آ کے بتاتا ہے کہ میں ہوں
میں جب بھی مصیبت میں پکاروں کہ کوئی ہے
آوازہ سا افلاک سے آتا ہے کہ میں ہوں
جھگڑا تو یقیں آنے نا آنے کا ہے ساگرؔ
ورنہ مجھے خود بھی نظر آتا ہے کہ میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.