آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

بشیر بدر

MORE BY بشیر بدر

    آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا

    کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا

    بے وقت اگر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے

    اک عمر ہوئی دن میں کبھی گھر نہیں دیکھا

    جس دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے

    آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا

    یہ پھول مجھے کوئی وراثت میں ملے ہیں

    تم نے مرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا

    یاروں کی محبت کا یقیں کر لیا میں نے

    پھولوں میں چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا

    محبوب کا گھر ہو کہ بزرگوں کی زمینیں

    جو چھوڑ دیا پھر اسے مڑ کر نہیں دیکھا

    خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں

    وہ ہاتھ کہ جس نے کوئی زیور نہیں دیکھا

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا

    میں موم ہوں اس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    Urdu Studio

    Urdu Studio

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY