آنکھ ڈالے نہ فلک سے مہ تاباں منہ پر
آنکھ ڈالے نہ فلک سے مہ تاباں منہ پر
رکھ لو پھولوں کے عوض زلف کا داماں منہ پر
ناز سے آپ جو چن لیں کہیں افشاں منہ پر
صاف روشن نظر آ جائیں چراغاں منہ پر
آج گیسو نہیں لہراتے ہیں اے جاں منہ پر
تم نے بٹھلائے ہیں یہ افعیٔ پیچاں منہ پر
پیٹھ پیچھے مرے حق میں تو ہیں کڑوے کلمے
میٹھی باتیں نہ کرو اے شہ خوباں منہ پر
دست جاناں کی ادائیں جو کرے دست جنوں
نوچ کر پھینک دے دامان و گریباں منہ پر
سایۂ زلف نہیں یار رخ روشن پر
صبح راحت کی ہے شام غم ہجراں منہ پر
ذکر جو آپ کے پیچھے ہے وہی آگے ہے
جھوٹ کہتے نہیں ہرگز کبھی انساں منہ پر
غائبانہ جو کوئی بے ادبی ہو مجھ سے
کیجئے گا نہ بیاں اس کا مری جاں منہ پر
سچ نہ سمجھو اسے جو تم کو کوئی جھوٹ کہے
خاک پڑتی نہیں مہتاب کے اے جاں منہ پر
سچ نا سمجھو اسے جو تم کو کوئی جھوٹ کہے
خاک پڑتی نہیں مہتاب کے اے جاں منہ پر
گنج سے مار کی ہوتی ہے ہمیشہ الفت
کیا ہوا آ گئی گر زلف پریشاں منہ پر
آبرو میری بڑھے غیر ہوں پانی پانی
آب خنجر جو پڑے اے دل ناداں منہ پر
سرخ روئی کی تمنا میں ہمیشہ قاتل
تیغ ملتی ہے تری خون شہیداں منہ پر
بوسۂ روئے منور کی ہوس بے جا ہے
مار بیٹھیں نہ کہیں گیسوئے پیچاں منہ پر
سحر وصل کا کچھ کیجیے مجھ سے وعدہ
ہے اداسی کی طرح شام غریباں منہ پر
سرخ رو گردن بسمل کی طرح ہو جاؤں
دے کوئی زخم اگر خنجر براں منہ پر
کیوں نہ ہو جنبش ابرو میں اجل عاشق کی
مہ جبیں رکھتی ہیں شمشیر کو عریاں منہ پر
چشم پیدا تو کرے جوش اثر نیساں کا
ہم بھی لے لیں گے کبھی گوہر غلطاں منہ پر
ہوں وہ بلبل میں شگفتہؔ چمن عالم میں
منہ کی کھائے جو چڑھے مرغ غزل خواں منہ پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.